عالمی سیاست اور  بلوچستان

بلوچستان میں بڑھتی ہوئی شورش کا مقصد پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنا ہے


اکرم ثاقب January 18, 2026

پاکستان کی جغرافیائی اہمیت ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کی آنکھوں میں کھٹکتی رہی ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں خطے میں بدلتی ہوئی صف بندیوں نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

تجزیہ نگاروں کا ایک بڑا حلقہ اس خدشے کا اظہار کر رہا ہے کہ امریکا، افغانستان اور ایران، اپنے اپنے مفادات کے تحت، ایک ایسے نکتے پر یکجا ہو چکے ہیں جہاں ان کا ہدف پاکستان کا استحکام ہے۔

اس مفروضے کی بنیاد وہ مسلسل مداخلت اور بلوچستان میں بڑھتی ہوئی شورش ہے جس کا مقصد بظاہر پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنا یا خدانخواستہ خانہ جنگی کی طرف دھکیلنا ہے۔

امریکا کے لیے پاکستان کی اہمیت اب وہ نہیں رہی جو سرد جنگ یا دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران تھی۔ افغانستان سے انخلا کے بعد واشنگٹن اب بھارت کو اس خطے میں اپنا سب سے بڑا مہرہ دیکھتا ہے۔

سی پیک (CPEC) اور گوادر پورٹ کی کامیابی امریکا کے لیے معاشی اور اسٹرٹیجک خطرہ ہے۔ بلوچستان میں بدامنی کا براہِ راست فائدہ ان قوتوں کو پہنچتا ہے جو نہیں چاہتیں کہ چین اس خطے کے ذریعے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرے۔

دوسری جانب، کابل میں طالبان حکومت کے آنے کے بعد یہ توقع تھی کہ سرحدیں محفوظ ہوں گی، مگر صورتحال اس کے برعکس نکلی۔ ٹی ٹی پی (TTP) کے ٹھکانے اور افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے۔ افغان حکمران اپنی داخلی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے اور قوم پرستی کے کارڈ کے لیے ڈیورنڈ لائن اور بلوچستان کے معاملات کو ہوا دے رہے ہیں۔

ایران کے حوالے سے عوامی سطح پر ایک خاص نظریہ پایا جاتا ہے کہ وہ خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مخصوص گروہوں کی پشت پناہی کرتا ہے۔ اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ تناؤ کو محض ایک ’میڈیا وار‘ تسلیم کیا جائے جس کا مقصد مستقبل کے بڑے اہداف کا حصول ہے، تو یہ پاکستان کے لیے مزید تشویشناک ہو جاتا ہے۔

اس تناظر میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا تہران اپنی مشرقی سرحدوں (بلوچستان) پر بھارت یا دیگر قوتوں کے اثر و رسوخ کو جگہ دے کر پاکستان کو دباؤ میں لانے کی پالیسی پر گامزن ہے؟
چابہار بمقابلہ گوادر کی رقابت اس شک کو مزید تقویت دیتی ہے
بلوچستان پاکستان کا وہ کمزور پہلو ہے جسے دشمن ہمیشہ سے نشانہ بناتا آیا ہے۔ علیحدگی پسند تحریکوں کو بیرونِ ملک سے ملنے والی مالی اور لاجسٹک مدد اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ جب ہم امریکا کے جدید ہتھیار، افغانستان کی محفوظ پناہ گاہیں اور ایران کی خاموش راہداریاں دیکھتے ہیں، تو یہ کڑیاں آپس میں ملتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ مقصد واضح ہے:

سی پیک کی ناکامی: تاکہ پاکستان معاشی طور پر دیوالیہ رہے۔

داخلی بحران: لسانی اور صوبائی عصبیتوں کو ابھار کر ریاست کو مفلوج کرنا۔

فوجی الجھاؤ: پاک فوج کو مغربی سرحد پر اتنا مصروف کر دینا کہ وہ مشرقی سرحد سے غافل ہو جائے۔

پاکستان اس وقت ایک کثیر الجہتی ہائبرڈ وار کا شکار ہے۔ اگرچہ امریکہ، ایران اور افغانستان کے نظریات مختلف ہو سکتے ہیں، مگر پاکستان کو کمزور دیکھنا ان سب کے لیے کسی نہ کسی سطح پر سودمند ثابت ہوتا ہے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ ریاست اپنی خارجہ پالیسی پر نظرِ ثانی کرے اور بلوچستان کے عوام کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے مخلصانہ کوششیں کرے۔ جب تک اندرونی محاذ مضبوط نہیں ہوگا، بیرونی سازشوں کے لیے زمین ہموار رہے گی۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ عالمی سیاست میں نہ کوئی مستقل دوست ہے نہ دشمن، صرف مفادات مستقل ہیں۔ پاکستان کو اپنی بقا کی جنگ خود اپنے زورِ بازو پر لڑنی ہوگی۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
اکرم ثاقب
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔

مقبول خبریں