بھارتی شہر بالاسور میں 35 سالہ مسلمان کو جنونی انتہا پسند ہندوؤں کے بے لگام ہجوم نے لرزہ خیز انداز میں قتل کردیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بالاسور میں مشتعل ہجوم نے ایک شخص کو معمولی بات پر تلخ کلامی کے بعد بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشتعل ہجوم میں شامل افراد نے ہاتھوں میں ڈنڈے، لوہے کے راڈز اور لاٹھیاں اُٹھا رکھی تھیں۔
مشتعل ہجوم مسلمان شخص پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ جے شری رام کا نعرہ لگائے، انکار پر ہجوم نے اس شخص کو بیدردی سے مارنا شروع کردیا۔
مسلم شخص کے سر پر کافی گہری چوٹیں آئیں اور جب بہت خون بہنے لگا تو سفاک ملزمان اسے مردہ سمجھ کر وہیں بے یار و مددگار چھوڑ گئے۔
علاقہ مکینوں نے زخمی شخص کو نیم مردہ حالت میں اسپتال منتقل کیا جہاں وہ دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔
پولیس نے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق مقتول کے خلاف ہی گائے بچاؤ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر دیا۔
اس واقعے کی وڈیو سوئیڈن کی یونیورسٹی سے منسلک پروفیسر اشوک سوائین نے سوشل میڈیا پر شیئر کی جو دنیا بھر میں انسانی حقوق کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔
پروفیسر اشوک نے کہا کہ بھارتی میڈیا اور حکام اس بہیمانہ قتل پر خاموش ہیں۔ حالانکہ وڈیو میں تشدد کے مناظر صاف دکھائی دے رہے ہیں۔
جس کے بعد پولیس پر دباؤ بڑھا اور مقتول کے بھائی کی درخواست پر قتل کی ایف آئی آر درج کر لی گئی لیکن تاحال ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی۔
خیال رہے کہ مودی سرکار میں بھارت اقلیتوں کی قتل گاہ بن چکا ہے جہاں مسلمان محفوظ ہیں نہ عیسائی، یہاں تک کہ ہندو اقلیت دلت میں ظلم و جبر کا شکار ہیں۔