کیادنیانئے نو آبادیاتی عہد میں داخل ہو رہی ہے؟

وینزویلا کے صدر کو بزور اُٹھا لینا عالمی نظم و ضبط کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا ہے



سابق چیئرمین ڈیپارٹمنٹ میڈیا سٹڈیز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور

 دنیا میں جنگیں رکوانے کے ایجنڈے کے ساتھ الیکشن جیتنے والے اور آٹھ جنگیں رکوانے کا دعویٰ کر کے نوبیل امن انعام حاصل کرنے کے خواہشمند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر اور انکی بیوی کو صدارتی محل سے بزور طاقت اغوا کرا کے موجودہ دور میں ’منرو ڈاکٹرائن‘ (جس کی لاٹھی اس کی بھینس) کا جو عملی نمونہ پیش کیا ہے۔

اس نے جہاں دنیا کا امن خطرے میں ڈال دیا ہے وہیں اقوام عالم کو ایسے بحرآن لا قانونیت کے دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ہر طاقتور ملک کو اپنے کمزور ہمسایوں کے وسائل پر زبردستی قابض ہونے کا لائسنس فراہم کر دیا گیا ہے۔اس سے بڑھ کر تشویش ناک بات ٹرمپ کے وہ عزائم ہیں جن کا کھلم کھلا اظہار انہوں نے وینز ویلا آپریشن کے بعد کیا ہے۔کہتے ہیں کہ دنیا کے تمام ممالک پر امریکی فوجی کارروائی کا اختیار ان کے پاس ہے اور ان کی ’اپنی اخلاقیات‘ ہی واحد حد ہے جو انہیں اپنے کسی اقدام سے روک سکتی ہے۔

میں کسی عالمی قانون کو نہیں مانتا۔( Monroe Doctrine 1817-25 امریکہ کے پانچویں صدر جیمز مانرو نے دیا تھا جو امریکی خارجہ پالیسی کا بنیادی نکتہ قرار پایا۔ یہ نوآبادیاتی دور کی بات ہے جب مانرو نے اعلان کیا تھا کہ شمالی، وسطی اور جنوبی امریکہ کے ممالک میں کوئی بھی یورپی مداخلت امریکہ کے خلاف جارحیت سمجھی جائے گی۔

دوسرے لفظوں میں امریکہ یورپی نو آبادیاتی طاقتوں کو خبردار کر رہا تھا کہ جیسے باقی دنیا میں تم نوبادیاں قائم کر رہے ہو لاطینی امریکہ کے وسائل پر میرا حق ہے۔ جن ممالک کو امریکہ نے اپنے زیر اثر قرار دیا تھا اُن میں کینیڈا، میکسیکو، ارجنٹائن، کولمبیا، کوسٹا ریکا، پاناما، پیرو، چلی او وینزویلا شامل ہیں۔)

نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کے فیصلے بین الاقوامی قوانین کے پابند نہیں ہو سکتے۔ امریکا کی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے وہ کسی بھی ملک میں کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ میری اپنی اخلاقیات، میرا اپنا فیصلہ ہے اور یہی وہ چیز ہے جو مجھے روک سکتی ہے۔ امریکی صدر نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ طاقتور اقدامات اور فوجی کارروائیاں امریکا کے عالمی مفادات کے تحفظ میں مددگار ہیں۔

انہوں نے گرین لینڈ اور وینزویلا کے معاملات کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ امریکی طاقت کے استعمال سے وہ عالمی سطح پر اپنے ملک کے مفادات کو مضبوط کر سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کبھی کبھار بین الاقوامی قانون پر عمل ضروری لگتا ہے۔ لیکن اس کا اطلاق اس بات پر منحصر ہے کہ اس قانون کی تعریف کس طرح کی گئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حقیقی فیصلہ اخلاقیات پر منحصر ہونا چاہئے۔

نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سال سے زائد عرصے تک وینزویلا کے معاملات چلانے اور تیل پر قبضہ رکھنے کے عزائم کا اظہار بھی کیا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا کا روس کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم ہوتا ہے تو ہونے دیں۔ معاہدے میں چین کو شامل کیا جانا چاہئے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ تائیوان کے مسئلے پر چین کے اپنے خیالات ہیں۔ چینی صدر شی جن پنگ کے خیال میں تائیوان چین کا حصہ ہے تاہم وہ نہیں سمجھتے کہ شی جن پنگ ان کے دورِ صدارت میں تائیوان پر فوجی کارروائی کریں گے۔

