پاکستان کے جنوب مشرقی کونے میں واقع تھرپارکر، ایک منفرد اور رنگین علاقہ ہے جو ہر سیاح کو ایک بار لازمی دیکھنا چاہیے۔
آج کل ملک میں کڑاکے کی ٹھنڈ پڑ رہی ہے لیکن کچھ دن بعد دن کھل جائیں گے اور تھرپارکر جانے کے لیے یہ دن بہترین ہیں کیوںکہ مئی تا ستمبر اس خطے میں اچھی خاصی گرمی پڑتی ہے۔ ہلکی سردیوں میں نہ صرف موسم خوش گوار ہوتا ہے بلکہ تھر کی اصل خوبصورتی بھی پوری آب و تاب سے سامنے آتی ہے۔
ہم نے بھی گذشتہ سال کے اوائل دسمبر میں دوبارہ تھر دیکھنے کا پروگرام بنایا اور دو ماہ پہلے سے سب دوستوں کو چوکنا کر دیا ورنہ وقت پہ سب بھاگ جاتے ہیں۔
اس سفر میں ہم چھے لوگ شامل تھے۔ پروگرام کے مطابق سب سے پہلے پروفیسر کاشف علی صاحب (شعبہ تاریخ، یونیورسٹی آف گجرات) تیزگام ایکسپریس پر گجرات سے سوار ہوئے۔ اس کے بعد عمران احسان بھائی (معلم، محقق، فوٹوگرافر) اور عبدالوہاب (بزنس مین، فوٹوگرافر) نے گجرانوالہ سے انہیں جوائن کیا۔ لاہور پہنچنے پر شجاعت علی (میکاٹرونکس ڈیپارٹمنٹ، یو ای ٹی) و محمد شعیب ( محقق و تاریخ داں) بھی اس ٹرین پر سوار ہوئے۔ رات کو تیزگام جب خان پور پہنچی تو مابدولت نے ہمراہ عشائیہ ٹرین کو رونق بخشی اور ٹرپ کا کورم پورا ہوگیا۔
اگرچہ ہوٹل بکنگز ہوچکی تھیں اور آگے سفر کی گاڑیاں ہماری بُک تھیں لیکن ایک بار پھر دوستوں کو سارا پلان بتایا۔
الحمدللّہ، میرے پانچوں کے پانچوں ساتھی سفر کے حوالے سے بڑے تجربے کار ہیں اور ہر چیز کو سمجھتے ہیں تو معاملات فوراً سمجھ گئے۔
صبح کوئی ساڑھے آٹھ ، نو بجے ٹرین نے ہمیں حیدرآباد میں اتار دیا جہاں سے ہمارا سفر شروع ہونا تھا۔
پہلا دن
سب سے پہلے منان ہوٹل پر بھرپور ناشتہ کیا گیا جس نے لاہور کے ناشتے کو بھی مات دے دی۔ اس کے بعد ہم بُک کروائی گئی ہفت نشستی گاڑی پر مٹھی کی طرف روانہ ہوئے۔ سب سے پہلے نوکوٹ کے قریب سید رضی شاہ درگاہ کا دورہ کیا۔ اس سے کچھ آگے قلعہ نوکوٹ واقع تھا۔ دو سو سال سے بھی زیادہ قدیم اس قلعے کو دیکھنے کے بعد شام تک ہم مٹھی پہنچ گئے۔
مِٹھی میں وہاں کا سب سے بڑا مندر شوالیہ مندر دیکھا، تب تک مغرب ہوچکی تھی۔ وہاں پر ایک ہندو جوڑے کی شادی بھی ہورہی تھی جس کی وجہ سے وقت زیادہ لگ گیا۔ کھانے کے لیے مشہور ڈائمنڈ ہوٹل پہنچے جہاں پنیر کے پکوانوں کی دعوت اڑائی۔ یہاں پنیر کے بہت لذیذ پکوان ملتے ہیں جیسے پالک پنیر، پنیر کڑاہی وغیرہ۔ مٹھی میں قیام کے لیے میں نے گاڈی بھٹ پر مونال ہوٹل بک کروایا تھا کہ اس جگہ کا اصل مزہ ہی اس کی رات کی وائب ہے۔ رات کے وقت مٹھی کا شان دار نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے جسے دیکھنے شہر کے لوگ جوق در جوق آتے ہیں۔ بھرپور انجوائے کرنے کے بعد گیارہ بجے تک ہم سو گئے۔
