بدلتے زمانے اور بکھرتی قدریں

تجربہ وہ چراغ ہے جس کا کوئی نعم البدل آج تک ایجاد نہیں ہو سکا۔


اطہر قادر حسن January 14, 2026

تہذیبوں کا تصادم بدلتی ہوئی دنیا میں کوئی نیا المیہ نہیں بلکہ یہ انسانی تاریخ کی ایک مستقل حقیقت ہے۔ وقت کے ساتھ حالات بدلتے ہیں اور حالات کے ساتھ انسانی ترجیحات، اقدار اور طرزِ زندگی بھی تبدیلی کا تقاضا کرتے ہیں۔ یہی تبدیلیاں کبھی ضرورت بن کر قبول کی جاتی ہیں اور کبھی بغاوت سمجھ کر رد کر دی جاتی ہیں۔ ہر دور میں ایسا ہوا ہے کہ ایک نسل نے ان تبدیلیوں کو سینے سے لگایا جب کہ دوسری نسل نے انھیں اپنی روایات کے خلاف سمجھ کر مزاحمت کی۔

یہ تاریخ انسانی کا وہ مستقل باب ہے جو ہر دور میں نئے عنوان کے ساتھ دہرایا جاتا رہا ہے۔ وقت اپنی رفتار سے چلتا رہتا ہے مگر انسان اس رفتار کے ساتھ قدم ملا پائے یا نہیں، یہی اصل امتحان ہوتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہر تبدیلی کو سب کے لیے یکساں قبول کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ کوئی اسے زندگی کی ناگزیر ضرورت سمجھ کر اپنا لیتا ہے تو کوئی اسے اقدار پر حملہ تصور کر کے رد کر دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نسلوں کے درمیان فاصلہ پیدا ہوتا ہے اور یہی فاصلہ آگے چل کر جنریشن گیپ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

پرانی نسل ہمیشہ اپنے بزرگوں کی دی ہوئی وراثت جس میں رسم و رواج، اقدار، اصول اور اخلاقی ضابطے شامل ہوتے ہیں، ان کو سینے سے لگائے رکھتی ہے۔ ان کے نزدیک یہ محض روایت نہیں بلکہ ایک امانت ہوتی ہے جسے اگلی نسل تک منتقل کرنا ان کا فرض ہوتا ہے۔ دوسری طرف نئی نسل اپنی آنکھیں مستقبل پر جمائے رکھتی ہے جہاں سہولت، تیزی اور ذاتی آسائش اولین ترجیح بن چکی ہے۔ اس کشمکش میں نہ پرانی نسل پوری طرح اپنی بات سمجھا پاتی ہے نہ نئی نسل سننے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ نتیجتاً مکالمہ ختم ہو جاتا ہے اور خاموشی بولنے لگتی ہے۔ نئی نسل اپنے عہد کے تقاضوں کے مطابق جینے کی خواہاں ہوتی ہے۔

اس کشمکش میں اکثر دونوں نسلیں ایک دوسرے کو سمجھنے کے بجائے ایک دوسرے سے دور ہوتی چلی جاتی ہیں۔ آج اس تقسیم کو نت نئے نام دیئے جا رہے ہیں،کہیں جنریشن ایکس، کہیں وائے، کہیں زی اور اب آنے والی نسل کو الفا کہا جا رہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ ناموں کا نہیں، سوچوں کے ٹکراؤ کا ہے۔ انسان فطری طور پر اسی عہد کو سچ مانتا ہے جس میں اس نے آنکھ کھولی ہوتی ہے۔ اس کے لیے وہی دور بہترین، وہی اقدار مقدس اور وہی طریق زندگی قابل تقلید ہوتے ہیں۔ وہ یہ سوچنے پر آمادہ ہی نہیں ہوتا کہ وقت کے ساتھ سوچ کا بدلنا بھی شاید ایک فطری عمل ہے۔ تاہم یہ بات بھی بارہا ثابت ہو چکی ہے کہ بزرگوں کی دانائی محض ضد نہیں ہوتی، اس کے پیچھے برسوں کا تجربہ، ناکامیوں کی راکھ اور کامیابیوں کی روشنی چھپی ہوتی ہے۔ تجربہ وہ چراغ ہے جس کا کوئی نعم البدل آج تک ایجاد نہیں ہو سکا۔

میری نسل وہ ہے جس نے وقت کو کروٹ بدلتے دیکھا۔ ہم نے لالٹین کی مدھم روشنی میں کتابوں سے رشتہ جوڑا، ٹاٹ پر بیٹھ کر گاؤں کے اسکولوں میں علم حاصل کیا، پیدل سفر کو معمول اور سائیکل کو عیاشی سمجھا۔ تانگے اور گھوڑے فخر کی سواری سمجھے جاتے تھے، کنوؤں کے ٹھنڈے پانی سے پیاس بجھائی، مٹی کے کھلونوں سے کھیل کر خوشی ڈھونڈی، یہ کھلونے ہمارے بچپن کی کل کائنات تھے جنھیں ٹوٹ جانے پر بھی ہم دل سے نہیں پھینکتے تھے۔ گاؤں کی بیٹھکوں میں بزرگوں کی محفلوں کے ایک کونے میں دبک کر ان کی دانائی سے فیض یاب ہوئے۔ گاؤں کی بیٹھکیں ہماری پہلی درسگاہ تھیں۔

