سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والوں میں سے 6 افراد کی سوختہ لاشوں کے نمونے ڈی این اے کے لیے جامعہ کراچی کو موصول ہوگئے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سوختہ لاشوں کے جسموں کے حصوں کا تجزیہ جامعہ کراچی کے سندھ فرانزک اینڈ ڈی این اے سیورولوجی لیبارٹری میں کیا جارہا یے جس پر پیر سے کام شروع ہوگیا ہے۔
تاہم لاشوں کے بھجوائے گئے حصے اس قدر سوختہ ہیں کہ ڈاکٹر اشتیاق کی قیادت میں ڈی این اے کرنے والی ٹیم کو شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔
ذرائع نے "ایکسپریس" کو بتایا کہ پیر کی شام تک 6 لاشوں کے نمونے سیورولوجی لیبارٹری کو موصول ہوئے ہیں جبکہ میچنگ کے لیے متاثرہ خاندانوں سے 10 افراد کے سیمپل بھی حاصل کیے گئے ہیں جس میں ان افراد کے خون اور بالوں کے نمونے شامل ہیں۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ ریسکیو آپریشن کے دوران لاشوں کا غیر سائنسی انداز میں اٹھایا گیا ہے جس کے سبب لاشیں باڈی پارٹس میں تبدیل ہوچکی ہیں اور یہ اعضاء اس قدر سوختہ ہیں کہ لیب میں کام کرنے والے سائنس دانوں کو تجزیہ اور ڈی این اے کی میچنگ میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
یہ گمان کیا جارہا ہے کہ ان اعضاء کے ڈی این اے کے نتائج جلد یا فوری حاصل نہیں ہوسکیں گے اور امکان یے کہ اس میں کچھ روز لگ جائیں۔
واضح رہے کہ گل پلازہ کے سانحے میں اب تک 26 اموات کی تصدیق ہوئی جن میں سے 13 کی شناخت ہوچکی ہے۔