عالمی سیاسی صورتحال کے تناظر میں جہاں وینز ویلا پر امریکی سامراج کی دہشت گردی اور غنڈہ گردی کو عالمی برادری تنقید کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے، وہیں ایران پر امریکی و اسرائیلی رجیم چینج کے فارمولے پر بھی عالمی برادری بہت زیادہ تحفظات رکھتی ہے۔
بلکہ یہاں تک خیال آرائی کی جا رہی ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ ایک ناقابل اعتبار شخصیت ہیں، لٰہذا کسی بھی وقت وہ ایران میں رجیم چینج کے لیے حملہ کرسکتے ہیں، اسی ممکنہ ہیجان خیزی کو روکنے کی غرض سے ایران نے اپنی افواج کو ریڈ الرٹ جاری کردیا ہے۔
دوسری جانب وینز ویلا کے صدر کو اغوا کرنے کے معاملے میں امریکی صدرکی یہ مہم جوئی کسی طور بھی امریکا کے حق میں نہیں جاتی نظر آرہی ہے اور آہستہ آہستہ امریکی حکومت ایک اور عالمی دباؤ میں آتی نظر آرہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کیوں پوری دنیا کو طاقت اور سپر پاورکے نشے میں فتح کرنا چاہتے ہیں یا ٹرمپ کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ طاقت کے استعمال سے دنیا کو ہمنوا بنا سکیں، اس سوال کا بہت سادہ جواب گزشتہ دو عشروں سے سیاست میں ایسے غیر سیاسی افراد کا در آنا ہے جوگفتگو اور مذاکرات صرف اپنی شرائط پرکرنے کے افراد ہیں، جس کو کسی طور سیاست نہیں کہا جا سکتا۔
غیرسنجیدہ قیادت کا یہ رجحان امریکا، یورپ کے علاوہ مختلف خطوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، جس میں ایشیا اور خاص طور پربھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش دیکھے جا سکتے ہیں ۔
اس مرحلے پر ہم اگر پاکستان کی سیاست کو سیاسی دانش کے بغیر دیکھنے کی کوشش کریں گے تو شاید ہم اپنے اپنے پسند کے رہنما کے علاوہ دوسرے پر صرف تنقید کرتے ہی رہ جائیں گے۔
یہاں یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ ہماری سیاست کی سیاسی دانش ان صحافی اور تجزیہ کاروں کے ہاتھ لگ چکی ہے یا حوالے کر دی گئی ہے جو کسی نہ کسی طور اپنے تعلقات ایوان اقتدار سے جوڑے رکھتے ہیں یا کسی بھی طور وہ اشرافیہ کے منظور نظر رہنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
ہماری سیاسی دانش اور تجزیے ایک جماعت یا ایک رہنما کی محبت یا مخالفت سے شروع ہوتے ہیں جن کا تعلق واہ واہ کے علاوہ نہ تو جمہوریت کی بالادستی اور نہ ہی عوام کی حالت زار کی تبدیلی ہوتا ہے، یہ ایک ایسا افسوسناک عمل ہے جو نہ سیاسی اداروں کو مضبوط کرے گا اور نہ ہی اس غیر سیاسی علامہ گیری سے عوام کی معاشی و معاشرتی حالت بہتر ہوگی۔
پاکستانی سیاست میں اس امر سے کیسے انکارکیا جا سکتا ہے کہ اس وقت کی تمام موجودہ سیاسی جماعتیں، اقتدار کی خواہش میں اشرافیہ کی سجدہ ریزی نہ کرتی ہوں؟ یا کہ اشرافیائی بطن سے پیدا ہونے والی ان تمام سیاسی جماعتوں میں کسی بھی مرحلے پر پارٹی میں مکمل جمہوری رویہ رہا ہو یا سیاسی کارکنان کی سیاسی تربیت کا کوئی سنجیدہ عمل کیا گیا ہو؟
ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کا یہ کیسا مذاق اور مضحکہ خیز رویہ ہے کہ وہ ملک میں مکمل جمہوریت اور آئین کی بالادستی کی مالا جپتی رہتی ہیں اور اپنی سیاسی جماعتوں میں مخالف رائے یا نکتہ نظر کو جمہوری انداز سے برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں؟
پاکستان کی سیاست میں زندہ باد اور مردہ باد کے نعروں میں بہت منصوبہ بندی سے سیاسی دانش کا نکالا کرکے اشرافیائی کلچر کو سمجھنے یا داؤ پیچ کرنے والے سیاسی رہنما تیارکیے جاتے ہیں جن کو بعد میں امرا کے کلب کا رکن بنا کر ان کی بے تکی سیاست کا حصہ بقدر جسہ دے دیا جاتا ہے۔
اور ساتھ میں ان سیاسی مداریوں کی ڈیوٹی لگائی جاتی ہے کہ وہ عوام کی توجہ ملک کے اصل معاشی مسائل اور اشرافیائی مفاد پر نہ پڑنے دیں اور عوام کوکبھی دہشت گردی کے خوف کے دائروں میں الجھا کر رکھیں تاکہ امرائی سیاست دانوں اور اشرافیائی طاقت کے عوام دشمن و سماج دشمن اقدامات پر عوام کی نظر نہ جاسکے۔