بزرگوں کی محفلوں میں خاموش بیٹھ کر ان کے تجربات سننا ہمیں بولنے سے زیادہ سکھاتا تھا۔ چولہے کے گرد بیٹھ کر سردیوں کی راتیں کاٹنا، آگ کی آنچ پر ہاتھ سینکنا اور دھوئیں کے مرغولوں میں خواب دیکھنا، یہ سب ہماری زندگی کا حصہ تھا۔ ہمارا فاسٹ فوڈ وہ آلو تھا جو چولہے کے انگاروں میں دب کر پک جاتا اور عیاشی کی انتہا یہ کہ سردیوں میں والدہ مرحومہ آٹے، دودھ اور گڑ سے سوہن حلوہ یا سویاں بنا کر رکھ دیتیں۔

انھیں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹ کر مرتبان میں محفوظ کیا جاتا اور ہم بچوں کے لیے کسی خزانے سے کم نہ ہوتا کہ نظر بچا کر ایک ٹکڑا نکال لیا جائے۔ مہمانوں کی تواضع ابلے ہوئے انڈوں سے ہوتی اور اگر کوئی خاص مہمان آ جاتا تو گھر کی مرغی ذبح کر لی جاتی۔ گندم گھر میں وافر ہوتی، گائے یا بھینس دودھ اور دیسی گھی کا ذریعہ تھی، کھیتوں کی سبزیاں دسترخوان کو سادگی میں بھی شاہانہ بنا دیتی تھیں۔ بازار سے صرف چائے اور چند ضروری اشیاء خریدی جاتیں۔ مہمان بوجھ نہیں بلکہ رحمت سمجھے جاتے تھے۔

غربت تھی مگر دل کشادہ اور امیر تھے، شاید اسی لیے سکون بھی تھا۔ سب کچھ سادہ مگر برکت سے بھرپور تھا۔ پھر وقت نے پلٹا کھایا۔ سہولتیں آئیں، رفتار بڑھی، زندگی آسان تو ہوئی مگر شاید خالی بھی ہو گئی۔ سائیکل کی جگہ موٹر سائیکل اور گاڑیوں نے لے لی، چولہوں کی جگہ ہیٹر اور ایئرکنڈیشنر آ گئے، کشادہ کمروں اور ہوادار چھتوں کی جگہ بند ماحول نے لے لی، بازار کھانوں کی دکانوں سے بھر گئے مگر گھروں کی رونقیں ماند پڑ گئیں۔ جیبیں بھر گئیں مگر برکت کہیں کھو گئی۔ مہمان اب چند لمحوں کے مسافر رہ گئے۔ہم وہ خوش نصیب یا شاید بدقسمت نسل ہیں جس نے انتہائی تنگ دستی بھی دیکھی اور آسودگی بھی۔ اسی لیے ہم ایک بڑے جنریشن گیپ کا شکار ہو گئے ہیں۔ ہمارے لیے بزرگوں کی چھوڑی ہوئی وراثت آج بھی متبرک ہے جب کہ نئی نسل کے لیے آسائش، سہولت اور فوری فائدہ اولین ترجیح بن چکا ہے۔

وہ زمینیں جن کے لیے بزرگوں نے جانوں کی قربانیاں دیں، آج محض کمرشل پلاٹ بن کر فروخت کی جا رہی ہیں تاکہ حال کو مزید آرام دہ بنایا جا سکے۔ اسی تجربے نے ہمیں ایک عجیب دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ رشتے سرمایہ کاری بن گئے ہیں اور احساس نفع ونقصان میں تولے جانے لگے ہیں۔ اس سے زیادہ دردناک منظر کیا ہو سکتا ہے کہ والدین جنھوں نے اپنی پوری زندگی اولاد کے نام کر دی، وہ بڑھاپے میں تنہا رہ جائیں۔ خدمت بوجھ لگنے لگے مگر جیسے ہی وہ دنیا سے رخصت ہوں، وراثت پر جھگڑے شروع ہو جائیں۔

والدین کی آنکھیں جو اولاد کی راہ تکتے تکتے پتھرا گئیں، ان کی قیمت چند گز زمین ٹھہری۔ شاید یہی جنریشن گیپ کا سب سے تلخ پہلو ہے، یہی جنریشن گیپ کی اصل تصویر ہے۔ آج کی نسل کے لیے ’آج‘ہی سب کچھ ہے، ماضی سے کوئی رشتہ، نہ مستقبل کی فکر، اقدار، روایات اور بزرگوں کی دانائی محض فرسودہ کہانیاں بن کر رہ گئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہم نے ماضی سے سبق نہ سیکھا تو کیا ہمارا مستقبل واقعی محفوظ ہو سکے گا؟ جہاں آج سب کچھ ہے، ماضی کچھ بھی نہیں اور مستقبل محض ایک غیرواضح سایہ نظر آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہم نے ماضی سے رشتہ توڑ لیا تو کیا آنے والی نسل ہمیں معاف کر پائے گی یا ہم بھی کل اسی فہرست میں شامل ہوں گے جسے وقت بے رحم انداز میں فراموش کر دیتا ہے؟

مقبول خبریں