بلوچستان کی تاریخ میں ایک اہم اور یادگار دن اس وقت رقم ہوا جب وزیر اعلیٰ بلوچستان میں سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبے کی پہلی مکمل ڈیجیٹل اور پیپر لیس ریکروٹمنٹ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
یہ تقریب محکمہ خزانہ میں اسسٹنٹ اکاوٴنٹنٹ (گریڈ 14) کی 111 آسامیوں پر آن لائن ٹیسٹ میں کامیاب ہونے والے امیدواروں میں تقرری لیٹرز کی تقسیم کے سلسلے میں منعقد ہوئی، جو نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے شفاف، جدید اور میرٹ پر مبنی بھرتی نظام کی ایک قابلِ تقلید مثال بن گئی ہے۔
ان 111 آسامیوں کے لیے صوبے بھر سے 5 ہزار 694 امیدواروں نے آن لائن امتحان میں حصہ لیا۔ جدید ڈیجیٹل نظام کے تحت ایک ہی دن میں آن لائن ٹیسٹ، نتائج کا اعلان اور کامیاب امیدواروں میں تقرر ناموں کی تقسیم مکمل کی گئی جو صوبے کی انتظامی تاریخ میں ایک منفرد اور تاریخی پیش رفت ہے۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے خود کامیاب امیدواروں کو تقرری لیٹرز دیے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار محکمہ خزانہ میں سب اکاوٴنٹنٹ کی آسامیوں پر مکمل طور پر پیپر لیس، ڈیجیٹل اور آن لائن نظام کے تحت شفاف بھرتیوں کا عمل کامیابی سے مکمل کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام بلوچستان میں میرٹ، شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ وزیر اعلیٰ نے یاد دلایا کہ انہوں نے صوبائی اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں سرکاری نوکریوں کی خرید و فروخت کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا اور آج یہ عمل اسی وعدے کی عملی تعبیر ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اب بلوچستان میں نوجوانوں کو سفارش یا رشوت کی بنیاد پر نہیں بلکہ خالصتاً میرٹ پر روزگار فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب عوام میں یہ امید تقریباً ختم ہو چکی تھی کہ صوبے میں کبھی میرٹ نافذ ہو سکے گا، مگر آج عملی طور پر ثابت کر دیا گیا ہے کہ اگر نیت مضبوط اور نظام شفاف ہو تو میرٹ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج ایک مزدور، استاد اور وزیر کا بیٹا ایک ہی امتحانی نظام اور یکساں ماحول میں امتحان دے رہا ہے اور کامیابی کا واحد معیار صرف میرٹ ہے جو حقیقی مساوات اور انصاف کی واضح مثال ہے۔