دوسرا دن
گاڈی بھٹ سے ہم صبح روانہ ہوئے، ناشتہ وہیں مٹھی کے اس ہوٹل پر ہی کیا جو ہمارا پسندیدہ ہوٹل بن گیا تھا۔ ناشتے کے بعد ہم سب سے پہلے اسلام کوٹ پہنچے جہاں سنت نینو رام آشرم اور اس کے قریب ہنگلاج مندر کا دورہ کیا۔ یہ جگہ ایک کمپلیکس ہے جہاں مندر، سمادھیاں، ہالز اور بہت کچھ ایک ہی جگہ واقع ہے سو وقت زیادہ لگ گیا۔ یہاں بھی دو تین شادیاں ہورہی تھیں۔ اس کے بعد گوری کا قدیم جین مندر اور گاؤں کے گھر دیکھے۔ پھر بھالوہ گاؤں میں ماروی کا کنواں تھا جہاں ہم نے زیادہ ٹائم نہیں ضائع کیا اور اس کے آگے ویراواہ کے جین مندر پہ پہنچ گئے۔
کاجل جھیل کے کنارے واقع ویرا ہوا کا جین مندر کیوںکہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا سو یہاں پر ہم نے آرام سے ایک سوا ایک گھنٹہ گزارا اور اسی گاڑی پر ہم جا پہنچے بھوڈیسر میں واقع کارونجھر گیسٹ ہاؤس۔ یہاں چیک ان کیا، فریش ہوئے اور اسی گاڑی پر ہم بھوڈیسر کی مسجد جا پہنچے۔ گاڑی کو الوداع کیا اور قریب قریب واقع اس کمپلیکس کو پیدل دیکھا۔
مغرب ہونے کو تھی اور ہمارے پاس وقت کم تھا سو یہاں پر ہم سب پھیل گئے۔ ہر بندے نے اپنے حساب سے ان چار مانومنٹس کو کور کیا جن میں ایک مسجد اور تین مندر شامل ہیں۔ جین مندر ایک دو اور تین کو ڈاکومنٹ کرتے کرتے سورج چھپ گیا۔ مغرب سے پہلے پہلے ہمارے تینوں مندر کور ہوچکے تھے۔ یہیں پر ہمیں سندھ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کا ایک اہلکار ملا جس نے بتایا کہ یہاں قریب ایک اور ہندو مندر ہے۔ اس کے ساتھ ہم گئے تو ایک پرانے پتھر سمیت ہمیں ایک اور مندر دکھایا۔
اسی طرف ایک روشنی نظر آئی تو ہم وہاں چل دیئے۔ معلوم ہوا یہ ’’لاہوتی آشرم‘‘ ہے جو ہماری لسٹ میں بھی شامل تھا۔ یہ اس دن کی ہماری آخری اٹریکشن تھا جہاں پہنچتے ہمیں رات ہوگئی تھی۔ اس کے بعد ہم گیسٹ ہاؤس آئے، کھانے اور نماز کے بعد چائے پی اور سوگئے۔
اگلے دن کے لیے جیپ اسی رات بک کروا لی گئی تھی۔
تیسرا دن
تیسرے دن صبح اٹھے ناشتہ وہیں گیسٹ ہاؤس میں کیا تیار ہوئے اور جیپ میں سوار ہوگئے۔ پہلے نگرپارکر کے مشرق میں واقع رنپور ڈیم کی جھیل پر رکے اور پھر اسی جیب پر ہم چوڑیو مندر پہنچے جو پاکستان بھارت کی سرحد پر رن آف کچھ کے ساتھ تھا۔ یہ مندر تین طرف سے بھارت میں گھرا ہوا ہے۔ چوڑیو مندر کیوںکہ ہماری اس دن کی مین ہائی لائٹ تھا سو اس کو ہم نے تسلی سے دیکھا۔
