سیاسی اقدامات، وقت کی ضرورت

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بلوچستان کی روایتی فورس لیویز کے خاتمے اور لیویز کے عملے کو پولیس فورس میں شامل کرنے کے فیصلے کو تاریخی فیصلہ قرار دیا ہے۔



بلوچستان میں اس صدی میں شروع ہونے والا بحران کسی صورت ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔ گزشتہ سال سے کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں جانے کے لیے زمینی راستے اور ریل کا نظام بار بار معطل ہوتا ہے۔ ہر روز قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہیں۔ کبھی گوادر کے ماہی گیر اپنے آبائی پیشہ بحیرئہ عرب میں ماہی گیری کے حق کے لیے مرکزی شاہراہ پر ہفتوں احتجاج کرتے ہیں۔

بلوچستان کے شہری اپنے لاپتہ ہونے والے عزیزوں کی بازیابی کے لیے سڑکوں پر دھرنے دیتے ہیں۔ اسی طرح جیلوں میں نظربند رہنماؤں کی رہائی کے لیے صوبہ کے مختلف علاقوں میں احتجاجی جلوس نظر آتے ہیں۔ کبھی سیاسی کارکن لاپتہ ہوتے ہیں اور ان کی لاشیں ملنے پر ان کے لواحقین سڑکوں پر آہ و زاری کرتے نظر آتے ہیں۔ اب مکران ضلع کے کیچ کے علاقے میں تاجروں کے اغواء کی لہر آئی ہوئی ہے۔ نامعلوم افراد کیچ کے تین تاجروں کو دن دھاڑے اغواء کر کے لے گئے۔ ان تاجروں کی رہائی کے لیے کروڑوں روپے بطور تاوان طلب کیے جا رہے ہیں۔ پولیس ان تاجروں کی بازیابی میں ناکام ہوگئی ہے۔

کیچ کی تمام سیاسی جماعتوں نے اغواء برائے تاوان کے خاتمے کے لیے احتجاجی تحریک شروع کی ہے۔ مکران کے دوسرے بڑے شہر تربت سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق گزشتہ دسمبر کے مہینے میں 2 افراد کو تاوان کی غرض سے اغواء کیا گیا جن کی رہائی کے بدلے متاثرہ خاندانوں سے کروڑوں روپے مانگے گئے۔ متاثرہ خاندانوں نے ریاستی اداروں سے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے فوری کارروائی کی استدعا کی تھی مگر وقت گزرنے کے باوجود کچھ نہیں ہوسکا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ یکم دسمبر کو سابق ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ڈاکٹر فاروق احمد رند کے بھائی اور معروف ٹھیکیدار گل خان رند کے صاحبزادے شاہنواز گل رند کو تربت کے علاقے ملالی بازار سے رات کو تقریباً 10 بجے اغواء کیا گیا تھا۔ اغواء کرنے والوں نے 60 کروڑ روپے مانگے تھے۔ 8 ستمبر کو ایک اور کاروباری شخصیت حبیب باہن کو نامعلوم افراد نے اغواء کر لیا اور اس متاثرہ خاندان سے 30 کروڑ روپے طلب کیے گئے۔

اس صورتحال سے پر مکران ڈویژن متاثر ہوا ہے۔ آل پارٹیز کیچ کے اجلاس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر یہ مغوی بازیاب نہ ہوئے تو عوامی احتجاج کے طریقوں پر عمل ہوگا۔ آل پارٹیز کانفرنس کی اپیل پر گزشتہ ہفتے مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی۔ اس ہڑتال کے دوران اسکول، کالج، بازار اور پبلک ٹرانسپورٹ بند کردی گئی۔ اب تمام جماعتوں کے اکابرین نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک دن مکمل ہڑتال کی جائے گی اور اگر حکومت نے مسائل حل نہ کیے تو امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔

بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ نے اس کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دن بدن اس پورے علاقے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہورہی ہے ۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ پولیس، رینجرز اور لیویز کے اہلکار حالات کو بہتر بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کا یہ مدعا تھا کہ سرکاری ادارے اور ایجنسیاں بلوچستان کے عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کوئٹہ کے ایک شہری نے لکھا ہے کہ کوئٹہ میں بظاہر صورتحال معمول پر ہے۔ آج کل سردی بڑھ گئی ہے مگر گیس لاپتہ ہوجاتی ہے۔ گیس کی پائپ لائنوں میں گیس کے بجائے پانی آنے لگا ہے۔ اس شہری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پرکہا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد بند ہوئے کئی ماہ گزرگئے ہیں۔ کوئٹہ کے بازاروں میں برآمدات اور درآمدات سے رونق ہوتی تھی۔