 صدر ٹرمپ نے کہا کہ چین تائیوان میں کیا اقدام کرتا ہے یہ چینی صدر پر منحصر ہے۔ تائیوان پر چین کی جانب سے کسی کارروائی سے خوش نہیں ہوں گے۔ انہوں نے ساتھ ہی امید ظاہر کی کہ چین تائیوان کے خلاف کارروائی نہیں کرے گا۔ یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوجی آپریشنز اور بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے دنیا بھر میں بحث جاری ہے۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ عالمی طاقت کے استعمال میں انہیں آزادی حاصل ہے اور وہ صرف اپنی اخلاقیات کو مدنظر رکھتے ہیں۔

دوسری طرف انہوں نے گرین لینڈ کو یہ کہہ کر امریکہ کا حصہ بنانے کا بھی اعلان کردیا ہے کہ وہ اپنے پڑوس میں روس یا چین کو نہیں دیکھ سکتا اور ایران میں جاری احتجاج کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر حملہ کرنے کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ان اقدامات تجزیہ کیا جائے توکہا جاسکتا ہے کہ 3 جنوری 2026ء کی صبح جب دنیا نے وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کی گرفتاری اور امریکی فورسز کی ایک خود مختار ریاست میں مداخلت کی خبر سنی تو یہ محض ایک حکومت کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ بیسویں صدی کے ’منرو ڈاکٹرائن‘ کی اکیسویں صدی میں خون آشام واپسی کا اعلان تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پریس کانفرنس جس میں انہوں نے ایک منتخب صدر کو ہتھکڑیاں لگا کر نیویارک لانے کا فخریہ اعلان کیا یہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر پر اس آخری کیل کے مترادف ہے جو عالمی نظم و ضبط کے تابوت میں مسلسل ٹھونکی جا رہی ہے. ڈائیڈزنے اپنی شہرہ آفاق تصنیف "تاریخِ جنگِ پیلوپونیشین" میں ڈھائی ہزار سال قبل ایک ہولناک سچائی بیان کی تھی کہ ’’طاقتور وہ کرتا ہے جو وہ کر سکتا ہے اور کمزور وہ سہتا ہے جو اسے سہنا پڑتا ہے‘‘۔ آج وینزویلا کا واقعہ اسی قدیم فلسفے کی جدید بازگشت ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ اب منرو ڈاکٹرائن محض ایک تاریخی اصطلاح نہیں بلکہ امریکی خارجہ پالیسی کا عملی ستون ہے۔ ان کا یہ بیان کہ مغربی نصف کرہ پر امریکی تسلط پر دوبارہ کوئی سوال نہیں کیا جائے گا.

عالمی سیاست میں خودمختاری کے تصور کو ملیا میٹ کر دیتا ہے۔ جب ایک سپر پاور یہ اعلان کرے کہ وہ کسی دوسرے ملک کو اس وقت تک چلائے گی جب تک وہاں منصفانہ منتقلی نہیں ہو جاتی تو بین الاقوامی قانون کی اخلاقی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔ تیل سے معدنیات تک وینزویلا کا جرم اس کی جغرافیائی حیثیت اور تیل کے وسیع ذخائر ہیں۔ ٹرمپ کے اس اقدام کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں ’سیموئل ہنٹنگٹن‘ کے فلسفہ "تہذیبوں کے ٹکراؤ" کے بعد آج ہم "وسائل کے ٹکراؤ" کے عہد میں جی رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے یہ چھپانے کی کوشش بھی نہیں کی کہ ان کی نظریں وینزویلا کی معدنی دولت پر ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ کہ امریکی کمپنیوں کو لوٹا گیا اور اب وہ یہ دولت نکال کر امریکہ کو معاوضہ دیں گے۔کلاسک سامراجیت کی بدترین مثال ہے۔ یہ صرف وینزویلا تک محدود نہیں بلکہ گرین لینڈ کی معدنیات تک رسائی کی امریکی خواہش اور ڈنمارک پر دباؤ ظاہر کرتا ہے کہ اب شمالی قطب سے لے کر جنوبی امریکہ تک قدرتی وسائل پر قبضے کی ایک نئی دوڑ شروع ہو چکی ہے۔

