انڈونیشیا میں ایک مسافر بردار طیارہ گر کر تباہ ہو گیا جس میں سوار تمام 11 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈومیسٹک پرواز کے لیے استعمال ہونے والے چھوٹے طیارے ATR 42-500 نے انڈونیشیا ایئر ٹرانسپورٹ سے اُڑان بھری تھی۔
یہ طیارہ یوگیاکارتا شہر سے جنوبی سولاویسی کی طرف روانہ ہوا تھا اور کچھ ہی دیر بعد کنٹرول روم سے رابطہ اچانک منقطع ہو گیا تھا۔
جہاز سے رابطہ اُس وقت منقطع ہوا جب وہ ماروس ضلع کے لیانگ نامی پہاڑی علاقے کے قریب تھا اور موسم بھی ٹھیک نہیں تھا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارہ اپروچ (لینڈنگ کے قریب) کے دوران ایئر ٹریفک کنٹرول کی ہدایات پر نہیں تھا اور اسی دوران رابطہ ختم ہوگیا۔
سرچ اور ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر ہیلی کاپٹرز، ڈرونز اور زمینی افواج کے ساتھ سرچ آپریشن کا آغاز کیا۔
جس کے دوران بعض مقامات پر ملبہ اور چھوٹی آگ کے آثار بھی دیکھے گئے۔ پہاڑی اور دشوار گزار راستہ ہونے کے باعث امدادی کاموں میں دشواری کا سامنا رہا۔
اس طیارے میں عملے کے 8 ارکان اور 3 مسافر سوار تھے۔ جو افسوسناک حادثے میں موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔
یہ طیارہ انڈونیشیا ایئر ٹرانسپورٹ (IAT) کے بیڑے کا حصہ تھا جسے سمندری نگرانی مشن کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا تھا۔
حادثے کے قریب دھماکے جیسی آوازیں بھی سنی گئیں لیکن ابھی تک حادثے کی حتمی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔
خیال رہے کہ انڈونیشیا بڑے جزیروں پر مشتمل ریاست ہے جہاں نقل و حرکت کے لیے ہوائی سفری سب سے اہم ہیں۔