سانحات کا تسلسل، احتساب اور اصلاحات

گل پلازہ میں لگی آگ کو اگر محض ایک حادثہ قرار دیا جائے تو یہ حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا


ایڈیٹوریل January 21, 2026

کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ پر بالآخر33 گھنٹے بعد قابو پالیا گیا، متاثرہ عمارت کا ایک اور حصہ گرگیا، دم گھٹنے اور جھلس کر جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہوگئی، 76افراد لاپتہ، ملبہ ہٹانے اور لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے ایک کروڑ روپے فی کس امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آتشزدگی کی وجوہات جاننے کے لیے کمشنرکراچی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

 کراچی سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتے کی شب بھڑکنے والی ہولناک آگ نے نہ صرف ایک بڑی عمارت کو تباہی سے دوچارکیا بلکہ درجنوں گھروں کے چراغ بھی گل کردیے۔ چالیس گھنٹے کی مسلسل جدوجہد کے بعد ریسکیو اہلکار عمارت میں داخل ہو سکے، تب جا کر اس سانحے کی اصل ہولناکی منظرِ عام پر آئی۔ اب تک 26 قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی تصدیق ہو چکی ہے، کئی درجن افراد لاپتہ ہیں، ملبہ ہٹانے اور لاشیں نکالنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور عمارت کا تقریباً 40 فیصد حصہ منہدم ہو چکا ہے۔

دم گھٹنے، جھلسنے اور بے بسی کی حالت میں جان دینے والے یہ افراد محض اعداد و شمار نہیں، یہ پورے کے پورے خاندان تھے، جن کے خواب، امیدیں اور مستقبل اس آگ کی نذر ہوگئے۔ یہ حقیقت بھی اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ اس سانحے کی ذمے داری صرف حکومتی اداروں پر عائد نہیں ہوتی بلکہ دکاندار، مالکان اور تاجر انجمنیں بھی برابر کی ذمے دار ہیں۔

تاجر انجمنیں ہر دکان سے ماہانہ مینٹیننس کے نام پر رقوم وصول کرتی ہیں، مگر ان رقوم کا مصرف کہاں ہے؟ اگر ان پیسوں سے فائر الارم، اسپرنکلر سسٹم، ایمرجنسی ایگزٹس اور فائر فائٹنگ آلات نصب کیے جاتے تو شاید آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ مگر بدقسمتی سے یہاں مینٹیننس کا مطلب صرف بجلی کے بلب بدلنا یا صفائی کے چند معمولی کاموں تک محدود رہتا ہے، انسانی جانوں کی حفاظت کبھی ترجیح نہیں بنتی۔

 ہر سانحے کے بعد شور مچتا ہے، چند دن میڈیا میں بحث ہوتی ہے، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہوتی ہے، پھر سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ اگلا سانحہ رونما ہو جائے۔ سیاست دان ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے ہیں، کوئی وفاق کو ذمے دار ٹھہراتا ہے، کوئی صوبے کو، کوئی کے الیکڑک کو،کوئی بلدیہ کو، مگر عملی اقدامات ناپید رہتے ہیں۔

قوانین موجود ہیں، فائر سیفٹی کے ضابطے بنے ہوئے ہیں، مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ رشوت، سفارش اور سیاسی دباؤکے تحت این او سیز جاری کی جاتی ہیں، غیر قانونی تعمیرات کو نظراندازکیا جاتا ہے اور انسانی جانوں کو محض اعداد و شمار سمجھ لیا جاتا ہے، جب کوئی بڑا حادثہ پیش آتا ہے تو چند افسران کو معطل کر دیا جاتا ہے یا ان کا تبادلہ ہو جاتا ہے، مگر نظام وہی رہتا ہے جو سانحات کو جنم دیتا ہے جب کہ عوام ، تاجر ، دکاندار، ٹھیکے دار، تاجر رہنما اور سیاستدان کی منٹیلٹی بھی ویسی کی ویسی ہی رہتی ہے۔

گل پلازہ سانحے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ کراچی میں جان کی کوئی قیمت نہیں۔ سب ایک ہی ڈگر پر چلے جارہے ہیں۔ 13 دروازوں کا بند ہونا محض ایک تکنیکی تفصیل نہیں بلکہ ایک اجتماعی جرم ہے۔ ایمرجنسی ایگزٹس کا نہ ہونا یا ان کا بند ہونا محض غلطی نہیں بلکہ جرم ہے، اگر واقعی تحقیقات غیر جانبدارانہ ہوں تو صرف ایک چنگاری یا شارٹ سرکٹ کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا، بلکہ ان تمام ہاتھوں کو دیکھنا ہوگا، جو اس نظام کا حصہ ہیں۔ عمارت کے مالکان، دکاندار، تاجر انجمنیں، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، فائر بریگیڈ، بلدیاتی ادارے اور سیاسی سرپرست سب اس سانحے کے شریک ذمے دار ہیں۔