عالمی ردعمل اور خطرناک نظائر امریکی کارروائی نے جہاں لاطینی امریکہ میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے وہیں عالمی سطح پر ایک خطرناک مثال قائم کر دی ہے۔ سینیٹر مارک وارنر کا یہ خدشہ حقیقت پسندانہ ہے کہ اگر امریکہ غیر ملکی رہنماؤں کو اغوا کرنے لگے گا تو چین تائیوان کی قیادت اور روس یوکرینی صدر کے خلاف اسی اختیار کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ جب واشنگٹن پوسٹ یہ خبر دیتا ہے کہ پینٹاگون اپنے وسائل مشرقِ وسطیٰ سے نکال کر مغربی کرہ کی جانب منتقل کر رہا ہے تو یہ دراصل امریکہ اپنے بیک یارڈکو چین کی معاشی رسائی سے پاک کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے جو کہ ایک براہِ راست عالمی تصادم کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایک اسٹریٹجک امتحان بھی ہے اور بہت سارے مواقع بھی فراہم کرتی ہے کہ پاکستان اپنے کارڈز کو کیسے استعمال کرکے فوائد سمیٹ سکتا ہے اور ممکنہ چیلنجز کا ابھی سے ادراک کرکے اس سے بچاؤ کی حکمت عملی بنا سکتا ہے۔آج جب امریکہ مشرقِ وسطیٰ سے نکل رہا ہے تو خطے میں پیدا ہونے والا پاور ویکیوم خطے میں مختلف چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔

پاکستان کے برادار اسلامی ملک ایران کے ساتھ امریکہ کے کشیدہ تعلقات اور وہاں پر عوامی احتجاج کو لے کر صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیانات بھی مستقبل کے چیلنجز کی طرف اشارہ دے رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں یمن کی صورتحال کو لیکر دو برادار اسلامی ملکوں سعودی عرب اور یواے ای میں کشیدگی بھی مشرق وسطی کے تناظر میں اہم ہے۔ غزہ امن معاہدے کے بعد غزہ میں امن فورس میں پاکستان کا کردار بھی بین الاقوامی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ پاکستان کو ایک طرف افغانستان کے ساتھ سرحدی تنازعات کا سامنا ہے تو دوسری طرف چین کے ساتھ سی پیک کے تحفظ کا چیلنج بھی درپیش ہے۔

اگر امریکہ اور چین کے درمیان وسائل کی یہ جنگ شدت اختیار کرتی ہے تو پاکستان کے لیے غیر جانبداری برقرار رکھنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ نئے عالمی نظام میں کمزوروں کے لیے صرف ہمدردی کے الفاظ ہوتے ہیں عملی تحفظ نہیں۔ صدر ٹرمپ کی پریس کانفرنس اور اس میں صحافیوں کے سطحی سوالات یہ ثابت کرتے ہیں کہ عالمی میڈیا اب ریاستوں کے بیانیے کا غلام بن چکا ہے۔ یہ امر ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ طاقتور ممالک بحرانوں کا فائدہ اٹھا کر دوسرے ممالک پر اپنی مرضی مسلط کرتے ہیں۔ آج وینزویلا میں ڈرگز کا بہانہ بنا کر جو کچھ کیا گیا یہ ’شاک ڈاکٹرائن‘ کا حصہ ہے۔ کولمبیا کے صدر کو دھمکیاں اور میکسیکو پر دباؤ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب سفارت کاری کی جگہ صریح دھونس نے لے لی ہے۔دنیا آج پھر وہیں کھڑی ہے جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول رائج ہے۔

وینزویلا میں جو کچھ ہوا وہ محض ایک ملک کی کہانی نہیں بلکہ ہر اس قوم کے لیے وارننگ ہے جو اپنی خود مختاری پر سودے بازی نہیں کرنا چاہتی۔ جب طاقت اپنے جارحیت کو نام نہاد الزامات جواز اور اخلاقیات کا لبادہ اوڑھ کر تباہی پھیلاتی ہے تو پیچھے صرف کھنڈرات باقی رہ جاتے ہیں۔ پاکستان کو اس بدلتے ہوئے ورلڈ آرڈرمیں اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے داخلی استحکام اور ایک ایسی خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے جو کسی ایک کیمپ کا حصہ بننے کے بجائے اپنے قومی مفادات کا دفاع کر سکے۔ اگر ہم نے اب بھی ماضی کی طرح محض ڈنگ ٹپاو اور ذاتی مفادات پر مبنی پالیسی بناکر جینے کی کوشش کی تو نئے عالمی منظرنامے میں ہمارے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ تاریخ خود کو دہرا رہی ہے، کیا ہم اس بار سبق سیکھنے کے لیے تیار ہیں؟

مقبول خبریں