بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا پامالی

ٹرمپ کے جارحانہ اقدامات نے دنیا کے مختلف حصوں میں عدم تحفظ کے احساس کو بڑھا دیا ہے


ایڈیٹوریل January 16, 2026

مشرق وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے، جہاں ایران پر ممکنہ امریکی حملے سے متعلق خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی ہیں۔ دوسری جانب ایران پر امریکی حملہ رکوانے کے لیے قطر، سعودی عرب اور عمان نے لابنگ شروع کردی ہے اور ان کا موقف ہے کہ تہران کے خلاف کسی بھی کارروائی سے پورے مشرق وسطیٰ پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ایران نے واضح کردیا ہے کہ امریکا کی مداخلت پر ایران امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔ جب کہ ڈنمارک نے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر گرین لینڈ میں فوجی تعیناتی شروع کر دی۔

 عالمی سیاست ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جہاں طاقت، غرور اور جارحانہ سفارت کاری نے عقل، مکالمے اور بین الاقوامی قوانین کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی مزاج، بیانات اور اقدامات نے دنیا کو بار بار اس حقیقت سے روشناس کرایا ہے کہ جب عالمی طاقت کا مرکز غیر متوازن فیصلوں، وقتی مفادات اور ذاتی انا کے زیرِ اثر آ جائے تو اس کے اثرات کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ جاتی ہے۔

آج مشرق وسطیٰ سے لے کر لاطینی امریکا اور آرکٹک خطے تک جو ہلچل نظر آ رہی ہے، وہ محض الگ الگ واقعات نہیں بلکہ ایک ہی جارحانہ عالمی حکمت عملی کے مختلف مظاہر ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف متعدد ممالک کی خود مختاری خطرے میں ہے بلکہ تیسری عالمی جنگ جیسے ہولناک خدشات بھی بتدریج حقیقت کا روپ دھارتے دکھائی دے رہے ہیں۔

 مشرق وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بن چکا ہے اور ایران کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پورے خطے کو غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔

مغربی فوجی ذرائع کے حوالے سے آنے والی رپورٹس میں یہ عندیہ دیا جا رہا ہے کہ ایران پر ممکنہ امریکی حملہ محض ایک قیاس نہیں بلکہ ایک سنجیدہ امکان بنتا جا رہا ہے۔ امریکی عسکری حکمت عملی میں غیر متوقع اقدامات کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا کوئی نئی بات نہیں، لیکن جب یہ غیر متوقع پن پورے خطے کو آگ میں جھونکنے کا سبب بن جائے تو اسے محض حکمت عملی کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سفارتی محاذ پر برطانیہ کا ایران سے اپنا سفارتی عملہ واپس بلانا اور سفیر کو تہران سے طلب کرنا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ مغربی دارالحکومتوں میں خطرے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ ایسے اقدامات عموماً اسی وقت کیے جاتے ہیں جب پس پردہ کسی بڑی فوجی کارروائی کے امکانات مضبوط ہو چکے ہوں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، مظاہرین پر تشدد اور پھانسیوں کے معاملے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا بظاہر اخلاقی موقف دکھائی دیتا ہے، مگر عالمی سیاست کے تجربے سے گزرے ہوئے ذہن بخوبی جانتے ہیں کہ یہ بیانیہ اکثر فوجی مداخلت کے لیے اخلاقی جواز پیدا کرنے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

عراق، لیبیا اور افغانستان کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں انسانی حقوق اور جمہوریت کے نام پر کی گئی مداخلتوں نے ان ممالک کو طویل عدم استحکام، خانہ جنگی اور تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ ایران کے معاملے میں بھی خدشہ یہی ہے کہ اگر امریکی حملہ ہوا تو اس کے نتائج نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔

یہی وجہ ہے کہ قطر، سعودی عرب اور عمان جیسے ممالک نے، جو خطے کی سیاست اور زمینی حقائق سے بخوبی واقف ہیں، ایران پر ممکنہ امریکی حملے کو رکوانے کے لیے خفیہ سفارت کاری شروع کر دی ہے۔ ان ممالک کا موقف واضح ہے کہ تہران کے خلاف کسی بھی براہِ راست کارروائی سے پورا مشرق وسطیٰ عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ یہ وہی خطہ ہے جو پہلے ہی شام، یمن، فلسطین اور عراق جیسے تنازعات کی وجہ سے شدید دباؤ میں ہے۔ ایک نئی بڑی جنگ نہ صرف تیل کی ترسیل، عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کو متاثر کرے گی بلکہ فرقہ وارانہ اور جغرافیائی سیاسی تناؤ کو بھی بے قابو کر دے گی۔

ایران کی جانب سے بھی واضح پیغام دیا جا چکا ہے کہ اگر امریکا نے مداخلت کی تو خطے میں موجود امریکی اڈے محفوظ نہیں رہیں گے۔ سپریم لیڈر کے سینئر مشیر علی شمخانی کا یہ کہنا کہ قطر میں امریکی اڈے پر ہونے والا ایرانی حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، محض بیان بازی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ تنبیہ ہے۔