 گل پلازہ میں لگی آگ کو اگر محض ایک حادثہ قرار دیا جائے تو یہ حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔ یہ سانحہ دراصل کراچی کے انتظامی ڈھانچے، فائر سیفٹی نظام، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، میونسپل اداروں ، صوبائی حکومت ، تاجروں کی مجموعی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اتنے بڑے سانحے کے باوجود شہر کی اعلیٰ انتظامیہ، میئر کراچی، وزیراعلیٰ سندھ اور دیگر ذمے داران کا رویہ روایتی اور غیر سنجیدہ رہا۔ نہ بروقت موقع پر موجودگی، نہ فوری اور مؤثر امداد، نہ ہی متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھنے کی عملی کوشش نظر آئی۔نہ سسٹم کو ٹھیک کرنے کا کوئی میکنزم بنانے کا عزم، بیانات ضرور دیے گئے، مگر عملی اقدامات کب ہوں گے ، کسی کو پتہ نہیں ہے۔

ریسکیو آپریشن کے دوران بار بار آگ کا دوبارہ بھڑک اٹھنا، فائر بریگیڈ کے محدود وسائل، ناکافی پانی اور فرسودہ آلات نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا کراچی جیسے میگا سٹی کے لیے یہی تیاری کافی ہے؟ فائر بریگیڈ کے پاس نہ جدید مشینری تھی، نہ بلند عمارتوں تک پہنچنے کے لیے مناسب سیڑھیاں، نہ ہی ایسی حکمتِ عملی کہ وہ اس نوعیت کی آتشزدگی پر فوری قابو پا سکتے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قیمتی وقت ضایع ہوا، آگ پھیلتی چلی گئی اور اندر پھنسے افراد کے بچنے کے امکانات معدوم ہوتے گئے۔

چیف آپریٹنگ آفیسر کے مطابق عمارت کا اسٹرکچر شدید متاثر ہو چکا ہے اور کسی بھی وقت مزید حصے گرنے کا خدشہ موجود ہے۔ اسی باعث سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن انتہائی احتیاط، مرحلہ وار اور محدود انداز میں کیا جا رہا ہے۔ متعدد لاشیں مختلف مقامات سے حصوں کی صورت میں ملی ہیں، جن کی فرانزک تصدیق کے بعد ہی حتمی تعداد سامنے آ سکے گی۔ یہ صورتحال خود اس بات کی غماز ہے کہ آگ کی شدت کتنی خوفناک تھی اور اندر موجود افراد کس قدر بے بس تھے۔

سانحہ گل پلازہ نے سیکڑوں خاندانوں کو شدید مالی اور ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے نقصان کے ازالے کا اعلان یقیناً ایک مثبت قدم ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا مالی امداد ان جانوں کا نعم البدل ہو سکتی ہے جو اس سانحے میں ضایع ہوگئیں؟ کیا چند چیک ان بچوں کے سروں سے اٹھنے والے سائے واپس لا سکتے ہیں؟ اصل مسئلہ امداد نہیں، بلکہ احتساب اور اصلاحات کا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ شہر میں موجود ہزاروں کمرشل اور رہائشی عمارتوں میں سے کتنی ایسی ہیں جہاں فائر سیفٹی کا مؤثر نظام موجود ہے، کتنی عمارتوں میں ایمرجنسی اخراج کے راستے فعال ہیں؟ کتنی جگہوں پر فائر الارم، اسپرنکلر سسٹم اور تربیت یافتہ عملہ موجود ہے؟ اور کتنی عمارتیں صرف کاغذوں میں محفوظ قرار دے دی گئی ہیں؟ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے این او سیز، فائر ڈیپارٹمنٹ کی کلیئرنس اور دیگر اجازت نامے اکثر محض رسمی کارروائی بن چکے ہیں، جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

یہ وقت رسمی بیانات، سیاسی الزام تراشی یا وقتی ہمدردی کا نہیں، بلکہ عملی فیصلوں اور ٹھوس اقدامات کا ہے۔ سب سے پہلے سانحہ گل پلازہ کے ذمے داران کو بلا امتیاز انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ تحقیقات محض کمیٹیاں بنانے تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کے نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں اور قصورواروں کو مثالی سزائیں دی جائیں تاکہ آئندہ کوئی بھی انسانی جانوں سے کھیلنے کی جرات نہ کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہر کی تمام پرانی اور نئی عمارتوں کا فوری فائر سیفٹی آڈٹ کیا جائے، غیر محفوظ عمارتوں کو بند کیا جائے اور فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

فائر بریگیڈ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ جدید آلات، تربیت یافتہ عملہ، مناسب بجٹ اور فوری رسپانس سسٹم کے بغیر کسی بھی بڑے حادثے سے نمٹنا ممکن نہیں۔ اس کے علاوہ عوام میں آگ سے بچاؤ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تربیت بھی دی جانی چاہیے تاکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں قیمتی وقت ضایع نہ ہو۔

اگر اب بھی گل پلازہ کے سانحے کو محض ایک خبر، ایک رپورٹ یا ایک فائل بنا کر نظر اندازکردیا گیا تو یہ المیہ کسی اور نام، کسی اور جگہ دوبارہ دہرایا جائے گا۔ کراچی پہلے ہی بے شمار مسائل کا شکار ہے، یہ شہر مزید لاشیں اٹھانے کی سکت نہیں رکھتا۔ اگر حکمران واقعی سبق سیکھنا چاہتے ہیں تو گل پلازہ کو ایک آخری انتباہ سمجھیں۔ ورنہ تاریخ گواہ رہے گی کہ غفلت، نااہلی، بے حسی اور ہوس زر نے روشنیوں کے شہرکو آہستہ آہستہ سانحات کے شہر میں بدل دیا۔

مقبول خبریں