اس کے بعد صحرا کے اندر ہی اندر چِتراسر اور سُوراچند گاؤں سے ہوتے ہوئے ہم کاسبو جا پہنچے۔ جنوب کا آخری علاقہ کاسبو، موروں کا گھر کہلاتا ہے۔ یہاں پہ راما پیر کا مندر واقع ہے۔ کاسبو اور نگرپارکر میں مسکین جہان خان کھوسو عجائب گھر سے ہوکے جین مندر پہنچے۔ جین مندر کی بہترین عکاسی کرنے کے بعد قریب ہی ایک دیسی ہوٹل پر ہم نے چائے پی اور واپس اپنے گیسٹ ہاؤس پہنچے۔

چوںکہ میں چاہتا تھا کہ کم وقت میں اپنے دوستوں کو زیادہ سے زیادہ تجربات کروا دوں تو ہم نے اس دن کے لیے روپلو کولہی ریزورٹ میں بکنگ کروا رکھی تھی۔ یہاں سے ہم نے اپنا سامان سمیٹا چیک آؤٹ کیا اور رکشہ کروا کے روپلو پہنچے جو یہاں سے قریب ہی تھا۔
یہ تھرپارکر میں سندھ ٹوارزم ڈیپارٹمنٹ کا شان دار ریزاٹ ہے جس کے ریٹس بھی مناسب ہیں۔
فریش ہونے کے بعد یہیں پر ڈنر کیا اور چائے پی۔ کافی دیر تک تھر کی ہلکی سی خنکی میں گپ شپ کی اور اگلے دن کی پلاننگ کرکے سو گئے۔
چوتھا دن
اس کے بعد اگلے دن صبح اٹھے تیار ہوئے اور چائے کا آرڈر دے کر بیٹھ گئے۔
چائے ابھی بن ہی رہی تھی کہ سامنے مٹھی کی بس گزری۔ اس کے بعد دوسری بس چوںکہ لیٹ تھی تو ہم نے اسی بس کو پکڑنے کا فیصلہ کیا۔ جلد سے جلد بل کلیئر کیا اور بھاگم بھاگ اس پر سامان رکھا اور بیٹھ گئے۔ اس دوران میری چائے رہ گئی جس کا افسوس رہے گا، اس کے بغیر ہوش جو نہیں آتا۔
صبح ساڑھے سات بس وہاں سے نکلی اور ٹھیک ساڑھے دس بجے اس نے ہمیں مِٹھی پہنچا دیا۔ مٹھی کے اڈے پر ہی ہم نے دستی عمر کوٹ کے لیے اے سی (وہاں گرمی تھی) گاڑی بک کروالی اور اپنے پسندیدہ ہوٹل پر آئے۔ پنیر کڑاہی اور پالک پنیر سے آخری بار انصاف کیا اور عمر کوٹ کی طرف روانہ ہوگئے۔
یہاں سے عمر کاٹ کی سڑک صحرا میں سے گزرتی تھی اس سفر کو تمام دوستوں نے خوب انجوائے کیا۔
عمرکوٹ میں ہم نے غوثیہ ریسٹ ہاؤس بک کروا رکھا تھا جو بہت شان دار تھا۔ میرے مطابق قیام کے حوالے سے ہمارے ٹرپ کی سب سے زبردست جگہ یہی تھی جہاں ایک جدید طرز کے گوپہ (جسے مقامی گل جی کہتے ہیں) نما کمرے میں ہم رہائش پذیر تھے۔ فریش ہوئے اور اسی گاڑی والے کے ساتھ عمرکوٹ قلعہ پہنچ گئے۔ قلعہ عمرکوٹ اور اندر واقع میوزیم دیکھنے کے بعد اکبر کی جائے پیدائش پہنچے اور راستے میں آنے والی عبدالرحیم گرہوڑی لائبریری کا وزٹ کیا جس کے بعد شہر سے کوئی پانچ کلومیٹر دور واقع سیو مندر جا پہنچے۔ یہاں بھی ہمیں کچھ دولہے مل گئے۔ تھر میں یہ موسم شادیوں کا موسم ہوتا ہے سو ہر سو دولہوں کی بہار تھی۔ مندر کی ڈاکومنٹیشن کرتے کرتے مغرب ہوگئی۔
مغرب کے بعد ہم عمر کوٹ پہنچے۔ چوک میں ہی ایک دیسی ہوٹل سے لذیذ کھانا کھایا اور پیدل چل کے اپنے ریسٹ ہاؤس پہنچ گئے جو زیادہ دور نہیں تھا۔