اب کوئٹہ کے تاجروں کے پاس کوئی کام نہیں رہا۔ اس شہری نے مزید کہا کہ اب انٹرنیٹ سروس بند ہونا معمول بن چکا ہے، یوں کوئٹہ کے شہری پوری دنیا سے کٹ رہے ہیں۔ کوئٹہ میں اب ہر طرف چوکیاں قائم ہیں۔ مقامی افراد کو دوسرے شہروں سے آنے والوں کو ان چوکیوں پر شناخت کرانا پڑتی ہے مگر ان تمام تر انتظامات کے باوجود دہشت گرد کبھی پولیس والوں کو نشانہ بناتے ہیں تو کبھی خودکش حملہ آور کوئی دھماکہ کر کے غریب شہریوں کی جانوں اور املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے ہمیشہ نئے اقدامات کرتے ہیں مگر ان اقدامات سے صورتحال میں کوئی خاطرخواہ تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔ حکومت نے گزشتہ دنوں فیصلہ کیا تھا کہ بلوچستان لیویز کو ختم کر کے اس فورس کے عملے کو پولیس میں ضم کیا جائے۔ اس طرح حکومت نے صوبہ بلوچستان سے تمام B ایریاز ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ اس بارے میں جاری ہونے والے نوٹی فیکشن میں واضح کیا گیا ہے کہ اب پورے صوبہ میں Aاور B ایریاز ختم کردیے گئے ہیں اور پورے صوبے میں پولیس کی عملداری قائم ہوگئی ہے۔ اس فیصلے کے تحت اب پولیس پورے صوبے میں امن و امان قائم کرنے کی ذمے دار ہوگی۔

 وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بلوچستان کی روایتی فورس لیویز کے خاتمے اور لیویز کے عملے کو پولیس فورس میں شامل کرنے کے فیصلے کو تاریخی فیصلہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے وہ قانونی سقم ختم ہوئے جس کی بناء پر قانون نافذ کرنے کی ذمے دار ان ایجنسیوں کو کسی آپریشن کے دوران مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اب بلوچستان میں پولیس کے علاوہ رینجرز اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کو جس کو اب وفاقی فورس میں تبدیل کیا جا رہا ہے، امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا موقع ملے گا۔

وزیراعظم میاں شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے کوئٹہ کا دورہ کیا۔ انھوں نے اپنے اس دورے میں کراچی تا چمن شاہراہ کا سنگِ بنیاد رکھا اور پانچ دانش اسکولوں کا افتتاح کیا۔ وزیر اعظم نے اس موقعے پر کہا کہ جب این ایف سی ایوارڈ ترتیب دیا جا رہا تھا تو پنجاب نے اپنے حصے سے 11 ارب روپے بلوچستان کو دیے تھے۔ کراچی سے چمن تک جدید سڑک کی تعمیر کا مطالبہ بلوچستان کے عوام 78 برسوں سے کر رہے تھے، اگر یہ شاہراہ اپنے وقت پر مکمل ہوگئی تو یہ بلوچستان کے عوام کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔

اگرچہ بلوچستان کی حکومت نے ایک اور انتظامی طریقہ کار اختیار کرکے صوبہ میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے مگر بلوچستان کے امور کے ماہر صحافیوں کی یہ متفقہ رائے ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کو گزشتہ 25 برسوں سے انتظامی طریقوں سے حل کرنے کی کوشش کی گئی جس کی بناء پر حالات روز بروز خراب ہوتے چلے گئے اور بقول کوئٹہ سے شائع ہونے والے ایک اخبار کے ایڈیٹر کے حالات ایسے بگڑ گئے ہیں کہ بلوچستان کی حکومت کی رٹ کوئٹہ میونسپل کارپوریشن تک ہی محدود ہوگئی ہے۔ بلوچستان کے مسئلہ کا حل سیاسی ذریعے ہی سے ممکن ہے۔ یہی وقت ہے کہ حکومت بلوچستان میں صلح اور دوستی کے مشن کا آغاز کرے۔ صوبہ کے اسٹیک ہولڈرز کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ضروری ہے کہ جیلوں میں بند سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔

اب وفاقی کابینہ نے لاپتہ افراد کے لواحقین کو معاوضہ دینے کے لیے 5 ارب روپے کی منظوری دی ہے۔ حکومت لاپتہ افراد کے مسئلے کا دائمی حل نکالنے کے لیے عام اسٹیک ہولڈرز کی رائے کے لیے ایک کمیشن قائم کرے۔ یہ کمیشن لاپتہ افراد کے مسئلے کے حل کے لیے عملی اقدامات تجویز کرے۔ حکومت نے بلوچستان کی معدنیات کے بارے میں ایک متنازع قانون بنایا تھا، یہ قانون منسوخ کیا جائے اور ایسا قانون بنایا جائے کہ صوبہ کے قیمتی اثاثوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا بڑا حصہ بلوچستان کی حکومت کو ملے۔ بلوچستان کو آئین میں خصوصی درجہ دینے کے لیے ایک گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا جائے۔ بلوچستان کو خصوصی درجہ دے دیا جائے تو صوبے کے عوام کا اعتماد بحال ہوسکتا ہے۔

مقبول خبریں