گل پلازہ 33 گھنٹوں تک جلتا رہا اور 100 کے قریب لاشیں چھوڑ گیا۔ کیا یہ نظام اب تبدیل ہوگا، یہ کچھ عرصہ بعد پھر کوئی نیا حادثہ ہوگا؟ وزیر اعلیٰ کی پریس کانفرنس میں مستقبل کے بارے میں مکمل خاموشی ہے۔
کمشنر کراچی کی سربراہی میں ہونے والی تحقیقات ایک بے معنی عمل ہے۔ ہائی کورٹ کے 3 ججوں پر مشتمل ٹریبونل کی تحقیقات سے ہی کوئی نتیجہ سامنے آسکتا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس محمد علی مظہر نے 2017ء میں آتش زدگی کے ایک واقعے کے بعد ایک جامع فیصلہ دیا تھا مگر اس فیصلے پر آج تک عملدرآمد نہیں ہوا۔
کراچی شہر کے قلب میں ایک بہت بڑے شاپنگ پلازہ گل سینٹر میں خوفناک آتش زدگی سے کراچی شہر کے انفرااسٹرکچر کے بوسیدہ ہونے کی حقیقت پھر آشکار ہوگئی۔ نئے سال کے پہلے مہینے میں کراچی میں آتش زدگی کے اس حادثے سے پھر ثابت ہوا کہ حکومت سندھ کا الیکٹرک ڈپارٹمنٹ ، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور فائر بریگیڈ کا نظام بدستور تنزلی کا شکار ہے اور لاکھوں روپے ماہانہ کمانے والے دکاندار بھی قانون کی پامالی کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور دکانداروں کی انجمنیں ،مذہبی انتہاپسند عناصر کی پذیرائی کرکے سمجھتی ہیں کہ انھوں نے اپنے فرائض منصبی بخوبی ادا کیے ہیں۔
گل پلازہ 1800 مربع فٹ پر محیط ہے۔ اس پلازہ میں 1000 سے زائد دکانیں ہیں اور آمدورفت کے 16دروازے ہیں۔ گل پلازہ غیر ملکی سامان کے لیے شہرت رکھتا تھا۔ اس پلازہ میں فروخت ہونے والا سامان کسٹمز کی ڈیوٹی کی ادائیگی کے بعد فروخت ہوتا تھا، اس بارے میں دکانداروں اور کسٹمز ڈائریکٹریٹ کے افسران ہی جانتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موسم میں گل پلازہ میں خاصا رش ہوتا تھا۔ عمومی طور پر اس پلازہ میں دن کے 12 بجے کے بعد سے خریداری شروع ہوتی تھی اور رات 10 بجے تک خوب گہما گہمی رہتی تھی۔
عیدالفطر کے تہوار کے قریب آنے پر ساری رت دکانیں کھلی رہتی تھیں۔ اب تک ملنے والی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ گل پلازہ کی کسی منزل پر شارٹ سرکٹ کی بناء پر آگ بھڑک اٹھی اور اس آگ نے مختصر عرصے میں پوری عمارت کو لپیٹ میں لے لیا۔ گل پلازہ ایک گنجان آبادی والے علاقہ میں قائم ہے۔ ہفتہ کی رات کو اطراف کے علاقوں میں خوب رونق ہوتی ہے اور سرِ شام سے ہی ٹریفک جام ہونا شرو ع ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بلدیہ کراچی کا سب سے قدیم فائر بریگیڈ یہاں سے چند میل کے فاصلہ پر ہے مگر سرکاری طور پر یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے لیے شہر سے 25 میل دور صفورا چوک اور نیپا کے ہائیڈرنٹس سے ٹینکروں کے ذریعہ پانی منگوایا جارہا تھا۔
