بجلی کے شعبے میں 800 ارب روپے کی منفی ایکویٹی، سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری

گزشتہ مالی سال میں پاورسیکٹرکے کل واجبات 9.2 کھرب روپے تک پہنچ گئے جبکہ اثاثے 8.4 کھرب روپے رہے


شہباز رانا January 17, 2026
بجلی کے صارفین پر 22 پیسے سے ایک روپے 60 پیسے تک فی یونٹ اضافہ ہوگا۔ فوٹو : فائل

اسلام آباد:

پاورسیکٹر کی ایکویٹی گزشتہ مالی سال کے دوران 800 ارب روپے منفی ہوگئی ہے، جس کی بنیادی وجوہات بجلی کی فروخت میں کمی،6 بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں (ڈسکوز) کے مسلسل نقصانات، بجلی چوری،کم ریکوریز اور سرکلر ڈیٹ کا بڑھتابوجھ ہیں۔

یہ انکشاف وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری سالانہ کارکردگی رپورٹ میں کیاگیاہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں پاورسیکٹرکے کل واجبات 9.2 کھرب روپے تک پہنچ گئے،جبکہ اثاثے 8.4 کھرب روپے رہے۔

منفی ایکویٹی کی بڑی وجوہات میں ڈسکوزکے نقصانات، بجلی کی چوری،جنریشن کمپنیوں کی ری پرائسنگ،سرکلر ڈیٹ اور غیر پائیدارکاروباری ماڈل شامل ہیں۔ بجلی کے شعبے کوچلانے کیلیے حکومت نے گزشتہ مالی سال کے دوران ایک کھرب سے زائدکی سبسڈی دی،جس میں صرف تقسیم کارکمپنیوں کیلیے 552 ارب روپے شامل تھے۔

 رپورٹ کے مطابق 10 میں سے 6 ڈسکوز اب بھی خسارے میں رہیں،جبکہ 4 کمپنیوں نے مجموعی طور پر 39 ارب منافع ظاہرکیا۔ منافع کمانے والی کمپنیوں میں گوجرانوالہ الیکٹرک پاورکمپنی 13.6ارب اور قبائلی الیکٹرک سپلائی کمپنی 9.4 ارب شامل ہیں،جنہیں سبسڈی کافائدہ حاصل ہوا۔فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے بہتروصولیوں کے باعث 9.6 ارب منافع کمایا،جبکہ ملتان الیکٹرک پاورکمپنی نے 4.5 ارب منافع رپورٹ کیا، تاہم بجلی چوری پر قابو پانے کی ضرورت پر زوردیاگیا۔

دوسری جانب 6کمپنیوں نے مجموعی طور پر 258 ارب کاخسارہ کیا،جبکہ ان کے مجموعی نقصانات 3 کھرب تک پہنچ چکے ہیں۔کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی 113ارب کے سالانہ نقصان کے ساتھ دوسرے بڑے خسارے کی حامل ادارہ رہی،جس کے نقصانات 825 ارب روپے ہوچکے ہیں۔ رپورٹ میں کہاگیاکہ کوئٹہ میں ساختی مسائل،کم وصولیاں اورشدیدبجلی چوری بڑے چیلنجز ہیں۔

پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 93 ارب کانقصان کیا،جبکہ مجموعی نقصانات 764 ارب روپے تک پہنچ گئے۔سکھر،حیدرآباد،لاہور اوراسلام آبادکی بجلی کمپنیوں نے بھی اربوں روپے کے نقصانات رپورٹ کیے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق بجلی کے شعبے کی آمدن 3.9 کھرب رہی جوگزشتہ سال کے مقابلے میں 4 فیصدکم ہے،جس کی وجہ ٹیرف میں تاخیر،سرکلرڈیٹ اور وصولیوں کے مسائل ہیں۔سرکاری ملکیتی اداروں کے نقصانات میں 300 فیصداضافہ ہوااورانہیں 2.1 کھرب روپے کی سالانہ حکومتی معاونت دی گئی۔

مقبول خبریں