شہر قائد میں وفاقی اور صوبائی حکومت کے علاوہ میونسپل کارپوریشن کراچی بھی ترقیاتی کام کرنے یا کروانے کے حوالے سے دعوے دار ہیں تاہم صوبائی حکومت سندھ کے دیگر ذیلی ادارے یا یونین کونسلز بھی اس میراتھن ریس میں دعوۂ پذیرائی کے سلسلے میں شعلہ بیانی کرتے ہوئے کسی سے کم نہیں۔
اب عوام کے سامنے ایک طرف تو حکومتوں کی جانب سے رقم کے انباروں کے اعداد و شمار جب کہ دوسری جانب شاہراہوں پر پڑے گڑھے اور ناہموار راستے جو اپنی سچائی عوام کے سامنے کھلی کتاب کی طرح بیان کر رہے ہوتے ہیں کہ سرکاری اداروں کی عوام کے ساتھ بداعمالیاں اور بدقسمتی عوام جو کسی نہ کسی جسمانی اور مالی نقصان کو ہر روز ان اداروں کی بدبخت انتظامیہ کی نااہلی یا کوتاہی کے سبب برداشت کرنے پر مجبور ہے۔
اسکولوں کے بچے ہوں یا سفید پوش طبقہ، مزدور ہوں یا صنعتکار جب کسی سڑک سے گزرتے ہیں تو انھیں جس تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا جو اختیارات رکھنے والوں کی جانب سے دیا جا رہا ہوتا ہے کہ وہ کب ختم ہوگا اس کا علم نہ تو اختیار والوں کو معلوم ہوتا ہے اور نہ ہی عوام کو جو ہر روز اسی امید میں رہتے ہیں کہ بس چند روز اور۔
یہ باتیں لکھنے کا مطلب وہ دکھ ہیں جو روز عوام سہتے ہیں ترقی یا رینوویشن کراچی کے عوام کا حق ہے لیکن ہموار راستوں کو غیر ہموار کرنا اور سڑکوں کو کھود کر چھوڑ دینا سواری کو ایک سڑک سے دوسری سڑک تک جانے کے لیے دو یا تین کلو میٹر دور کرکے یوٹرن بنانا یہ عوام کو سہولت نہیں بلکہ تکلیف کا سبب ہے۔
ان کاموں سے مہنگائی کے آگے عوام اپنے ٹرانسپورٹ کے اخراجات کو اپنی بنیادی گھریلو ضرورتوں کے آگے زیادہ مقدم رکھنے پر مجبور ہیں کراچی میں اسکولوں و کالجوں کے علاوہ آفس جانے والے جو پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کا سہارا لیتے تھے وہ بھی اب اضافی رقم ادا کرنے پر مجبور ہیں۔
وجہ راستوں کی بندش اور سڑکوں کے درمیانی حصے کو بند کرکے طویل راستے کے بعد یوٹرن بنانا بتائی جاتی ہے جب کہ نجی ٹرانسپورٹ چلانے والوں کا عذر ہے کہ لمبے راستوں کی وجہ سے فیول کے اخراجات زیادہ ہوتے ہیں اس لیے کرایہ کی رقم بھی زیادہ رکھی جاتی ہے۔
یہاں ایک بات اور کہ کراچی میں جو شاہراہوں پر نئے منصوبے بنائے جا رہے ہیں یا بنائے گئے ہیں اس کے بارے میں نہ تو عوامی سماعت کی گئی اور نہ ہی سڑکوں کی گنجائش کے حوالے سے بتایا گیا۔
اب کیا مستقبل قریب میں نئی نجی گاڑیوں کی آمد روک دی جائے گی؟ اور جو شاہراہیں نئے منصوبوں کی وجہ سے سکڑ گئی ہیں کیا وہ اسی طرح رہیں گی؟ جہاں پر یوٹرن ختم کیے گئے ہیں وہاں کیا دوبارہ ٹرن بنائے جائیں گے؟
اور بھی سوالات ہیں فیڈرل بی ایریا کریم آباد پر ایک انڈر پاس تعمیر کیا جا رہا ہے جس کی لاگت شروع میں جو بتائی گئی وہ دسمبر 2025 میں اپنے پرانے تخمینے سے کراس کر چکی تھی اور جیسے جیسے کام کی رفتار بڑھنی شروع ہوئی تو لاگت میں بھی اضافہ شروع ہو گیا جسے عوامی زبان میں بددیانتی کہا جاسکتا ہے کیونکہ یہ پیسہ عوام کو ادا کرنا ہے۔