اس تنبیہ کو نظر انداز کرنا امریکی قیادت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس صورت میں جنگ ایک محدود دائرے میں نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ مشرق وسطیٰ کے ساتھ ساتھ ٹرمپ انتظامیہ کا رویہ آرکٹک خطے میں بھی اسی جارحانہ سوچ کا مظہر ہے۔ گرین لینڈ کو خریدنے کی امریکی خواہش نے ایک ایسے تنازع کو جنم دیا ہے جو بظاہر معاشی اور جغرافیائی نوعیت کا ہے، مگر اس کے پس منظر میں عالمی طاقت کی سیاست پوری شدت سے کارفرما ہے۔

امریکا، ڈنمارک اورگرین لینڈ کے درمیان ہونے والا سہ فریقی اجلاس کسی نتیجے کے بغیر ختم ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ خودمختاری اور علاقائی سالمیت جیسے بنیادی اصولوں پر شدید اختلافات موجود ہیں۔ اس کے فوراً بعد ڈنمارک کی جانب سے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر گرین لینڈ میں فوجی تعیناتی شروع کرنا محض دفاعی اقدام نہیں بلکہ امریکا کو یہ پیغام دینا ہے کہ طاقت کے بل پر کسی خطے کو ہتھیانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔آپریشن آرکٹک اینڈیورنس کے تحت جرمنی، فرانس، ناروے اور سویڈن جیسے ممالک کی شمولیت اس تنازع کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔ آرکٹک خطہ پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی، قدرتی وسائل اور نئی بحری گزرگاہوں کی وجہ سے عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایسے میں فوجی موجودگی میں اضافہ ایک نئی سرد جنگ یا حتیٰ کہ براہِ راست تصادم کے خدشات کو جنم دیتا ہے۔

یہ تمام واقعات مل کر ایک وسیع تر تصویر پیش کرتے ہیں جس میں امریکا، بطور عالمی طاقت، مختلف خطوں میں اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس طرزِ عمل کے نتیجے میں عالمی نظام عدم توازن کا شکار ہو رہا ہے اور وہ اصول جو دوسری عالمی جنگ کے بعد وضع کیے گئے تھے، ایک ایک کرکے پامال ہوتے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ، بین الاقوامی قوانین اور سفارتی روایات اس وقت بے بس دکھائی دیتی ہیں جب طاقتور ممالک کھلے عام ان کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

ٹرمپ کے جارحانہ اقدامات نے دنیا کے مختلف حصوں میں عدم تحفظ کے احساس کو بڑھا دیا ہے۔ یورپ میں نیٹو اتحادیوں کی بے چینی، مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل، لاطینی امریکا میں سیاسی عدم استحکام اور آرکٹک میں فوجی نقل و حرکت سب اسی بے چینی کے مظاہر ہیں۔

یہ صورتحال تیسری عالمی جنگ کے خدشات کو تقویت دیتی ہے، کیونکہ جب متعدد محاذوں پر بیک وقت تناؤ بڑھتا ہے تو کسی ایک چنگاری سے پورا نظام بھڑک سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی سطح پر سنجیدہ اور ذمے دارانہ قیادت سامنے آئے جو ذاتی مفادات اور وقتی سیاسی فائدوں کے بجائے انسانیت کے اجتماعی مفاد کو ترجیح دے۔

ایران، وینز ویلا یا گرین لینڈ جیسے معاملات کا حل فوجی دباؤ یا جارحیت میں نہیں بلکہ مذاکرات، باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری میں مضمر ہے۔ اگر امریکا واقعی خود کو عالمی رہنما سمجھتا ہے تو اسے طاقت کے استعمال کے بجائے مثال قائم کرنی چاہیے۔اسی طرح وینز ویلا کے عوام بھی معاشی پابندیوں اور سیاسی عدم استحکام سے نڈھال ہیں۔ وہاں مزید دباؤ ڈالنا کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ انسانی المیے کو مزید گہرا کرے گا۔ گرین لینڈ کے معاملے میں بھی مقامی آبادی کی خواہشات اور خود مختاری کو نظر انداز کرنا نوآبادیاتی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو اکیسویں صدی میں ناقابلِ قبول ہے۔

آخرکار یہ سوال پوری انسانیت کے سامنے ہے کہ کیا دنیا ایک بار پھر طاقت کے قانون کی طرف لوٹنا چاہتی ہے یا ہم نے تاریخ سے کچھ سیکھا ہے۔ ٹرمپ کے جارحانہ اقدامات نے اس سوال کو مزید شدت کے ساتھ ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ اگر عالمی برادری نے بروقت اجتماعی دانش کا مظاہرہ نہ کیا تو وہ دن دور نہیں جب یہ چھوٹے چھوٹے تنازعات مل کر ایک ایسی عالمی آگ بن جائیں گے جسے بجھانا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔ ایسے میں ذمے دار صحافت، باشعور عوام اور فعال سفارت کاری ہی وہ عوامل ہیں جو دنیا کو ایک اور تباہ کن عالمی جنگ سے بچا سکتے ہیں، بشرطیکہ انھیں سنجیدگی سے اپنایا جائے اور طاقت کے نشے میں چور قیادتوں کو لگام دی جائے۔

مقبول خبریں