فکر کو تبدیل کیجیے!

عام آدمی کی حالت ‘ نہ پہلے کبھی بہتر تھی اور نہ ہی آج اس کی بہتری کے امکانات ہیں۔


راؤ منظر حیات January 19, 2026

چندر گپت موریا اور اشوک کے زمانے سے برصغیر کے معاملات کا احاط کیجیے۔ چند اجزاء مسلسل ایک جیسے نظر آئیں گے۔ پہلی بات تو یہ ‘ کہ دولت اور اقتدار ہمیشہ ایک ہی شخص یا اس کے نزدیک ترین لوگوں کے درمیان رہا ہے۔ خاندانی بادشاہت ہمیشہ قائم و دائم رہی ہے۔ یعنی پورے ہندوستان میں دھن‘ دولت اور اقتدار‘ صرف اور صرف چند خوش قسمت افراد کے ہاتھ میں رہا ہے۔

آٹھ نو صدیاں پہلے‘ حکومت ‘ ان مسلمانوں کے ہاتھ میں چلی گئی جن کا اس علاقہ سے دور دور تک کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کے مزاج شاہی اورپہلے کے حکمرانوں میں رتی بھر بھی فرق نہیں تھا۔ داد عیش اور ذاتی آرام کے سوا ‘ان کا مقصد حیات کچھ بھی نہیں تھا۔ تنقیدی نظر سے دیکھیں‘ تو ہندو اور مسلمان بادشاہوں کے طرز حکومت اور رہن سہن میںکوئی خاص فرق نہیں تھا۔ ڈھائی ہزار برس سے برصغیر میں حکمرانوں کی سطح پر کوئی جوہری تبدیلی نہیں آئی۔ بلکہ کسی بھی بدلاؤ کے امکانات کی مکمل بیخ کنی کی گئی ہے۔ وہی حکمرانوں کے محلات‘ ان گنت کنیزیں ‘ دن اور رات کے شاہانہ شوق اور عام لوگوں سے دوری‘ سب کچھ بغیر کسی تبدیلی کے جاری ہے۔ اور آج بھی وہی حالات ہیں۔ دوسری بات‘ بھی حد درجہ اہم ہے ۔

عام آدمی کی حالت ‘ نہ پہلے کبھی بہتر تھی اور نہ ہی آج اس کی بہتری کے امکانات ہیں۔ دہلی‘ جو عرصہ دراز سے دارالحکومت رہا ہے، اس میں کیا تھا؟ بادشاہ کا لال قلعہ ‘ چند فقید المثال مقبرے ‘ سطوت شاہی کے چند نشانات ‘ اس کے علاوہ ‘ عام آدمی کے لیے کیا سہولتیں تھیں؟دہلی کی کم از کم ایک ہزار سالہ تاریخ تو موجود ہے۔ خود ملاحظہ فرما لیجیے۔ عوام کے لیے‘ کچی پکی ‘ سڑکیں‘ گلیاں‘ نکاسی آب کا بوسیدہ سا نظام‘ بے ڈھنگے بازار‘ سرکاری اعمال کی چیرہ دستیاں اور ایک ایسا رہن سہن‘ جس میں سہولتیں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ہاں‘ لال قلعہ میں ہر دن اور رات ‘جشن ہوتا تھا۔ عام آدمی کا بے حد ابتر حال تھا۔ حکمران طبقے اور عام لوگوں میں ہزاروں نوری سال کا فرق تھا۔جدید سائنسی تعلیم کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

عام مسلمانوں کی صورتحال تواس قدر دگر گوں تھی‘ کہ مذہبی درسگاہوں کے علماء نے جدید تعلیم اور ایجادات کو حرام قرار د ے رکھا تھا۔مطلب یہ کہ عوام کو علم کے نزدیک نہ آنے کی بھرپور سرکاری جدوجہد تھی۔ جو اپنی تئیں مکمل طور پر کامیاب تھی۔ تیسری بات بھی اہم ہے۔ مسلمان بادشاہوں نے‘ اس امر پر بہت توجہ دی تھی کہ مذہبی تعلیم کو تعلیم قرار دے دیاجائے۔ مسلمان بچے کیا پڑھتے تھے؟ یہ حد درجہ اہم بات ہے۔ دین کے بنیادی نکات‘ لسانیات‘ چند مخصوص تاریخی کتب‘ اور پھر اسی پر ناز ہوتا تھا ۔ ہاں! اپنے وقت کے حساب سے چند تعلیمی درسگاہوں کے نشانات ضرورت ملتے ہیں۔ جس میں ٹیکسلا کی یونیورسٹی کا نام آتا ہے۔ گزشتہ ایک ہزار برس کو تو چھوڑیئے ۔ ذرا تین سو برس پہلے کے معاملات کو پرکھیے۔ مغربی دنیا ایک بے مثال سائنسی اور صنعتی ترقی کے دورسے گزر رہا تھا۔ نت نئی ایجادات ہو رہی تھیں۔ فلسفی‘ عام انسان کی بہتری اور مساوات کے متعلق سنجیدہ ترین بحث کر رہے تھے۔

