عسکری لحاظ سے کمزور مگر وسائل سے مالا مال ملک میں ہر چند برسوں کے بعد ہنگاموں کا موسم ضرور آتا ہے۔
ہنگاموں کےلیے کھاد اور بیج بیرون ملک سے درآمد کئے جاتے ہیں۔ بہترین اور حسب منشا فصل کےلیے تخریب کاری کے ماہرین بیرون ملک سے بلوائے جاتے ہیں جو خدمات کے ساتھ ساتھ اس کام کا معاوضہ لینے کے بجائے اپنے پلے سے سرمایہ کاری بھی کرتے ہیں۔ روزمرہ کے فسادات کےلیے ملک دشمن عناصر کی خدمات ڈالروں کے عوض مستعار لی جاتی ہیں اور جب تک ڈالروں کی رسد بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہتی ہے ملک میں ہنگاموں اور فسادات کی فصلیں پھلتی پھولتی رہتی ہیں۔
یہ فارمولا کئی ممالک میں دہرایا گیا ہے جس میں ہمارا پیارا ملک بھی شامل ہے۔ آج کل یہ فارمولا حسب منشا نتائج کےلیے ایران میں استعمال کیا جارہا ہے۔
وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا اور وقت سے بڑا استاد کوئی نہیں۔ اگر ہم وقت کے پہیے کو پیچھے کی جانب 1970 کی دہائی میں لے جائیں تو یہی فسادات تھے مگر اس وقت یہ ہنگامے محمد رضا شاہ پہلوی کے خلاف تھے، جو 1941 سے حکمران تھے اور خطے میں امریکا کے سب سے بڑے حامی اور حلیف تھے۔ وہ امریکا اور برطانیہ کا ہر حکم مانتے تھے مگر عوام میں عدم مقبولیت، معاشی مسائل، اور سیاسی جبر کے باعث گر گئے اور اسلامی انقلاب کامیاب ہوگیا۔ اسلامی انقلاب نے بادشاہت کا خاتمہ کرکے آیت اللہ خمینی کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ قائم کیا تھا۔
یہ انقلاب بھی جدید ایرانی تاریخ کا پہلا انقلاب نہیں تھا۔ 1953 کا انقلاب 28 مردار کودتا (بغاوت) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ انقلاب 19 اگست 1953 کو منتخب وزیراعظم محمد مصدق کے خلاف امریکا اور برطانیہ کے اکسانے پر ایرانی فوج کی قیادت میں کیا گیا تھا تاکہ محمد رضا شاہ پہلوی کی بادشاہت کو مضبوط کیا جاسکے۔ اس کا ایک اہم مقصد ایران میں برطانوی تیل کے مفادات کا تحفظ کرنا تھا۔ اس کودتا میں امریکی مدد کو آپریشن ایجکس اور برطانوی مدد کو آپریشن بوٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
ہم اگر اس سے بھی پیچھے احمد شاہ قاجار تک گئے کہ جو قاجار خاندان کے آخری حکمران تھے اور جن کی حکومت کا خاتمہ ایک فوجی بغاوت کے ذریعے 1921 میں الٹا گیا تھا اور 1925 میں رضا خان نے پہلوی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ اگر بات یہاں تک چلی گئی تو رضا خان پہلوی یا محمد رضا شاہ پہلوی عسکری تو رہیں گے لیکن شاہی یا رائلٹی نہیں رہے گی۔
ہم دوبارہ اسلامی انقلاب کی طرف آتے ہیں۔ اسلامی انقلاب سے پہلے آیت اللہ خمینی کئی سال جلاوطنی میں رہے۔ انھوں نے سب سے زیادہ وقت عراق کے شہر نجف میں گزارا جہاں سے وہ شاہ ایران کی حکومت کے خلاف جدوجہد کی قیادت کررہے تھے۔ انھیں جب 1978 میں عراق نے ملک بدر کردیا تو فرانس چلے گئے اور پھر وہاں سے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کرنے لگے اور دنیا میں مشہور ہوئے۔
11 فروری 1979 کو شاہ ایران ملک چھوڑ کر بھاگ گئے اور ایران میں آیت اللہ خمینی کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ قائم ہوئی۔ ان کا پیدائشی نام روح اللہ موسوی خمینی ہے۔ ان کی پیدائش ایران کے شہر خمین میں ہوئی۔ وہ چالیس سے زائد کتابوں کے مصنف تھے۔ شاہ ایران کے سفید انقلاب کی مخالفت میں انھیں جلاوطن کردیا گیا تھا۔ یکم اپریل 1979 کو باقاعدہ اسلامی جمہوریہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ انقلاب کے بعد خمینی ملک کے پہلے رہبر معظم بن گئے جو اسلامی جمہوریہ کے آئین میں سب سے اعلیٰ سیاسی اور مذہبی اختیار کے طور پر تخلیق کیا گیا ایک عہدہ تھا، جو انھوں نے اپنی وفات 3 جون 1989 تک سنبھالا۔
ہرچند کے ان کا اقتدار کا زیادہ تر عرصہ 1988-1980 ایران عراق جنگ میں گزرا۔ 1989 میں خمینی اپنے بین الاقوامی سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے ٹائم رسالے کے ’’سال کے آدمی‘‘ تھے۔ ان کے انتقال کے بعد 4 جون 1989 کو آیت اللہ خامنہ ای نے عہدہ سنبھالا۔ اس پوری روداد میں آپ کو مغربی دنیا کی ایران میں مداخلت اور ایران کو مضبوط نہ ہونے دینے کی مذموم سازش صاف نظر آرہی ہوگی جس کو آج کل پھر دہرایا جارہا ہے۔
