حکمرانوں کے بقول حکمرانی کا نظام بہتری کی طرف گامزن ہے ۔ ان کے بقول نہ صرف داخلی بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر بھی ہمیں نہ صرف بڑی کامیابیاں ملی ہیں بلکہ ان کی ہر سطح پر پزیرائی کی جارہی ہے ۔اسی بنیاد پر حکمران طبقہ کے بقول نیا برس 2026قومی سیاست اور معیشت کے لیے نئے مثبت امکانات کو پیدا کرے گا اور یہ برس پچھلے برس2025سے عملا مختلف بھی ہوگا اور بہتر بھی ہوگا۔
حکمرانوں کا یہ بیانیہ اپنی جگہ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جو بھی حکومت ہوتی ہے، یہ اس کی مجبوری یا مصلحت ہوتی ہے کہ وہ یہ ہی کہے کہ ہم اچھے کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔اس لیے اگر آج کی حکومت بھی ہمیں یعنی عوام کو یہ بتاتی ہے کہ معیشت ترقی کررہی ہے تو یہ کوئی انہونی یا نئی بات نہیں ہے۔لیکن اگر ہم مجموعی طور پر عوام کے حالات اور روزگار کے مواقع کی طرف دیکھیں تو یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ حکومت کو معاشی میدان میں تاحال پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے۔
اگرچہ ہمیں سیاسی پنڈتوں کی اپنی اپنی بانسریاں سنائی دے رہی ہیں، کوئی کسی ونڈر بوائے کی تلاش میں ہے اور تو کوئی کہتا ہے کہ کسی ونڈر بوائے کی تلاش نہیں ہورہی ہے اور موجودہ سیاسی بندوبست ج باہمی اتفاق رائے سے خوش اسلوبی کے ساتھ چل رہا ہے، اسے کسی داخلی بحران کا سامنا نہیں ۔
اس خیال کے حاملین کے بقول حکمران سیاسی قیادت اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان تعلقات بھی مثالی ہیں اور دونوں ایک دوسرے کی ضرورتوں سے جڑے نظر آتے ہیں ۔بلکہ بعض پنڈتوں کے بقول وزیر اعظم شہباز شریف ہی اس وقت اسٹیبلیشمنٹ کے ونڈر بوائے ہیں اور ان کی موجودگی میں کسی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ۔ویسے بھی حکمران طبقہ نے اپنے ہاتھ سیاسی اور قانونی بنیادوں پر اتنے مضبوط کرلیے ہیں کہ ان کو اپنے سیاسی اور قانونی مخالفین سے کوئی بڑا خطرہ نہیں اور نہ ہی ان کے مخالفین اس حالت میں ہیں کہ وہ موجودہ حکومت کے خلاف کوئی بڑی تحریک پیدا کرسکیں ۔
اسی طرح اس حکومت کا سب سے مثبت پہلو یہ ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی یا بانی پی ٹی آئی اور اسٹیبلیشمنٹ دو مخالف سمت میں کھڑے ہیں اور ان کے درمیا ن ٹکراو ہی بنیادی طور پر اس حکومت کی بڑی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے ۔اسی بنیاد پر پی ٹی آئی اور اسٹیبلیشمنٹ کا ٹکراو حکومت کے حق میں جاتا ہے ۔لیکن ونڈر بوائے کی تلاش والا گروہ یا طبقہ بضد ہے کہ نہیں کچھ نہ کچھ ہورہا ہے، دال میں کالا ہے۔ تحریک انصاف والے اس پر خوش اس لیے ہیں کہ چلو موجودہ سیٹ میں اختلاف کی باتیں تو سننے کو مل رہی ہیں۔ایسے صاحبان فرماتے ہیں کہ بعض اوقات حکومت ،حکمران یا طاقت ور طبقے کو خطرہ باہر سے کم اور خود اپنے اندر یعنی حکومت کی اپنی کمز وریوں یا ان کی اختیار کی جانے والی سیاسی یا غیر سیاسی حکمت عملیوں سے زیادہ ہوتا ہے ۔
حکمران بظاہر خوش نظر آتے ہیں لیکن اسی خوشی کے درمیان ان میں موجود سیاسی بے چینی یا سیاسی ہیجانی یا غیر یقینی کیفیت زیادہ بالادست نظر آتی ہے ۔ان کو محسوس ہوتا ہے کہ اس سب اچھے کے کھیل میں کچھ کردار ایسے ہیں جو ہمارے خلاف سازشوں کا کھیل کھیلنے کی کوشش یا حکومت کو غیر مستحکم کرکے اپنے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں۔حکومت کے ذہن میں یہ بات پریشانی پیدا کرتی ہے کہ یہ لوگ کون ہیں جو کبھی ونڈر بوائے ،کبھی قومی حکومت یا کبھی وزیر اعظم کی تبدیلی یا حکومت خطرے میں ہے کی چہ مگوئیاں کررہے ہیں یا معیشت کی بہتری کے لیے وزیر اعظم کو آخری موقع کی خبروں کو بڑی خبروں کی زینت بناکر حکومت مخالفین کو خوشی کے لمحات فراہم کررہے ہیں۔
