کینیڈا کی تاریخ کی سب سے بڑی سونے کی ڈکیتی کے مقدمے میں پولیس نے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے ایک ملزم گرفتار کر لیا جبکہ مرکزی ملزم کے بھارتی پنجاب میں موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق یہ واردات 17 اپریل 2023 کو ٹورنٹو کے پیئرسن ایئرپورٹ کے کارگو سیکشن میں پیش آئی تھی۔
چوروں نے جعلی ایئر وے بل دکھا کر ٹرک سمیت کارگو ایریا میں داخل ہوکر سونا اور کرنسی لاد کر ایئرپورٹ سے فرار ہوگیا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ یہ دستاویز جعلی تھی۔
اس فلمی انداز میں کی گئی چوری میں 400 کلوگرام سونا اور 25 لاکھ کینیڈین ڈالر مالیت کی غیر ملکی کرنسی پر ہاتھ صاف کیا گیا تھا۔
تحقیقات کے دوران پیل ریجنل پولیس نے ارسلان چوہدری نامی ملزم کو دبئی سے ٹورنٹو آمد پر گرفتار کیا گیا۔ اس پر 5 ہزار ڈالر سے زائد کی چوری، جرائم سے حاصل شدہ جائیداد رکھنے اور سنگین جرم کی سازش کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
تاہم گرفتاری کے باوجود تاحال کوئی بڑی رقم یا سونا برآمد نہیں ہو سکا تھا۔ اس کیس میں اب تک 10 افراد کی شناخت ہوچکی ہے جن پر 21 سے زائد الزامات ہیں جبکہ دو ملزمان تاحال مفرور ہیں۔
مفرور ملزمان میں 33 سالہ سِمرن پریت پنیسر شامل ہے جو ایئر کینیڈا کا سابق ملازم اور کارگو سیکشن کا مینیجر تھا اور مبینہ طور پر واردات کے بعد فرار ہو کر بھارتی پنجاب پہنچ گیا۔
دوسرا مفرور ملزم 36 سالہ پرساتھ پرملِنگم ہے دونوں کا تعلق برامپٹن سے بتایا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ چوری شدہ سونے کا کچھ حصہ پگھلا دیا گیا جبکہ کچھ ملک سے باہر منتقل ہو چکا ہے۔
اس کیس کی تحقیقات آپریشن 24-کے (کیریٹ) کے تحت جاری ہیں اور عوام سے تعاون کی اپیل کی گئی ہے۔
یہ واردات کینیڈا میں سونے کی چوریوں کی تاریخ میں سب سے بڑی اور سنسنی خیز ڈکیتی قرار دی جا رہی ہے۔
اس کا موازنہ اکثر برطانیہ کی مشہور 1983 برِنکس-میٹ گولڈ ڈکیتی سے کیا جا رہا ہے جس کا بیشتر سونا آج تک برآمد نہیں ہو سکا تھا۔