اس دفعہ ہنگامے خامنہ ای اور اسلامی انقلاب کے حامیوں کی مخالفت میں ہورہے ہیں۔ پس پردہ کردار وہی، جو کل شاہ کے خلاف اور اسلامی انقلاب کے حامیوں کے ساتھ تھے۔ آج وہ شاہ کے بیٹے کو سامنے رکھ کر ہنگامے کررہے ہیں۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ شاہ کا بیٹا یہ سب جانتے ہوئے بھی کہ اس کے والد کو انھوں نے ہی ہٹوایا تھا، ان ہی کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بنا ہوا ہے۔ شاید اس کو اقتدار کا نشہ کہتے ہیں۔ اگر آپ یہ جاننا اور سمجھنا چاہتے ہیں کہ دونوں میں سے عوام کے ساتھ مخلص کون ہے؟ تو اس کا جواب ہے کوئی نہیں اور دونوں صرف اپنا اقتدار چاہتے ہیں۔
کمزور ممالک میں کوئی بھی حکومت مغربی ممالک کی آشیرباد کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی۔ ہر دور میں جھگڑا قیمت پر ہوتا ہے۔ جب موجودہ حکومت مغربی دنیا کی من چاہی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں ہوتی تو اگلے تمام ممکنہ امیدواروں سے مول تول کا آغاز ہوجاتا ہے اور سب سے زیادہ قیمت کا وعدہ کرنے والے کے حق میں ہنگامے شروع کردیے جاتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ بات یقینی ہے کہ اسی امیدوار کو حکومت ملے گی۔ آخری وقت تک خرید و فروخت چلتی رہتی ہے اور ہمیشہ کی طرح ملک اور عوام کے عظیم تر مفاد میں مغربی دنیا کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچانے والے کو حکومت سونپ دی جاتی ہے اور اس کو بین الاقوامی سیاست یا بین الاقوامی تعلقات کہا جاتا یے۔ ہم بھی اپنے خطے میں سراج الدولہ اور میر جعفر کی مسابقت سے لے کر آج تک یہی دیکھتے آئے ہیں۔
اس وقت ایران میں ہنگامے تیس سے زائد صوبوں تک پہنچ گئے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد سیکڑوں میں ہے۔ ملک میں اس وقت انٹرنیٹ اور ٹیلیفون کی سہولیات منقطع کردی گئی ہیں اور پروازوں کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔ حکومت یہ سب اس لیے کررہی ہے کیونکہ اسے خود نہیں پتہ امریکی اور اسرائیلی خفیہ ایجنٹوں کی رسائی کہاں تک ہے؟ سہولیات کی بندش اس لیے کی گئی ہے کہ ان اقدامات کے ذریعے ایجنٹوں کی مواصلات اور رابطوں کو توڑا جاسکے۔ ایران اسلامی انقلاب کے بعد اپنے بدترین بحران سے گزر رہا ہے اور یہ ہمارے بالکل پڑوس میں ہورہا ہے اور یقیناً اس کے اثرات ہم تک بھی آئیں گے۔ اب آپ یقیناً سمجھ گئے ہوں گے کہ ایران میں ہنگامے ہوئے ہیں یا کروائے جارہے ہیں۔
ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ اصل جنگ امریکا اور چین کے درمیان ہے۔ چین وینزویلا کے تیل کا بڑا بلکہ سب سے بڑا خریدار تھا، بالکل اسی طرح چین ایرانی تیل کا بھی بڑا خریدار ہے۔ اب اگر ایران میں امریکا کی من چاہی حکومت آگئی تو چین کےلیے تیل کے حصول میں مسائل پیدا ہوجائیں گے اور امریکا اس طریقے سے چین کی ترقی کی رفتار کو روکنا یا کم کرنا چاہتا ہے۔ اگلے مرحلے میں یا تو چین کے گرد مزید گھیرا تنگ کیا جائے گا یا پھر چین کو پیش قدمی کرکے امریکا کو کہیں مصروف کرنا ہوگا تاکہ وہ اپنے ترقی کےلیے تیل کی رسد کا انتظام جاری رکھ سکے۔
دنیا میں کوئی جنگ مقامی نہیں رہتی جلد یا بدیر عالمی جنگ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ دنیا بہت تیزی سے تیسری عالمی جنگ کی جانب بڑھ رہی ہے۔ آئن اسٹائن کا مشہور قول ہے کہ ’’مجھے معلوم نہیں کہ تیسری جنگ عظیم کس سے لڑی جائے گی، لیکن چوتھی جنگ عظیم لاٹھیوں اور پتھروں سے لڑی جائے گی‘‘۔ جس کا مطلب ہے کہ ایٹمی جنگ کے بعد دنیا تباہ ہوجائے گی اور انسانوں کو ابتدائی دور کی طرح پتھروں سے لڑنا پڑے گا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جنگ کے نتائج انتہائی تباہ کن ہوں گے اور یہ کہ جنگ کا خاتمہ انسانیت کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہوگا۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ سب کو اس سے محفوظ رکھیں۔ آمین۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