میرے ہاتھ میں دو کتابیں ہیں اور دوسری طرف ڈاکٹر اکرام الحق یٰسین کا سنجیدہ و متین چہرہ جس پر ہلکا سا تبسم، محبت بھری امید اور شائستگی کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔
یہ موقع مطالعہ دستوریات پاکستان پر بات کرنے کا ہے لیکن میری توجہ مصنف پر ہے تو اس کا سبب معقول ہے۔ اسباب میں ایک آدھ بات ناگفتنی بھی ہے جسے حذف کرتے ہوئے میں براہ راست اس بات پر آتا ہوں جس کا تعلق میری ذات سے ہے۔ میری ذات سے اس کتاب کا تعلق یوں ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے سلسلہ کتب کی پہلی دو کتابیں میرے پاس رکھے رکھے پرانی ہونے لگیں تو وہ خود ہی کہیں آگے پیچھے ہو گئیں۔ شریف آدمی وعدہ پورا کرے نہ کرے، شرمندہ ضرور ہوتا ہے۔ اب میں شرمندہ ہوا۔ شرمندگی کی وجوہات کا نہ پوچھئے، یہ دفتر کھلا تو گویا دبستاں کھل جائے گا۔ بس، ایک واقعہ سن لیجیے۔
یہ واقعہ کچھ پرانا تو ہے لیکن بر محل ہے۔ شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی میں ابلاغی علوم کے موضوعات پر ایک بین الاقوامی کانفرنس میں کسی جامعہ کے ایک استاد شریک ہوئے۔ وہ ہر ایسی محفل جہاں کوئی سنجیدہ بات ہو رہی ہوتی، ایک فرمان جاری کر کے اٹھ جاتے کہ یہاں بڑی علم ناک باتیں ہو رہی ہیں۔
ان کی ظرافت طبع کی داد آپ ضرور دیں کہ کس طرح انھوں نے الم ناک کی رعایت سے علم ناک کی ترکیب ایجاد کر کے مزاح پیدا کیا لیکن اس کے ساتھ ہی پاکستانی قوم کی علم ناکی پر بھی توجہ فرمائیں جس نے آئین، قانون جیسے مسائل کو جو قوموں کی زندگی میں شہ رگ جیسی اہمیت رکھتے ہیں، اٹھا کر طاق پر رکھ دیا کہ یہ علمی باتیں ہیں، ان سے علم والے ہی نمٹیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان قریباً ایک دہائی تک سرزمین بے آئین رہا پھر خدا خدا کر کے آئین بن گیا تو قاعدے قانون ہمیں راس نہ آئے، یوں ہم نے اسے بہ یک جنبشِ قلم، قلم زد کر دیا۔ اس کے بعد تو ہمارے دیس میں وہ دھما چوکڑی مچی جس کے آفٹر شاکس سے ہم آج بھی لرزاں و ترساں ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ہمارے یہاں آئین بروقت بن کیوں نہ سکا اور شومیِ قسمت سے بن گیا تو کیوں برقرار نہ رہ سکا؟ دو سوال تو یہ ہیں۔ میرے الجھے ہوئے ذہن میں ایک سوال اور بھی ہے، یہ تیسرا سوال ہے۔ تیسرا سوال یہ ہے کہ پچیس تیس برس کی اٹھا پٹخ کے بعد بالآخر وہ آئین وجود میں آ گیا جو آج بھی ایک زندہ وجود رکھتا ہے اور بہت سی کٹھنائیوں سے ثابت و سالم ہمیں نکال لاتا ہے۔ اس کے باوجود کبھی یہ آواز اٹھتی ہے کہ اس آئین نے ہمیں دیا کیا ہے اور یہ کہ یہ تو ناکام ہو چکا، اب ایک نئے آئین کی بنا ڈالیے۔ سوال یہ ہے کہ آئین جیسی مقدس دستاویز کے ضمن میں ہمارا یہ رویہ کیوں ہے؟
آئین کے باب میں ہمارے کھلنڈرے مزاج کی اتنی کیفیات بیان ہو چکی ہیں تو لگے ہاتھوں ایک سوال اور بھی برداشت کر لیں۔ پاکستان کو وجود میں آئے پون صدی سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ یہ ملک کیا ہے اور کیوں ہے، اس کی تفصیلی وضاحت اس کے آئین میں درج ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے بہت سے طبقات میں ایک سوال آج بھی موجود ہے کہ آخر اس ملک کی ضرورت ہی کیا تھی؟ ہمارے خوابوں کی اس سرزمین سے کبھی کوئی ایسا شہ دماغ بھی اٹھتا ہے جو اس ملک کے قیام کو کسی استعماری قوت کی خواہش بنا دیتا ہے اور کسی کے ذہن میں یہ الجھن پیدا ہو جاتی ہے کہ اگر جمہوریت کو ہم نے بہ طور نظام اختیار کر لیا تو یہ بتائے کہ پھر اللہ کی حاکمیت اور اس کے ناقابل تنسیخ احکامات کا مستقبل کیا ہو گا؟
سوالات تو کچھ اور بھی ہیں لیکن اگر ہم ان سوالوں کے جوابات تک بھی پہنچ جائیں تو میرے خیال میں بہت سے عقدے سلجھ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا ارادہ ہو نہ ہو، مجھے ان کی کتابوں سے ان سوالوں کے کچھ جواب ملے ہیں۔ اسی وجہ سے مجھے یہ کتابیں عزیز ہیں۔
قیام پاکستان کے بعد اس ملک کو جو پہلا چیلنج درپیش ہوا، اس کا تعلق اسی تنازعے سے ہے جو آج بھی ہمیں پریشان کر رہا ہے یعنی اٹک تک کے علاقے کی ملکیت کس کے پاس ہے، پاکستان کے پاس ہے یا اس کا اصل مالک افغانستان ہے؟ ایپی فقیر ہمارے قبائلی علاقوں میں ایک اساطیری کردار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے دنیا کی پہلی نظریاتی اسلامی ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے اور بہ زعم خود قبائلی علاقوں میں اسلامی ریاست قائم کر دی۔ اس کھیل کے پس پشت بھارت اور افغانستان تھا یا پھرہمارے نسل پرست پاکستانی جنھیں پاکستانی بننے میں زمانہ لگ گیا۔ یہ واقعہ کئی پہلوؤں سے الجھا ہوا بھی ہے اور ہمارے کئی سوالوں کے جواب بھی فراہم کرتا ہے۔
اس حقیقت میں تو کوئی شبہ نہیں ہے کہ ہمارے یہاں آئینی مباحث بہت رہے ہیں۔ اس موضوع پر کتابیں بھی بہت لکھی گئی ہیں لیکن پاکستان میں آئین کو عزت و حرمت کیوں حاصل نہ ہو سکی اور یہ ملک طویل عرصے تک سرزمین بے آئین کیوں رہا، اس کا کوئی براہ راست جواب ہمیں آج تک نہیں مل سکا۔
میرے اس مؤقف پر یہ اعتراض جائز ہو گا کہ ایسا نہیں ہے جس کسی نے بھی اس موضوع پر کام کیا ہے، اس نے بتا دیا ہے کہ یہ جرم آمروں کا ہے۔ یہ اعتراض درست ہے اور یہ تشخیص بھی غلط نہیں کہ یہ سب آمروں کا کیا دھرا ہے لیکن ایک جرم اس سے بھی پہلے ہو چکا ہے جس سے ڈاکٹر اکرام الحق یسین کی کتابیں پردہ اٹھاتی ہیں۔
ہمارے یہاں بانیان پاکستان کی فہم و فراست پر سوال اٹھانے والے بہت ہیں۔ ان بزرگوں پر ایک اعتراض یہ ہے کہ انھوں نے پاکستان تو بنا دیا لیکن بغیر مناسب ہوم ورک کے بنایا۔ ہوم ورک والی بات کا تعلق اسی موضوع سے ہے جو یہاں زیر بحث ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا مطالعہ دستوریات پاکستان بتاتا ہے کہ تحریک آزادی کے زمانے میں بہت سے اہل علم متحرک ہوئے تاکہ پاکستان کے آئین کے بارے میں ہوم ورک کیا جا سکے۔ نہ صرف ہوم ورک کیا جا سکے بلکہ ایک مناسب مسودہ بھی تیار کر لیا جائے لیکن اس کوشش کا حشر کیا ہوا؟ یہ کہانی ڈاکٹر صاحب نے بیان کر دی ہے۔
ہر وہ بزرگ جس سے اس بڑے کام کی توقع رکھی گئی، بدقسمتی سے وہ اس کی اہمیت سے آگاہ نہیں تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ بتا دیا ہے کہ ہمارے ان بزرگوں نے آئین پر اپنے مقاصد کو اہمیت دی اور کوئی نہ کوئی عذر کر کے اس کام سے علیحدہ ہو گئے۔ تو یہ کتاب ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اول ہم آئین کی اہمیت کو اس طرح کبھی سمجھ نہ سکے جو اس کا حق ہے۔ دستور کو نہ سمجھ سکے تو پاکستان کو کیسے سمجھتے؟ یوں گویا یہ کتابیں مطالعہ دستوریات سے بڑھ کر مطالعہ پاکستان کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے مطالعہ پاکستان کی اصطلاح ہمارے یہاں متنازع اور بدنام ہے، اس لیے میں ڈاکٹر صاحب کے لیے بہت سی نیک دعاؤں کے ساتھ اسی پر بس کرتا ہوں۔