یہ باتیں محض حکومت کے سیاسی مخالفین تک ہی محدود نہیں بلکہ بااثر صحافیوں کا ایک طبقہ بھی ایسی خبروں اور تجزیوں کو بنیاد بنا کر پیش بھی کرتا ہے اور نئی مہم جوئی کی خبریں بھی دیتا ہے۔ عمومی طور پر اس طرز کی خبریں سامنے لانا خود یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ خبریں سامنے والے اور خبریں دینے والے کیا چاہتے ہیں۔وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ طاقت کے مراکز میں مختلف نوعیت کی سیاسی کچھڑی پک رہی ہے یا موجودہ حالات کے بارے میں مختلف نوعیت کو بنیاد بنا کر نئے آپشن پر رنگ بھرے جارہے ہیں یا ان خبروں کی بنیاد پر سیاسی ٹمپریچر کو جانچنا بھی ہوتا ہے ۔ اس لیے عوام اور خواص دونوں میں یہ ابہام پیدا کرنے کا جتن ہورہا ہے کہ جہاں یہ ساری باتیں غلط ہیں، وہیں ان میں کسی نہ کسی سطح پر کچھ سچائی کے پہلو بھی ہوتے ہیں۔
ہمیں خود توکسی بڑی حکومتی تبدیلی کے امکانات محدود نظر آتے ہیں کیونکہ فی الحال اس نظام کو چلانے کا کوئی متبادل آپشن نہیں اور اگر کسی بھی سطح پر ایسی مہم جوئی یا ایڈونچر سوچا بھی جارہا ہے تو وہ بھی بہتری کی صورت میں کوئی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے گا۔لیکن 2026کے آغاز سے قبل ہمیں یہ بڑا اعتراف ہر سطح پر کرنا ہوگا کہ پاکستان کو سیاسی ، معاشی اور سیکیورٹی کے تناظر میں کئی چیلنجز کا سامنا ضرور ہے ۔حکومت نے جو بھی سیاسی اور معاشی حکمت عملی 2024-25میں ترتیب دی تھی یا جس کی بنیاد پر توقعات وابستہ کی گئی تھیں، وہ پوری تو ہوئی ہیں لیکن شاید پوری طرح پوری نہیں ہوئی ہیں۔ ۔اسی بنیاد پر کچھ لوگ یہ تاثر پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں کہ نہ تو سیاسی نظام چل رہا ہے اور نہ ہی معیشت کی گاڑی اپنی مطلوبہ رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے ۔
ادھر کراس بارڈر دہشت گردی یا بھارت اور افغان پاکستان مخالف پراکسی جنگ نے ہماری مشکلات میں اور زیادہ اضافہ کردیا ہے۔تیسر طرف آئی ایم ایف کی بڑھتی ہوئی شرائط اور سخت فیصلوں کی بڑی قیمت بھی مجموعی سطح پر معیشت میں ایک بڑے بوجھ کے طور پر سامنے آرہی ہے۔ حکومتی معاشی ٹیم بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے۔ یہ معاشی حقایق عوام کی مالی مشکلات میں اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔
اصل‘ سوال یہ ہے کہ کیا ہم 2026میں جو سیاسی ٹکراؤ ،تناویا معیشت سے جڑے معاملات دیکھ رہے ہیں، اس میں کوئی نمایاں کمی دیکھنے کو مل سکے گی؟بظاہر تو ایسے لگتا ہے جیسے ہم سب سیاسی یا غیر سیاسی فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف سیاسی لنگوٹ کس لیا ہے اور کسی قسم کی مفاہمت یاایک دوسرے کی قبولیت کے خلاف ہیں ۔ایسے میں مفاہمت کی باتیں محض دیوانے کا خواب لگتی ہیں ۔مسئلہ محض سیاست یا کسی ایک جماعت تک محدود نہیں بلکہ مجموعی سیاسی حالات ہمیں آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے کی طرف دکھیل رہے ہیں ۔
ایسے میں یہ سلسلہ کب تک چل سکے گا اور اس کی کیا فریقین کو کیا قمیت ادا کرنا پڑے گی ،اس کا بھی کوئی موثر جواب بھی کسی کے پاس نہیں ہے ۔سب اپنی اپنی کہانیاں تو ضرور سنارہے ہیں لیکن ان حالات کی خرابی سے کیسے باہر نکلا جائے ، اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے ۔ یہ حالات واقعی غیر معمولی ہیں اور اس کا ادراک جہاں ہر سطح پر کھلے دل کے ساتھ ہونا چاہیے وہیں یہ اعتراف بھی ضروری ہے کہ حالات کی درستگی کے لیے ہمیں کڑوی گولیاں بھی کھانی ہوگی اور بہتری کا عمل غیر معمولی اور سخت گیر اقدامات جو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرکے ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