وزارتِ سائنس پیکرٹ منصوبے میں بڑا مالی اسکینڈل بے نقاب، افسران کے خلاف کارروائی شروع

پراجیکٹ کے 80 لاکھ کے بجائے اکاؤنٹ میں صرف 6188 روپے بقایا پڑے ہیں


ضیغم نقوی January 15, 2026

اسلام آباد:

وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ذیلی ادارے پاکستان کونسل فار رینوایبل انرجی ٹیکنالوجیز (پیکرٹ) کے ایک اہم ترقیاتی منصوبے میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ’فاسٹ ٹریک کی لیب عمارت کی تعمیر‘ کے لیے مختص سرکاری فنڈز میں مبینہ خردبرد اور بدانتظامی پر وزارت نے سخت نوٹس لے لیا ہے۔

دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق سیکرٹری وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی منظوری سے پیکرٹ کے فنڈز میں ہونے والی بے ضابطگیوں پر کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

منصوبے کے اکاؤنٹ میں اس وقت صرف 6 ہزار 188 روپے موجود ہیں، حالانکہ منصوبہ مکمل ہو چکا ہے اور ٹھیکیدار کو تاحال ادائیگی نہیں کی گئی۔ قواعد کے مطابق اس مرحلے پر 80 لاکھ روپے بقایا ہونے چاہئیں تھے۔

منصوبہ مکمل کرنے والی فرم میسرز قوی انجینئرز پرائیویٹ لمیٹڈ نے بقایا جات کی عدم ادائیگی پر پیکرٹ حکام اور وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے باضابطہ رجوع کرتے ہوئے فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔

اس معاملے پر پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر افضل حسین کو سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی منظوری سے وضاحتی مراسلہ جاری کیا گیا ہے، جس میں ان پر منصوبے کے نفاذ میں کوتاہی، بدانتظامی اور ممکنہ بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

 

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے انہیں منصوبے کی مجموعی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، تاہم وہ قواعد و ضوابط کے مطابق اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہے۔

مزید انکشاف ہوا ہے کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر اکاؤنٹس طارق رحیم منصوبے کے اکاؤنٹس میں مبینہ خردبرد میں ملوث پائے گئے، تاہم پراجیکٹ ڈائریکٹر کی جانب سے ان کے خلاف بروقت کارروائی نہیں کی گئی۔

اس پیش رفت کے بعد اسسٹنٹ ڈائریکٹر اکاؤنٹس طارق رحیم کو ابتدائی طور پر 120 روز کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔

سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے پراجیکٹ ڈائریکٹر سے تین دن کے اندر تحریری وضاحت طلب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مقررہ مدت میں جواب جمع نہ کرانے کی صورت میں E&D Rules, 2020 کے تحت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اس کے ساتھ ہی جوائنٹ سیکرٹری وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو باضابطہ طور پر انکوائری افسر (Authorised Officer) مقرر کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق منصوبے کی رقم کئی سال قبل نکلوالی گئی تھی اور اب افسران کی جانب سے رقوم واپس کرنے کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔

معاملے کی انکوائری مکمل ہونے پر مزید انکشافات اور سخت کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں