ٹرمپ کی جارحانہ حکمت عملی، نئے خطرات

ایران کے خلاف امریکی دباؤ محض عسکری سطح تک محدود نہیں بلکہ معاشی محاذ پر بھی شدت اختیار کر چکا ہے۔


ایڈیٹوریل January 15, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری مظاہروں کے تناظر میں ایرانی عوام سے احتجاج جاری رکھنے اور ریاستی اداروں پر دباؤ بڑھانے کی اپیل کی ہے، ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا کہ مدد راستے میں ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف لگایا جائے گا، وائٹ ہاؤس کی طرف سے اگلے روز ایک بیان جاری ہوا جس میں کہا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کے حصول کے حوالے سے ’’متعدد آپشنز‘‘ پر غور کر رہے ہیں جس میں فوج کا استعمال بھی شامل ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات، اقدامات اور دھمکیوں نے عالمی سیاست کو ایک بار پھر شدید بے یقینی، خوف اور اضطراب کے ماحول میں دھکیل دیا ہے۔

دنیا ابھی یوکرین کی جنگ، مشرقِ وسطیٰ کے عدم استحکام، عالمی معیشت کی سست روی اور توانائی کے بحران کے اثرات سے پوری طرح نکل بھی نہیں پائی تھی کہ واشنگٹن سے آنے والے بیانات و صدر ٹرمپ کے جارحانہ اقدامات نے ایک نئے عالمی طوفان کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔ اب جو منظر نامہ ابھر رہا ہے وہ محض انتخابی بیانات یا سفارتی دباؤ تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں براہِ راست فوجی کارروائی، ریاستی خود مختاری کی نفی، عالمی قوانین سے انکار اور معاشی ہتھیاروں کے بے دریغ استعمال کی جھلک نمایاں ہو چکی ہے۔

ایران میں جاری مظاہروں کے تناظر میں ٹرمپ کی جانب سے ایرانی عوام کو احتجاج جاری رکھنے کی کھلی اپیل اور یہ دعویٰ کہ ’’مدد راستے میں ہے‘‘، دراصل کسی خفیہ یا اعلانیہ مداخلت کا عندیہ ہے۔ اس کے ساتھ امریکی شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایات اور یہ دھمکی کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کے خلاف تشدد جاری رکھا تو امریکا فضائی حملوں سمیت انتہائی سخت آپشنز استعمال کر سکتا ہے، خطے کو براہِ راست جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کرتا ہے۔

ممکنہ اہداف کی فہرست، جس میں فوجی تنصیبات، پاسدارانِ انقلاب کے مراکز، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز اور اعلیٰ قیادت شامل بتائی جا رہی ہے، یہ ظاہر کرتی ہے کہ بات محض علامتی کارروائی کی نہیں بلکہ ریاستی ڈھانچے کو مفلوج کرنے کی حکمتِ عملی زیرِ غور ہے۔ قطر کی جانب سے خبردار کیا جانا کہ کسی بھی فوجی تصادم کے خطے پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے، اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک بھی چنگاری پورے خطے کو آگ میں جھونک سکتی ہے۔

ایران کے خلاف امریکی دباؤ محض عسکری سطح تک محدود نہیں بلکہ معاشی محاذ پر بھی شدت اختیار کر چکا ہے۔ ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ چین، جو ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور جس نے 2024 میں ایران کے 77 فیصد تیل کی خریداری کی، کھل کر جوابی کارروائی کی دھمکی دے چکا ہے۔ دو بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان یہ تجارتی کشیدگی صرف واشنگٹن اور بیجنگ تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔

برینٹ کروڈ کی قیمت کا 66 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جانا، امریکی تیل کی قیمتوں میں اضافہ، یورپ میں گیس کی قیمتوں کا چند دنوں میں 14 فیصد بڑھ جانا، یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ عالمی معیشت کس قدر نازک توازن پر کھڑی ہے۔توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا اثر براہِ راست ترقی پذیر ممالک پر پڑتا ہے جہاں پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ عوام کو نچوڑ چکا ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا بلکہ خوراک، ٹرانسپورٹ، صنعت اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو بھی اوپر لے جاتا ہے۔

اس طرح ٹرمپ کی ایران پالیسی کا خمیازہ وہ ممالک بھی بھگت رہے ہیں، جن کا اس تنازع سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔اسی دوران وینزویلا کے معاملے میں ٹرمپ کے اقدامات نے عالمی سیاست میں ایک نئی مثال قائم کردی ہے۔ ایک خود مختار ملک میں فوجی آپریشن، اس کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری اور پھر یہ اعلان کہ وینزویلا کی عبوری انتظامیہ 30 سے 50 ملین بیرل تیل امریکا کو منتقل کرے گی اور اس سے حاصل ہونے والی رقم صدر ٹرمپ کے کنٹرول میں رہے گی۔ بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کے تصور پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ یہ محض توانائی کی فراہمی کا معاملہ نہیں بلکہ طاقت کے ذریعے وسائل پر قبضے کی کھلی مثال ہے۔ اس سے یہ تاثر مزید گہرا ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے نزدیک طاقت ہی واحد اصول ہے اور اخلاقیات، قوانین یا عالمی ضابطے ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔

وینز ویلا کے تیل کو امریکی توانائی تحفظ کے نام پر اپنے کنٹرول میں لینے کی منطق دراصل اس وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہے جس کے تحت امریکا دنیا کے مختلف حصوں میں براہِ راست یا بالواسطہ کنٹرول قائم کرنا چاہتا ہے۔ اسی تناظر میں گرین لینڈ کے حصول کے حوالے سے فوجی آپشنز پر غور کا بیان بھی سامنے آیا ہے۔ نیٹو کے رکن ملک ڈنمارک کے نیم خود مختار علاقے کو قومی سلامتی کی ترجیح قرار دینا اور یورپی رہنماؤں کی مخالفت کے باوجود اس پر اصرار کرنا، اس بات کی علامت ہے کہ امریکا اب اتحادیوں کی رائے کو بھی خاطر میں لانے کے لیے تیار نہیں۔

دلچسپ اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ماضی میں امریکی طاقت کے اس قدر جارحانہ مظاہرے پر روس کی جانب سے فوری اور سخت ردعمل آتا تھا، مگر اب صورت حال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ وینزویلا میں امریکی کارروائی، روسی پرچم والے تیل بردار جہاز پر قبضہ، گرین لینڈ سے متعلق دھمکیاں، ان سب پر ماسکو کی خاموشی حیران کن ہے۔ یہ خاموشی کسی کمزوری کا اظہار ہو یا کسی بڑی حکمتِ عملی کا حصہ، اس نے عالمی توازن کو مزید غیر واضح بنا دیا ہے۔ روس کی یہ ہچکچاہٹ شاید یوکرین پر جاری مذاکرات کو متاثر نہ کرنے کی خواہش کا نتیجہ ہو، مگر اس سے یہ پیغام بھی جاتا ہے کہ عالمی طاقتیں اب کھلے تصادم سے گریز کرتے ہوئے اپنے اپنے مفادات کے لیے وقتی خاموشی اختیار کر رہی ہیں۔

ٹرمپ کی اپنی زبان میں دنیا کے تمام ممالک پر امریکی فوجی کارروائی کا اختیار اور بین الاقوامی قانون سے انکار دراصل عالمی نظام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ جب دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کا سربراہ یہ کہتا ہے کہ اس پر کسی عالمی قانون کی پابندی نہیں اور صرف اس کی اپنی اخلاقیات ہی واحد حد ہیں، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ اخلاقیات کیا ہیں اورکون ان کی نگرانی کرے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت جب خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگے تو اس کے نتائج تباہ کن ہوتے ہیں۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگیں بھی اسی ذہنیت کا شاخسانہ تھیں کہ طاقتور ریاستیں اپنے مفادات کے لیے کسی ضابطے کو ماننے کو تیار نہ تھیں۔تجارتی جنگوں، فوجی دھمکیوں اور براہِ راست مداخلتوں کا یہ مجموعہ عالمی استحکام کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

چین کے ساتھ تجارتی کشیدگی اگر شدت اختیار کرتی ہے تو عالمی سپلائی چین مزید متاثر ہوگی، مہنگائی بڑھے گی اور ترقی کی رفتار سست ہو جائے گی۔ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کا مطلب صرف ایک ملک پر حملہ نہیں ہوگا بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام، ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز کی بندش، تیل کی فراہمی میں رکاوٹ اور ایک وسیع تر جنگ کا خدشہ ہوگا۔ اس کے اثرات یورپ، ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا تک محسوس کیے جائیں گے۔

وینزویلا کی مثال یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ اب محض حکومتوں کی تبدیلی ہی نہیں بلکہ وسائل پر براہِ راست کنٹرول بھی امریکی پالیسی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ اگر یہ روایت قائم ہو گئی تو کل کسی اور ملک کے تیل، گیس، معدنیات یا جغرافیائی محلِ وقوع کو بھی ’’ قومی سلامتی‘‘ کے نام پر ہدف بنایا جا سکتا ہے۔ اس سے چھوٹے اور کمزور ممالک کے لیے خود مختاری محض ایک کاغذی تصور بن کر رہ جائے گی۔

یہ تمام اقدامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ عالمی نظام ایک نازک موڑ پرکھڑا ہے۔ اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی قوانین اور کثیر الجہتی سفارت کاری کی افادیت اس وقت شدید سوالات کی زد میں ہے، اگر بڑی طاقتیں کھلے عام ان اداروں اور قوانین کو نظرانداز کریں گی تو پھر دنیا کو طاقتور اور کمزور کی ایک نئی، زیادہ خطرناک تقسیم کا سامنا ہوگا۔ اس تقسیم میں کمزور ممالک کے لیے انصاف، امن اور ترقی کے راستے مزید تنگ ہو جائیں گے۔

 یہ سب محض دور دراز خطوں کے سیاسی واقعات نہیں بلکہ ان کے اثرات ہماری معیشت، ہماری سلامتی اور ہماری روزمرہ زندگی تک پہنچتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی منڈیوں میں بے یقینی، خطوں میں جنگ کا خطرہ، یہ سب ہماری اپنی ریاستوں کے لیے بھی چیلنجز پیدا کرتے ہیں۔ اس لیے عالمی طاقتوں کا اس جارحانہ سیاست پر خاموش تماشائی بنے رہنا دانشمندی نہیں۔

دنیا کو اس وقت طاقت کے نشے میں دھت فیصلوں کے بجائے سنجیدہ مکالمے، سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی ضرورت ہے۔ اگر ٹرمپ کی پالیسیوں کا یہی رخ برقرار رہا تو یہ خدشہ بے بنیاد نہیں کہ آنے والے برس دنیا کو ایک ایسے دور میں داخل کر دیں گے جہاں جنگ، معاشی بحران اور سیاسی انتشار معمول بن جائے گا۔

مقبول خبریں