یونیورسٹیاں اور اسکول قائم ہو رہے تھے۔ حکمرانوں کو ضابطہ میں لانے کے لیے آئین سازی کی جا رہی تھی۔ نئے اقتصادی نظام کی داغ بیل ڈالی جا رہی تھی۔ مغرب مکمل طور پر جمود سے مبرا ہو رہا تھا۔ وہاں علم ‘ تحقیق ‘ انسانی حقوق اور سائنس کا سنہرا سورج طلوع ہو چکا تھا۔ مگر اس جدت کو برصغیر میں خصوصاً مسلمان‘ خوف اور شک کی بنیاد پر دیکھ رہے تھے اور مسلمانوں کو مزید قدامت پسندی کی راہ دکھا رہے تھے۔ انگریزی زبان تک کو حرام قرار دے دیا گیا تھا۔ مسلمان‘ جدت پسندی سے گھبرا رہے تھے ۔ اس میں کلیدی کردار ‘ ہمارے مذہبی طبقہ کا تھا۔ جن کی اجارہ داری خطرے میں پڑ چکی تھی۔ سرسید احمد خاں وہ واحد شخص تھے۔ جنھوںنے مسلمانوں کو جدید تعلیم کے نزدیک لانے کی کوشش کی ۔ مگر انھیں غلیظ القابات سے نوازا گیا۔

ہر سطح پر ان کی بھرپور مخالفت ہوئی۔ گلستان بوستان پڑھنے کو ہی تعلیم کادرجہ دینے والوں کی تمام فکری اساس ‘ سرسید احمد خان نے دھڑام سے زمین بوس کر دی۔ مسلمان نوجوان کو انگریزی سیکھنے کی ترویج دی۔ علی گڑھ کالج اور یونیورسٹی میں مسلمان بچوں کے لیے جدید تعلیم کے تمام انتظامات کیے گئے۔ آہستہ آہستہ مسلمانوں کو سمجھ آ گئی کہ وہ جدید دنیا سے کتنے پیچھے رہ چکے ہیں۔ ان میں سے اکثریت نے ماڈرن علوم کی طرف توجہ دینی شروع کر دی۔ اسکے بالکل برعکس‘ ہندؤ بہت پہلے سمجھ چکے تھے کہ انگریزوں کی حکمرانی سے فائدہ کیسے اٹھایا جائے؟ ان کا طرز عمل ہم سے بہت مختلف تھا۔ ان کے مذہبی پیشواؤں نے ہندوؤں کو جدید علوم حاصل کرنے کا حکم دیا۔ وہ مذہب جس میں سمندر پار جانا‘ گناہ کبیرہ بتایا جاتا تھا۔ اسی مذہبی فکر کے پیروکاروں نے ان گنت تعداد میں مغربی یونیورسٹیوں میں جانا شروع کر دیا۔ ہندو خواتین نے بھی جدید تعلیم اور طرز فکر کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ اور اس طرح ہندو اپنے ہم عصر مسلمانوں سے ہر لحا ظ سے بہت آگے نکل گئے۔

چوتھی بات عرض کرنا ضروری ہے۔ جب مسلمان ‘ پسماندگی سے نکلنے میں ناکام ہو گئے تو ہم نے اپنے اوپر خود ہی ایک خودکش حملہ کر ڈالا۔ وہ یہ کہ ہم نے قدامت پسندی کو اپنے لیے مزیداہم قرار دے دیا۔ ہمارے چند مذہبی علماء نے قدامت پسندی کے چلن کو مذہب کے قریب قرار دے ڈالا۔ ہر نئی چیز اور فکر کو غیر اسلامی قرار دے دیا۔ یہ معاملہ آج بھی‘ اسی صورت میں جاری و ساری ہے۔ شاید آپ کے علم میں نہ ہوکہ انگریزوں کو برصغیر سے باہر نکالنے میں جنگ آزادی کے بعد‘ سب سے زیادہ جدوجہد ہندو اور سکھ نوجوانوں نے کی ہے۔