یہاں ہمیں اپنے سفر کی سب سے زیادہ ٹھنڈی رات ملی۔
پانچواں دن
اگلا دن ہمارے لیے سب سے مشکل تھا کیوںکہ اس کی پلاننگ حتمی نہیں تھی۔
اس دن کے لیے میں نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم تھر میں ٹرین کا سفر کریں گے اور دھورو نارو سے ماروی ایکسپریس پر میرپورخاص جائیں گے۔ ہمیں عمرکوٹ کے قریب جو اسٹیشن پڑ رہا تھا وہ دھورونارو تھا جو بتیس کلومیٹر دور تھا۔ وہاں پہنچنا اور ٹرین وقت پر پکڑنا دوستوں کی تیزرفتاری اور ہماری قسمت پر منحصر تھا۔ سو صبح صبح سب کو اٹھایا، جلدی سے تیار ہوئے اور اللّہ کا نام لے کر نکل پڑے۔ اڈے پر پہنچے تو نہ بندہ نہ بندے کی ذات۔ ایک سوزوکی والے سے فوراً تین ہزار میں بات ڈن کی اور عمرکوٹ سے لگ بھگ چالیس منٹ دور شمال مغرب میں دھوڑونارو پہنچ گئے۔ سارا راستہ میں دعا کرتا آیا کہ ٹرین لیٹ ہوجائے لیکن شاید تاریخ میں پہلی بار کوئی پاکستانی ٹرین بالکل وقت پر پہنچ رہی تھی۔
ابھی ہم اسٹیشن پر پہنچے ہی تھے کہ ماروی ایکسپریس کی سیٹی کی آواز آئی۔ ہمارے وزیرخزانہ عبدالوہاب نے فوراً ٹکٹ لیے اور ہم ٹرین پر سوار ہوگئے۔ اس وقت احساس ہوا کہ انسان اگر دل سے کچھ کرنا چاہے اور کوشش کرے تو کچھ بھی ممکن ہے۔
دھورو نارو سمیت مختلف تاریخی اسٹیشن دیکھے جن میں پتھارو، عبداللّہ آباد، بلوچ آباد اور جمڑاؤ شامل ہیں۔
صبح ساڑھے دس بجے کے آس پاس ہم میرپورخاص پہنچے۔ اچھے طریقے سے ریلوے اسٹیشن کور کیا اور ناشتے کے بعد دستی سیون سیٹر بک کروا کے ہم نے میرپورخاص کے شمال میں واقع تالپوروں کے قبرستان کا راستہ ناپا۔ یہ چتوڑی میں واقع ہے۔ ڈیڑھ گھنٹہ وہاں پہ گزارنے کے بعد ہم میرپورخاص اور ٹنڈوالہ یار سے ہوتے ہوئے حیدرآباد پہنچے۔
حیدرآباد پہنچ کر ہم نے میرن جو قبا نامی تالپوروں کے مقبروں کا کمپلیکس وزٹ کیا جہاں ہمیں شام ہوگئی۔ اس کے بعد ہم ریلوے اسٹیشن کے پاس واقع اپنے ہوٹل میں آئے اور فریش ہوکر نماز پڑھی پھر ڈنر کو نکلے۔ رات کے کھانے کے لیے ہماری پسندیدہ ترین جگہ اسٹیشن کے پاس حیدرآباد کی بریانی تھی جس کے لیے سب دوست اتاؤلے ہورہے تھے۔
حیدرآباد کی مسالے دار بریانی سے بھرپور انصاف کرنے کے بعد ہمارے پاس وقت بچتا تھا تو ہم نے تاریخی بمبئی بیکری کا رخ کیا۔ وہاں سے مشہور کافی کیک خریدے اور اس کے بعد چائے پی۔
یہاں میرا سفر اختتام کو پہنچا۔ رات کی تیزگام، سیون اپ نے مجھے خان پور لا اتارا۔ بقیہ دوستوں نے اگلے روز شہداد پور، بھٹ شاہ، اور ہالہ گھومنے کے بعد رات اسی ٹرین پر واپسی کا قصد کیا۔