میں سمجھتی ہوں کہ اس کی پلاننگ کرنے والے انجینئرز کی ملی بھگت یا ناتجربہ کاری شامل ہو سکتی ہے جنھوں نے منصوبے کا درست تخمینہ نہیں لگایا یہ کوئی چند روپوں کا نہیں بلکہ کروڑوں روپے کا سوال ہے جو عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے۔
اسی طرح کراچی کے لیے پانی کی ایک اضافی لائن جسے K-4 کا نام دیا گیا ہے وہ بھی کام کے ابتدائی دور میں پچیس ارب بتایا گیا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے آج وہ جو ابھی تک نامکمل ہے خیر سے ایک کھرب کے نزدیک پہنچنے والا ہے۔
حیرت کی بات ہے چھوٹے چھوٹے کرپشن پر بڑی بڑی کمیٹیاں بن جاتی ہیں جب کہ ایسے سنجیدہ کام پر نہ تو کوئی آواز اٹھائی گئی اور نہ ہی کوئی چھوٹی یا بڑی کمیٹی تشکیل دی گئی کہ آخر یہ منصوبہ کس کی وجہ سے اپنی تخمینی لاگت کو بڑھاتے چلا جا رہا ہے۔
شہر قائد کے تعلیم یافتہ لڑکے اور لڑکیاں جن کو ان کے اپنے آبائی اور اسلام آباد جہاں ان کے لیے ملازمتوں کا کوٹہ رکھا گیا ہے جب اخبارات میں ملازمتوں کے حوالے سے اشتہارات دیکھ کر سنہرے خوابوں کے ساتھ اپلائی کرکے اپنی امیدیں باندھ لیتے ہیں تو وہ نہیں جانتے کہ اشتہارات میں دی جانے والی ملازمتوں کے فیصلے ان کے شائع ہونے سے پہلے ہی ہو چکے ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ کراچی کے شہریوں کو کئی عشروں سے اسلام آباد میں سرکاری ملازمتوں سے محروم رکھا جا رہا ہے کراچی کے عوام کے ساتھ یہی ظلم کافی نہیں بلکہ آبادکاری یا ری سیٹلمنٹ جو حکومتوں اور ان کے زیر نگرانی کام کرنے والے اداروں کو کرنا تھی ان کے ساتھ بھی دھوکہ اسکیمیں شروع کی گئیں جس میں سرکاری ادارے اور نجی کمپنیاں بھی شامل ہوئیں۔
ایک مثال کراچی ہاکس بے اسکیم ہے اس ادارے کے ایک سربراہ نے ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک اسکیم کے الاٹیز آٹھ ارب دے چکے ہیں دوسری شاہ لطیف ٹاؤن اسکیم ہے جہاں دو نمبری کرکے الاٹیز کو خون کے آنسو رلایا گیا ہے اور تیسری تیسر ٹاؤن اسکیم ہے جو ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے بنائی تھی۔
ان اسکیموں کے لیے عوام کی جیبوں سے سرکاری اداروں نے پیسہ بینکوں کے ذریعے جمع کروایا اور آج کہیں چالیس سال تو کہیں پینتیس سال تو کہیں سترہ سال ہو گئے پوری قیمت لے کر بھی قبضہ نہیں دیا گیا اور نہ ہی کوئی ترقیاتی کام کروائے گئے۔
نہ سڑک ہے نہ پانی ہے نہ بجلی ہے نہ گیس ہے نہ ہی نکاسی آب کا انتظام ہے اور تو اور ناجائز قبضے کروا کر حقیقی حق داروں کی زمینوں پر جن کے پاس کاغذات بھی ہیں وہ بے گھر اور بے آسرا ہیں۔
