کراچی:
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان کی تمام جماعتیں 5، 6 نکات پر متفق ہو کر دستخط کریں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی سے دستخط میں کرالوں گا۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اورتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کراچی میں محمد زبیر کی رہائش گاہ پرعشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بحرانوں میں گھرا ہوا ہے اوریہ بحران اندر سے پیدا کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے کئی ادارے نوکر کا کام کررہے ہیں، ہماری فوج یا کسی ادارے سے کوئی دشمنی نہیں ہے، ہماری فوج دنیا کی بہترین فوج ہے، فوج کے بغیر ملک نہیں چل سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک فاقوں کی طرف جارہا ہے، آپ نے ایک بڑی پارٹی سے ان کا نشان چھین لیا، ملک کی بڑی جماعت کا لیڈر جیل میں ہے۔
اپوزیشن اتحاد کے سربراہ نے کہا کہ سہیل آفریدی کا دورہ کراچی کامیاب رہا ہے، ہم ظلم مٹانے آئیں ہیں، ہمارے ساتھ چلو۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم اس ملک کے لیے لڑے ہیں، باجوڑ سے خیبر تک حالات بہتر نہیں ہیں، افغانستان ایشیا کا دل ہے، افغانستان کے مسئلے کو زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے حل کریں اورمسائل کا حل طاقت نہیں بلکہ مذاکرات ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اقتدار والے لوگ نہیں ہیں، تحریک آئین کی حفاظت کے لیے بنی ہے، اندازہ تھا کہ حکومت آئین پر حملہ آور ہوگی، یہ تحریک ہم نے کسی کی دشمنی میں نہیں بنائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اصلی پی ڈی ایم لندن میں بنا رہےتھے اوراس وقت کہا تھا کسی کو ہٹانے میں شامل نہیں ہوں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بربادی کےخلاف ہمیں نکلنا ہوگا، فضل الرحمان بھی ہمارے ساتھ جلد شامل ہوجائیں گے۔
قائد حزب اختلاف نے کہا کہ حکمرانوں سے گلہ ہے، انہیں طرز حکمرانی نہیں آتی، نوازشریف سن رہے ہوں گے، نوازشریف نے کمیٹی بنائی تھی، کمیٹی نے متفقہ فیصلہ کیا کہ افغان جویہاں پیدا ہوئے، ان کو شہریت دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ فاٹا بغیر تنخواہ کا سپاہی تھا، پاکستان ڈنڈوں سےنہیں چلے گا، وزیرستان آپ کا ہے، دل سے لگائیں تو مسائل حل ہوں گے، مدرسوں کو کس نے دہشت گردی میں تبدیل کیا ہے، حالات خرابی کا ذمہ دار میں تو نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وینزویلا میں جو کچھ ہوا، عالمی حالات تبدیل ہو رہے ہیں، اس پر پارلیمنٹ کواعتماد میں لیں، پارلیمنٹ کا اجلاس بلائیں، تمام اداروں کا اجلاس بلائیں، آئیں اجتماعی دانش سے ملک کو مسائل سے باہرنکالیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈراور نوازشریف سے متعلق سوال کا جواب قومی اسمبلی میں دوں گا اورحکومت سے مذاکرات سے متعلق سوال کا جواب بھی اسلام آباد میں دوں گا، آپ لیڈر ایجاد نہیں کرسکتے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اسد قیصر سے کہا تھا کہ آصف زرداری کے خلاف میں الیکشن لڑوں گا، صدارتی الیکشن میں ایک ووٹ نہیں بکا، پاکستان کی تمام جماعتیں 5، 6 نکات پرمتفق ہوں، آپ دستخط کردیں بانی پی ٹی آئی سے میں کرالوں گا، قومی حکومت بنائیں۔
اسد قیصر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی پاکستان میں آئین کی بحالی کی جنگ کررہے ہیں، 8 فروری کو ملک میں پہیہ جام ہڑتال اوراحتجاج ہوگا، عوام اپنے ووٹ کا حق مانگیں۔
راجا ناصرعباس نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کا وفد کراچی آیا ہے، 1973 کا آئین میں تمام اکائیاں ہیں، ملک میں سیاسی اوراقتصادی بحران ہے، تمام لوگوں کو جوڑیں۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات شفاف ہوں، ملک کے حکمران اورپارلیمنٹ میں اصل نمائندے نہیں ہیں، عدلیہ آزاد نہیں ہے، جس پارٹی کوزیادہ ووٹ ملے اس کو سزا دی گئی ہے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کا 8 فروری کو پہیہ جام ہڑتال کا اعلان
تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت نے 8 فروری کو ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال اور یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا اور عوام سے ووٹ کے تحفظ، آئین کی بالادستی، حقوق کے حصول، آزاد عدلیہ اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے گھروں سےنکلنے کی اپیل کی۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود خان اچکزئی، وائس چیئرمین سینٹر علامہ راجا ناصرعباس، سیکریٹری جنرل اسد قیصر اور دیگر نے محمد زبیر کی رہائش گاہ پر ان کی جانب سے دیے گئے عشائیہ سے خطاب کیا۔