ٹانک میں بکتر بندگاڑی پر ریموٹ کنٹرول بم حملے میں ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار شہید جب کہ بنوں، اورکزئی میں امن لشکر کے2 افراد شہید ہوئے جب کہ 5دہشت گرد ما رے گئے۔ پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔
دہشت گردی کی لہر نے ہماری قومی سلامتی، داخلی استحکام اور معاشرتی ہم آہنگی کو شدید خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔ یہ محض چند واقعات یا الگ تھلگ حملے نہیں بلکہ ایک منظم، سوچے سمجھے اور بیرونی سرپرستی میں چلنے والی جنگ ہے جس کا ہدف پاکستان کو کمزور کرنا، اس کے اداروں پر عوام کا اعتماد متزلزل کرنا اور قوم کو مایوسی، خوف اور انتشار میں مبتلا کرنا ہے۔
اس حقیقت سے آنکھیں چرانا اب ممکن نہیں رہا کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے پیچھے افغانستان اور بھارت کی سازشیں اور مکروہ عزائم کارفرما ہیں، جنھیں مختلف طریقوں اور چالاک حکمت عملیوں اور پاکستان میں موجود سہولت کاروں کے ذریعے عملی شکل دی جا رہی ہے۔ افغانستان، جو دہائیوں تک پاکستان کی میزبانی، تعاون اور قربانیوں کا گواہ رہا، آج بھارت کا دوست بن کر پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔ افغان سرزمین کا استعمال پاکستان دشمن عناصر کے لیے ہونا ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے۔
بارہا شواہد سامنے آ چکے ہیں کہ دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانے، تربیتی مراکز اور منصوبہ بندی کے مراکز افغانستان میں موجود ہیں، جہاں سے پاکستان میں خونریزی کے منصوبے بنائے جاتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف دو ممالک کے تعلقات پر سوالیہ نشان ہے بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بھی ہے۔
مقامی سہولت کاروں کا کردار بھی نہایت تشویشناک ہے۔ یہ سہولت کار نہ صرف دہشت گردوں کو پناہ، معلومات اور وسائل فراہم کرتے ہیں بلکہ ان کے نظریات کو پھیلانے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ خیبر پختو نخوا حکومت پر بھی یہ الزام لگ رہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے یا کم ازکم ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی سے گریزاں ہے، اگر یہ تاثر درست ہے تو یہ نہایت خطرناک صورتحال ہے، کیونکہ ریاستی سطح پر کسی بھی قسم کی نرمی یا ابہام دہشت گردوں کے حوصلے بلند کرتا ہے۔
افغانستان کا دہشت گردوں کی آماجگاہ بن جانا محض ایک الزام نہیں بلکہ زمینی حقائق اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ سرحد پار سے ہونے والی دراندازی، جدید اسلحے کی فراہمی، مالی معاونت اور رابطہ کاری کے شواہد اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی خود رو یا داخلی مسئلہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ پراکسی وار کا حصہ ہے۔ بھارت بھی اس پراکسی جنگ کا اہم کردار ہے، جو افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتا ہے۔
بھارت کی یہ پالیسی نئی نہیں، بلکہ قیام پاکستان کے دن اول سے اس کی کوشش رہی ہے کہ پاکستان کو اندرونی خلفشار میں مبتلا رکھا جائے۔ 2022 کے بعد پاکستان میں تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صرف 2025 میں 600 سے زائد پاکستانی فوج اور پولیس کے اہلکاروں نے دہشت گردوں کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوشکیا، جن میں زیادہ تر شہادتیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوئیں جو افغانستان سے متصل ہیں۔ کالعدم ٹی ٹی پی اور بلوچ عسکریت پسند گروہ جنھیں شواہد کے مطابق بھارت اور افغانستان کی حمایت حاصل ہے، وہ پاکستان کی سلامتی کے خلاف برسرپیکار ہیں۔
پاکستان نے مخلصانہ طور پر افغانستان سے مذاکرات کیے لیکن مقام افسوس کہ مذاکرات کے دوران ہی افغان طالبان کی طرف سے پراکسی وار اور اسلام آباد کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی مبینہ دھمکیاں دی گئی تھیں۔ برادر مسلم اسلامی ممالک ترکیہ اور قطر کے تعاون سے ہونے والے ان مذاکرات سے قبل گزشتہ برس اکتوبر میں ایک طرف افغان حکومت پاکستان سے مذاکرات کا ڈول ڈال رہی تھی تو دوسری طرف افغان وزیر خارجہ امیر متقی بھارت کا ایک ایسے وقت میں دورہ کر رہے تھے جب افغانستان سے دہشت گرد پاکستان میں کارروائیاں کرتے رہے ۔ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے۔
کہتے ہیں کہ ’’دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے‘‘ ظاہر ہے کہ پاک افغان کشیدگی کے دوران افغان حکومت کو بھارت کی طرف سے جو شہ ملی اور جس فوجی و مالی تعاون کی کابل حکومت کو بھارت نے یقین دہانی کروائی اس کا اثر مذاکرات کے ان تینوں ادوار پر پڑا۔ حقائق صاف بتا رہے ہیں کہ بھارت پاکستان سے انتقام لینے کی آگ میں جل رہا ہے اور ابھی وہ پاکستان پر براہ راست حملہ تو نہیں کر سکتا، لیکن وہ اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے افغانستان کو استعمال کرنے کی سازش کر رہا ہے۔
