سبی؛ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے خاتون ٹیچر جاں بحق

پولیس کے مطابق نامعلوم ملزمان فائرنگ کے بعد فرار ہوگئے


ویب ڈیسک January 15, 2026

کوئٹہ:

سبی کے گرلز ہائی اسکول الہٰ آباد کے گیٹ پر، جہاں روزانہ معصوم بچیوں کی ہنسی گونجتی تھی، وہیں ایک خاتون ٹیچر جو اپنی طالبات کے لیے امید اور روشنی کی علامت تھیں، نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کا نشانہ بن گئیں اور موقع پر ہی جاں بحق ہوگئیں۔

عینی شاہدین کے مطابق خاتون ٹیچر صبح معمول کے مطابق اسکول پہنچ رہی تھیں کہ اچانک موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے قریب سے فائرنگ کی اور فرار ہوگئے۔ گولیاں اس قدر قریب سے ماری گئیں کہ انہیں سنبھلنے کا موقع بھی نہ مل سکا۔

لاش کو فوری طور پر سبی کے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ وہ موقع پر ہی دم توڑ چکی تھیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

پولیس، لیویز اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ تاحال کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ ٹارگٹڈ کارروائی معلوم ہوتا ہے۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ بلوچستان میں خواتین اساتذہ اور لڑکیوں کی تعلیم کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ماضی میں بھی کئی اساتذہ پر حملے، اسکولوں کو نذرِ آتش کیے جانے اور بچیوں کی تعلیم روکنے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔

آج ایک بار پھر یہ تلخ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کیا ایک خاتون ٹیچر کو روزانہ جان ہتھیلی پر رکھ کر اسکول جانا پڑے گا؟ اور کیا ہماری قیادت اس صورتحال پر اب بھی خاموش رہے گی؟ سانحے کے بعد اسکول کی طالبات صدمے سے نڈھال ہیں اور والدین بھی شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اساتذہ ہی محفوظ نہیں تو ہماری بیٹیوں کا مستقبل کیسے محفوظ ہوگا؟

دوسری جانب سول سوسائٹی اور مقامی افراد نے پرامن احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ حملہ آوروں کو فوری گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔ ساتھ ہی خواتین اساتذہ کی سیکیورٹی کے لیے ٹھوس اقدامات اور لڑکیوں کے اسکولوں کی حفاظت یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ سانحہ صرف ایک استاد کا قتل نہیں بلکہ علم، امید اور مستقبل پر حملہ ہے۔ ایسا حملہ جس کا جواب ریاست اور معاشرے دونوں کو مل کر دینا ہے۔

مقبول خبریں