بھگت سنگھ ‘سبھاس چندر بوس اور اس طرح کے ان گنت آزادی کے متوالوں میں مسلمانوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ کانگریس کا کوئی ایسا مرکزی لیڈرنہیں تھا جس نے سال ہا سال ‘ قید و بند کی صعوبتیں نہ برداشت کی ہوں۔ ایک خاص حکمت عملی کے تحت‘ ہم لوگوں کو آزادی کے فلسفہ سے دور رکھا گیا۔ یہ تو بھلا ہو چند مسلمان رہنماؤں کا‘ جو لندن کی یونیورسٹیوں سے آراستہ تھے۔ انھوںنے مسلمانوں کی زبوں حالی کو ختم کرنے کے لیے سیاسی جدوجہد شروع کی۔ اس طرح انھوںنے ہمارے لیے ایک گوشہ عافیت ترتیب دے دیا۔

مگر ایک سانحہ ایسا ہوا‘ جس نے ہماری آزادی کی بیل کومرجھا ڈالا۔ وہ تمام قدامت پسند حلقے ‘ جنھوں نے ہمیں ترقی سے روک رکھا تھا۔ جوق در جوق‘ پاکستان آ گئے۔ انھوںنے ’’ووٹ کی طاقت‘‘ سے بنے ہوئے ملک میں فکری انتشار کو بڑھاوا دینا شروع کر دیا۔ ان کاکھیل‘ روز بروز کئی اعتبار سے مضبوط ہوتا گیا۔ متعدد حوالوں سے یہ اپنی فطری موت مرنے لگے۔ اس کا حل انھوںنے کمال عیاری سے نکال لیا۔ اپنا حلیہ تو مذہبی سا رکھا۔ مگر ناجائز تسلط اور دولت کو حاصل کرنے کی گنگا میں خوب غوطے لگانے لگے۔ اپنے بچے اور بچیاں تو جدید تعلیم سے آشنا ہو گئے۔ مگر پیروکاروں کے بچوں کو جہاد اور جنگ کا ایندھن بنوا دیا گیا۔ یہ منافقت آج بھی قائم و دائم ہے۔ خودکش بمبار بچے اور بچیوں میں سے ایک بھی‘ ہمارے رہنماؤں کی اولادوں میں نہیں ہے۔ یہ طبقہ غریب لوگوں کو جنگ کی آگ کا ایندھن بنا رہا ہے ۔ یہ وقت ہے کہ ہم‘ ان کی دو عملی کو پہچانیں اور ان سے کنارہ کشی کریں۔

ہمارے پاس وقت بے حد کم ہے۔ یاشائد گزر چکا ہے۔ لہٰذا‘ ایک ایسا نظام ترتیب دیا جائے ۔ جو انسانی حقوق ‘ فکری آزادی ا ور رواداری پر ترتیب دیا گیا ہو۔ مذہب اور ریاستی امور کے تعلق کو الگ کیا جائے۔ جدید تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ملکوںنے ترقی ہی اس وقت شروع کی ‘ جب ریاست اور مذہب الگ الگ رہے۔

مغرب کو چھوڑ دیجیے ۔ ہم تو خواب میں بھی ان جیسی ترقی نہیں کر سکتے۔ مگر ساؤتھ کوریا ‘ ویت نام‘ جاپان‘ ملایشیاء تو ہماری طرح کے سماج تھے۔ مگر درست حکمت عملی کی بدولت‘ آج ان کے عام لوگ‘ خوشحالی کے قافلے میں رواں دواں ہیں۔ اس کے برعکس‘ ہمارے چند نادان افراد‘ اسی قدامت پسندی کا پرچار کر رہے ہیں۔ جس نے ہمیں ہوش ربا نقصان پہنچایا ہے۔ یاد رکھیے کہ اگر ہم بذات خود تبدیل نہ ہوئے‘ تو کوئی بڑی طاقت ہمیں زبردستی تبدیل کر دے گی۔ صحیح یا غلط کی بحث میں جائے بغیر عرض کروں گا کہ صدیوں سے قائم فکری جمود کو توڑیے۔ عام آدمی کی ترقی کو قومی منزل قرار دیں ۔ فکری شدت پسندی کے جن کو فولاد کی بوتل میں بند کر دیجیے۔ ہماری بقا کا اب یہی واحد راستہ ہے!

مقبول خبریں