اس ماحول میں کابل کے حکمرانوں سے مزید مذاکرات کرنا اور ان کے کامیاب ہونے کی زیادہ امید رکھنا بے سود ہو گا۔ کابل کے حکمران پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کررہے ہیں، اس کے پیچھے بھارت کا گٹھ جوڑ شامل ہے، جس کا جواب دینے کی پاکستان کے پاس پوری قوت موجود ہے۔ بھارت اور افغانستان کے حکمرانوں کو عقل کے ناخن لینے ہوں گے اور سمجھنا پڑے گا کہ انتقام اور غصے میں عقل کام نہیں کرتی ہے۔
درحقیقت افغانستان کو پوری دنیا جانتی ہے کہ وہاں کی حکومتیں ماضی اور حال میں کتنی قابل اعتبار رہی ہیں یا اپنی پوری تاریخ میں افغانستان کے حکمرانوں نے کس قدر دانش مندانہ فیصلے کیے ہیں؟ کسی بھی ملک سے تسلیم کیے جانے کی بجائے، دنیا بھر میں مسلسل نظر انداز ہونے والی یہ افغانستان رجیم نا صرف ہمسایہ ممالک کے لیے، بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بہت بڑا درد سر ہے، جب کہ پاکستان نہ صرف بھارت سمیت دنیا بھر میں سفارتی تعلقات رکھتا ہے، بلکہ دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی اکلوتی ’’ایٹمی پاور‘‘ بھی ہے، جس کی افواج دنیا میں اپنا لوہا بھی منوا چکی ہیں۔ اتنے صبر اور سفارتی و مصالحتی کوششوں میں ناکامی کے بعد اب جب کہ پاکستان کا صبر جواب دے چکا ہے اور دوست ممالک کی مصالحتی ٹیمیں بھی طالبان کی ہٹ دھرمی کی گواہ ہیں۔
دوسری جانب بلوچستان میں بھارت کی مداخلت اور تخریبی کارروائیاں اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورکس، مقامی ایجنٹوں کی بھرتی، علیحدگی پسند عناصر کی سرپرستی اور دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے ناقابل تردید ثبوت دنیا کے سامنے آ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو جیسے کردار اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ بھارت کس طرح پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے منظم انداز میں کام کر رہا ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کا مقصد صرف جان و مال کا نقصان نہیں بلکہ اس صوبے کو ترقی سے روکنا، پاک چین اقتصادی راہداری جیسے اہم منصوبوں کو سبوتاژ کرنا اور پاکستان کی معیشت کو کمزور کرنا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی اورحکومت کا کردار کلیدی ہے۔ واضح پالیسی، دو ٹوک موقف اور بلا امتیاز کارروائی کے بغیر اس ناسور کا خاتمہ ممکن نہیں۔ سیاسی مصلحتیں، ووٹ بینک کی سیاست اور وقتی فائدے کے لیے دہشت گرد عناصر یا ان کے ہمدردوں سے نرمی برتنا قومی مفاد کے برعکس ہے۔ دہشت گردی چاہے کسی بھی نام، نعرے یا نظریے کے تحت ہو، وہ دہشت گردی ہی ہے اور اس کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔قوم کا کردار بھی اس جنگ میں انتہائی اہم ہے۔
جب تک عوام دہشت گردی کو مکمل طور پر مسترد نہیں کرتے، اس کے نظریاتی بیانیے کو چیلنج نہیں کرتے اور اپنے اردگرد موجود مشکوک عناصر پر نظر نہیں رکھتے، اس وقت تک کامیابی ممکن نہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دہشت گرد صرف بم یا بندوق سے نہیں مارتے بلکہ وہ ذہنوں کو بھی آلودہ کرتے ہیں۔ نفرت، تعصب، عدم برداشت اور تشدد کی سوچ کو فروغ دے کر وہ معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کرتے ہیں۔ ان نظریات کے خلاف فکری، تعلیمی اور سماجی سطح پر بھرپور جدوجہد ناگزیر ہے۔خارجہ محاذ پر بھی پاکستان کو مزید متحرک اور جارحانہ سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ افغانستان اور بھارت کی جانب سے ہونے والی مداخلت اور دہشت گردی کے شواہد کو عالمی برادری کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کیا جانا چاہیے۔
محض بیانات کافی نہیں، بلکہ ٹھوس اقدامات، عالمی فورمز پر آواز بلند کرنا اور دوست ممالک کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ پاکستان ایک ذمے دار ریاست ہے اور اس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناقابل فراموش قربانیاں دی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا بھی اس حقیقت کو تسلیم کرے اور پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرے۔ یہ جنگ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ ریاست، حکومت، ادارے اور عوام ایک صف میں کھڑے ہوں۔ دہشت گردی کے خلاف کوئی ابہام، کوئی نرمی اور کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
دشمن چاہے سرحد کے اُس پار ہو یا ہمارے درمیان چھپا بیٹھا ہو، اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ یہی ہماری بقا، ہماری خود مختاری اور ہماری آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے، اگر ہم نے اس موقع پر درست فیصلے کر لیے تو تاریخ ہمیں ایک زندہ، باوقار اور مضبوط قوم کے طور پر یاد رکھے گی، ورنہ پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