ملکی سیاست کے ماہ وسال میں کم ازکم ایسا ہی ہوتا رہا ہے اور اب بھی وہی انداز تمام سیاسی جماعتیں اشرافیائی مفادات کو بچاتے ہوئے کر رہی ہیں۔
یہ کیوں ہوتا ہے یا اس کی بنیادی وجہ کیا ہے؟ تو اس کا بہت سادہ سا جواب یہ ہے کہ جب تک ریاست اپنے بطن میں جمہوری نہیں ہوگی تو اس ملک میں سیاست دان بھی غیر جمہوری رویے لیے پیدا ہوں گے۔
اور اگر ملک طاقتور اشرافیہ کی دسترس میں ہوگا تو وہ اشرافیہ سیاست بھی انھی سیاست دانوں کے حوالے کرے گی جو ان کی فیکٹری کی پیداوار ہوں گے، اس منفی سیاسی رجحان سے نہ سیاست قد آور ہوگی اور نہ ہی سماج کے رویوں میں جمہوریت کے جرثومے پیدا ہوں گے۔
اس مرحلے پر ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ پاکستان میں کم ازکم سیاست نظری اور عملی طور پر سیاسی دانش کے ذریعے نہیں کی جا رہی اور نہ کبھی اس سے قبل کی گئی، جس کا نتیجہ معاشی ابتری، عوام کی بد حالی اور ملکی اداروں کا عدم استحکام ہے۔
ترقی یافتہ ملک میں ادارے بنا کر ان کی ترقی اورکارکردگی کو ترقی یافتہ بنایا جاتا ہے جب کہ ہمارے ہاں پی ٹی آئی کی حکومت سے مبینہ طور پر نہایت منصوبہ بندی یا ہدایات پر پہلے پی آئی اے کی عالمی ساکھ خراب کروائی گئی۔
جس کے دوسرے مرحلے میں موجودہ حکمرانوں کے پاس پی آئی اے ایسے عالمی ادارے کو نجی ملکیت میں دے دینا آسان ہدف ٹہرا اور اس عمل پر کسی بھی سیاسی جماعت کو نہ تکلیف ہوئی ہے اور نہ ہی اس بات کی فکر کی گئی کہ عالمی سطح کا ادارہ بیچ دیا گیا؟
جس کے نتیجے میں بیروزگاری کے سیلاب کے نتیجے میں مستقبل کے ہزاروں خاندان متاثر ہونگے۔ منافع بخش کے ای ایس سی یا پی آئی اے کی نجکاری پر سوائے چند سیاسی مفاد کے بیان دینے کے علاوہ کوئی تحریک منظم نہ کرسکیں، اور یہ تمام سیاسی جماعتیں عوام اور جمہوریت کا ڈھونگ نہایت بے شرمی کے ساتھ آج بھی کر رہی ہیں۔
60کی دہائی تک پاکستان میں سیاسی دانش رکھنے والے کالم نگار اور تجزیہ کار پاکستان کی سیاست کو عوامی اور نظریاتی دائروں میں رکھنے کی کوشش کر کے ریاست کی طاقت کو مجبور کرتے تھے کہ وہ عوامی مفاد میں اپنے فیصلے یا اقدامات کرے۔
اور یہ ان سیاسی دانش پھیلانے والوں کی ہی کوشش تھی کہ آمر جنرل ایوب کے خلاف چینی اور بسوں کے معمولی اضافے پر ایسی عوامی تحریک چلی کہ جنرل ایوب کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔
مگر اس نظریاتی سیاسی دانش کو ختم کرنے میں ہمارے غیر نظریاتی لبرلز اورسوشل ڈیموکریٹس نے سینٹرل لیفٹ اور سینٹرل رائٹ کی اصطلاحات کا سہارا لے کر اس ملک میں عوامی و نظریاتی سیاست کرنے والوں کی جدوجہد کو اشرافیہ کی گود میں ڈال دیا جس کا نتیجہ غیر سیاسی نسل اور غیر سیاسی شعورکے سیاست دان پاکستانی سیاست کا مقدر بنے۔
جس کے بعد جوڑ، توڑ کے آصف زرداری، نواز شریف اور بانی پی ٹی آئی سیاست کی ڈوبتی ناؤ کے محافظ بنا دیے گئے۔
آج شہرت کے دعویدار بانی پی ٹی آئی بادی النظر میں پارلیمان کے ذریعے اشرافیہ کا وہ مضبوط سہارا بنے ہوئے ہیں جنھوں نے اپنی اپوزیشن کے ہوتے ہوئے 26 ویں اور27 ویں ترامیم کی راہ ہموار کی اور کسی بھی سیاسی دانش کے بغیر حزب مخالف کا کردار ادا نہ کر سکے۔
آج پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بانی پی ٹی آئی کی ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے پارلیمان سے منظور شدہ آئینی ترمیم کے تحت اشرافیہ طاقتور ہو رہی ہے جب کہ بانی پی ٹی آئی کی شہرت کا گراف بھی نہایت صفائی سے گرنے نہیں دیا جا رہا۔
بانی پی ٹی آئی کی یہ سہولت کاری اور بنایا جانے والا خوف موجودہ حکومت سے وہ کام کروا چکا ہے جس پر جمہوریت نہ صرف شرمندہ ہے بلکہ لاچار سی دکھائی دیتی ہے۔