ملک میں رواں سال کے آغاز سے سولر پینلز کی قیمتوں میں یکدم بڑے اضافے کا رحجان پیدا ہوگیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق مقامی مارکیٹوں میں 585، 645 اور 720واٹ کے حامل درآمدہ چینی سولر پینلز کی قیمتوں میں اوسطا پانچ ہزار روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔ جسکے نتیجے میں 585واٹ کے سولر پینل کی قیمت 16ہزار تا 17ہزار روپے سے بڑھکر 20ہزار سے 21ہزار روپے ہوگئی۔
اس کے علاوہ 645 واٹ کے حامل سولر پینل کی قیمت 20ہزار روپے سے بڑھکر 24ہزار تا 25ہزار روپے ہوگئی جبکہ 720واٹ کے حامل سولر پینل کی قیمت 22ہزار تا 25ہزار روپے سے بڑھ کر 30ہزار تا 35ہزار روپے کی سطح پر آگئی۔
سولر پینلز کے درآمدکنندہ اور کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے نائب صدر سلیم میمن نے ایکسپریس کو بتایا کہ عالمی سطح پر چاندی، تانبے کی قیمت بڑھنے سے چینی سولر کمپنیوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگیا ہے، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 5ماہ میں فی واٹ سولر پینل کی قیمت 22روپے سے بڑھ کر 33 روپے کی سطح پر آگیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بڑھتی ہوئی عوامی خریداری سرگرمیوں اور چین میں قیمتیں بڑھنے آئندہ چند ماہ کے دوران سولر پینل کی فی واٹ قیمت بڑھ کر 40روپے کی سطح پر پہنچ جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ چینی سولر پینلز کی امپورٹ پر عائد ٹیکسز بھی سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ ہے۔ مقامی سطح پر سولر پینلز کی ٹیکنالوجی مسابقت سے بھی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
سلیم میمن نے بتایا کہ دو سالوں میں وسیع درآمدات کی وجہ سے ملک میں سولر پینلز کے وسیع ذخائر موجود ہیں، ملک بھر میں نہ صرف سولر پینلز مہنگے ہوگئے ہیں بلکہ اس میں استعمال بیٹریوں کی قیمت بھی بڑھی ہے اور گزشتہ ایک ماہ میں سولر بیٹریوں کی قیمت میں بھی 10فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