میں نے ان پروجیکٹ کے حوالے سے جو ریسرچ کی وہ یہ کہ جہاں جہاں پر یہ اسکیمیں بنائی گئی ہیں اگر کراچی شہر کے درمیان رہنے والے جوکہ اکثریت میں قانونی الاٹیز ہیں اور ان کو متعلقہ ادارے قبضہ دے دیں اور وہ اپنے مکانات تعمیر کرنا شروع کر دیں اور ان کو بنیادی یوٹیلیٹی سروسز کی فراہمی بھی ہو جائے تو یقیناً ان علاقوں میں جہاں پر یہ جا کر آباد ہوں گے وہاں کی ڈیموگرافی تبدیل ہو جائے گی ۔
شہر قائد میں نکاسی آب کا ایک انوکھا انتظام سڑکوں پر دیکھنے میں آتا ہے وہ یہ کہ پانی بارش کا ہو یا ابلتے گٹروں کا اس کی نکاسی ایک خود کار ایسے نظام کے ذریعے نظر آتی ہے کہ روڈ سے گزرنے والی گاڑیوں کے ٹائروں سے لگنے والے دھکے اس پانی کو دائیں بائیں کی جانب پھیلاتے ہیں اور گاڑیاں جب آگے کی طرف بڑھتی ہیں تو ان کے پریشر سے کچھ پانی آگے کی جانب بڑھتا ہے تو یوں وہ سڑکوں سے کم ہوتا دکھائی دیتا ہے اور بقیہ کام شمسی توانائی کے ذریعے جب دھوپ نکلتی ہے تو شہریوں کو سکون میسر آتا ہے۔
جب کہ شہری ادارے اپنے کام کی تشہیر ایسے کرتے ہیں کہ جیسے یہ سب انھوں نے کیا ہے یاد رہے کہ ہر سال لاکھوں روپے کے ٹینڈرز برساتی پانی کی نکاسی کے حوالے سے جاری کیے جاتے ہیں جس میں نئے انجن، پمپ، اور پائپ کی خریداری کے علاوہ فیول کے اخراجات کا تخمینہ بھی ہوتا ہے۔
میں ان تمام گزارشات کو قارئین کے سامنے رکھنے کے بعد ملک کی مقتدر قوتوں اور صاحب اختیار سے یہی درخواست کروں گی کہ سختی مسائل کا حل نہیں بلکہ تدبر اور حکمت عملی ہی نجات کا راستہ ممکن بناتی ہے۔
جدید ٹیکنالوجی نے جہاں بہت سی انسانی مداخلت کو کنٹرول کرنے کا سامان مہیا کیا ہے وہیں ہمیں بھی دور جدید کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی پالیسیاں بنانی ہوں گی ترقی کرنے کے لیے ایسے ماہرین کی خدمات حاصل کرنا ہوں گی جو اپنی ساکھ سب سے بہتر دکھا چکے ہوں۔
کیونکہ مغربی ممالک کے ماں باپ اب خود بچے پیدا کرنے کے خلاف ہوتے جا رہے ہیں لہذا ان کی صنعتوں اور کارخانوں کی مشینیں بھی خاموش ہونے والی ہیں ایسی صورتحال میں وہاں سے واپس نکلنے والوں میں ایک بہت بڑی تعداد ہمارے ان ہم وطنوں کی بھی ہوگی جن کی اکثریت روٹی روزی کی تلاش، اعلیٰ تعلیم کے حصول اور امن وامان کی خراب صورتحال کے سبب اپنی جانوں کی حفاظت کے لیے اپنا وطن چھوڑ کے نکلنے پر مجبور ہوئے۔
اب ان واپس آنے والوں کے لیے راستے ہموار کیے جائیں ظاہر ہے کہ یہ لوگ کسی تفریح یا شوق کی خاطر نہیں بلکہ ان کی بڑی تعداد روٹی روزی کی تلاش، اعلیٰ تعلیم کے حصول اور چند صوبوں میں لسانی اور فرقہ وارانہ فسادات نے انھیں وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔
ایسے وقت میں جب کہ ان کی واپسی ممکنات میں سے ہے اس صورت میں ہماری ذمے داری بنتی ہے ہماری سے مراد مجموعی قوم جس میں ارباب اختیار بھی شامل ہوں اور 2 = 1+1 کے بجائے 11 = 1 + 1 بن کے دکھائیں یعنی دو کے بدلے گیارہ بن کے دکھائیں کیونکہ یہ ہم آہنگی کامیابی کی معراج بن سکتی ہے۔