خود کفالت

اگر آپ کچرا کھلا یا کسی اور لفافے میں رکھیں تواسے نہیں اٹھایا جاتا ہے


شیریں حیدر January 18, 2026

ہمارے ملک میں اس وقت بے بہا مسائل ہیں، مسائل کے معاملے میں تو ہم مکمل خود کفیل ہیں کیونکہ بہت سے مسائل پیدا کرنے میں سراسر ہمارا اپنا کردار ہے، ہماری اپنی گارکردگی ہے اوران کا سہرا ہمارے ہی سربندھنا چاہیے۔

ان مسائل میں مہنگائی، بیروزگاری، تعلیم کا فقدان، جرائم میں اضافہ، ٹریفک کے مسائل وغیرہ ایک طویل فہرست ہے مگر ایک اہم ترین مسئلہ جو ہم سب کے لیے شرمندگی کا باعث بھی ہوتا ہے مگر ہم اس میں برابر کے حصہ دار بھی ہیں۔

یہ مسئلہ ہے ملک میں جابجا پھیلے ہوئے کوڑے، گندگی اور غلاظت کے ڈھیر، ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ یہ سارا کچرا ہمارے ہاں انڈیا سے آتا ہے یا امریکا نے سازش کی ہے اور اس کا کچرا بھی ہمارے ملک میں آرہا ہے، افغانستان سے یہ کچرا اسمگل ہو کر آتا ہے یا کسی بھی ہمسایہ ملک پر ذمے داری نہیں ڈالی جا سکتی ہے۔ ہم مانیں یا نہ مانیں، ہم خود اس کے ذمے دار ہیں۔

ملک کے چند بڑے شہروں اور ان کے بھی کچھ علاقوں میں یہ سہولت موجود ہے کہ ہمارے گھروں کا کچرا اٹھانے والی گاڑی آتی ہے، کچرے کو جمع کرنے کے لیے مغربی ممالک کی طرح یہاں بھی گھروں میں ماہانہ بنیادوں پر بڑے سائز کے لفافے ، قیمت وصول کر کے مہیا کر دیے جاتے ہیں اور ہر روز کا کچرا ان میں ڈال کر گھر سے باہر لگے ہوئے ڈبے یا ٹوکری میں رکھ دیا جاتا ہے اوربڑی گاڑی آکر اٹھا کر لے جاتی ہے۔

اگر آپ کچرا کھلا یا کسی اور لفافے میں رکھیں تواسے نہیں اٹھایا جاتا ہے۔ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ آپ کو یہ شعور آئے کہ آپ کمپنی کے لفافوں کے علاوہ یوں رنگ برنگے لفافوں میں کچرا نہیں رکھ سکتے ، یا تو آپ زیادہ لفافے خرید لیا کریں یا اپنے گھر کا کچرا کم کریں۔

اس پر آپ سوچیں گے کہ کیسی عجیب سی تجویز دی ہے ، کچرا تو وہی ہو گا جو ہو گا ، اسے کم کیسے کیا جا سکتا ہے، یہ نکتہ اس سارے قصے میں سب سے اہم اور آج کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ساری گاڑیاں ان گھروں، دفاتر اور اداروں کا سارا کچرا کرکٹ ایک جگہ سے اٹھا کر کسی اور جگہ جا کر جمع کر دیتے ہیں، ان جگہوں پر یہ پہاڑ بنے ہوئے ہیں اور اس کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔ غلاظت کے یہ ڈھیر وقت کے ساتھ ماحولیاتی آلودگی اور بدبو پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

کیا ہم جانتے ہیں کہ ہم اپنے گھروں میں سے جو کچھ ان کچرے کے تھیلوں، لفافوں ، ٹوکریوں یا ڈبوں میں ڈالتے ہیں وہ سب کچھ بالکل بیکار اور فالتو نہیں ہوتا۔ سب سے بری بات تو یہ ہے کہ جہاں من چاہے وہاں کچرا پھینک دیا جائے۔

یہ بد تہذیبی کی اولین نشانی ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ آپ کو نہ صرف دوسروں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے بلکہ اپنے ساتھ اور اپنے ملک کے ساتھ بھی ہمدردی نہیں ہے۔ آپ کا ملک اگر صا ف ستھرا نہیں ہو گا تو آپ کو سننا پڑے گا کہ آپ کا ملک غلاظت اور گندگی کی فہرست میں اوپر کے نمبروں میں آتا ہے اور یہ کوئی اچھی شناخت نہیں ہے۔

ہم سب کس طرح قصور وار ہیں کہ ہمیں کچرے کو تلف کرنے کے درست طریقوں کا شعور ہی نہیں ہے۔ چلیں اس بات کو آج زیر بحث لاتے ہیں۔ گھروں ، دفاتر اور اداروں میں کس نوعیت کا کچرا ہوتا ہے، اس میں شامل ہوتے ہیں پلاسٹک یا شیشے کے ٹکڑے، پلاسٹک کے لفافے، ڈائپر اور دیگر اشیاء، بچا ہوا یا خراب شدہ کھانا ، لکڑی، کاغذ اور کپڑوں کے ٹکڑے، سبزیوں اور پھلوں کے چھلکے یا گلا سڑا پھل اور خراب سبزیاں -

ان میں سے شیشے اور پلاسٹک کی اشیاء ایسی ہیں کہ آپ خود سے ان کا کوئی استعمال نہیں کرسکتے لیکن بہت سے لوگ ہیں جو پلاسٹک اور شیشے کی بوتلوں کو کسی نہ کسی آرٹ پروجیکٹ میں استعمال کرتے ہیں یا انھیں سجا کر ان میں پودے لگاتے ہیں۔ (جاری ہے)

مقبول خبریں