ریڈ لائن پر کام مکمل نہ ہونے اور ٹریفک کے رش کی وجہ سے بہت دیر سے پانی پہنچا مگر اس کے ساتھ یہ سوال ہے کہ پورے ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں فائر بریگیڈ ڈپارٹمنٹ کے پاس کوئی پانی کا ٹینک نہیں تھا جہاں سے فوری طور پر پانی حاصل کیا جاسکتا؟ پھر بدقسمتی یہ ہوئی کہ فائر بریگیڈ کا عملہ جب تیسری منزل پر آگ بجھا رہا تھا تو سیڑھیاں ٹوٹنے سے فائر فائیٹرز زمین پر گر کر زخمی ہوگئے۔ فائر بریگیڈ کے عملہ کے پاس آگ بجھانے کی جدید ٹیکنالوجی نہیں ہے۔ یہ عملہ اب تک پانی اور فوم کے چھڑکاؤ سے آگ پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہے۔ کیمسٹری کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ جدید کیمیکلز سے آگ پر فوری طور پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی صورتحال میں انسانی جانوں کو بچانے کے لیے حادثہ کے ابتدائی دو سے تین گھنٹے اہم ہوتے ہیں۔
اگر اس دوران آگ بجھانے کے ساتھ عمارت میں داخل ہوجائیں تو انسانی جانیں بچائی جاسکتی ہیں مگر ناقص طریقہ کار کی بناء پر امدادی کارکن 23 گھنٹے بعد گل پلازہ میں داخل ہوپائے۔ ان کے پاس جانداروں کی نشاندہی کرنے والا آلہ نہیں ہے۔ محض ملبہ میں 23 گھنٹوں تک پھنسے رہنے والا شخص اگر زندہ بھی ہوگا تو کسی آواز پر کھڑا نہیں ہوسکتا۔ سوال یہ ہے کہ کراچی میں گزشتہ سال آتش زدگی کے ڈھائی ہزار سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ ان آتش زدگی کے واقعات میں زیادہ تر کی وجہ شارٹ سرکٹ تھی۔ لہٰذا یہ مسئلہ عمارت کی تعمیر اور بجلی کی ناقص وائرنگ سے منسلک ہوجاتا ہے۔ گل پلازہ 1995ء میں تعمیر ہوئی۔
کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے منظور شدہ نقشہ کے تحت یہ عمارت گراؤنڈ + 1 منزل پر مشتمل تھی۔ پھر اس کی تین منزلیں تعمیر ہوگئیں۔ پہلے اس عمارت میں 500دکانوں کی گنجائش تھی مگر پھر یہ تعداد 1000 سے زائد تک پہنچ گئی۔ ظاہر ہے کہ بجلی کے نظام کی تنصیب کے قوانین کو نظرانداز کیے گئے ہوں گے۔ ان کنکشن میں ناقص سامان استعمال ہوا ہوگا۔ بجلی کے جدید نظام میں ہر کنکشن کے ساتھ سرکٹ بریگر لگائے جاتے ہیں۔ اگر کہیں شارٹ سرکٹ ہوجائے تو یہ بریکر خودکار نظام کے ذریعہ بجلی منقطع کردیتے ہیں۔ ہر فلور پر ایک بڑا سرکٹ بریکر کا بورڈ نصب کیا جاتا ہے۔ بجلی کے جدید نظام کے طریہ کار پر عملدرآمد کیا جائے تو بجلی کے شرٹ سرکٹ سے آتش زدگی کے نقصانات کے امکانات بہت کم رہ جاتے ہیں۔ ہر عمارت میں آتش زدگی کی صورت میں پانی کی فراہمی کا متبادل نظام قائم ہونا ضروری ہوتا ہے۔
اس نظام میں ہر فلور میں بنگامی بنیادوں پر پانی پھینکنے کے لیے پائپ نصب ہوتا ہے اور آتش زدگی کی صورت میں اس پائپ کے ذریعہ آگ بجھانے کا کام شرو ع ہوجاتا ہے۔ ہر فلور پر الارم کا نظام نصب ہوتا ہے۔ کسی بھی ہنگامی صورت میں الارم بجنا شروع ہوجاتے ہیں اور فوری طور پر لوگ پلازہ سے نکل جاتے ہیں مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ الارم نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو آخری وقت تک آتش زدگی کے واقعہ کا علم ہی نہ ہوسکا اور لاعلمی کی وجہ سے وہ لوگ سانس گھٹنے کے باعث انتقال کرگئے۔ ہر فلور پر آگ بجھانے والے سلنڈر لگائے جاتے ہیں۔ یہ سلنڈر لگانے والی کمپنی کی ذمے داری ہوتی ہے کہ ایک مقررہ وقت کے بعد ان سلینڈر کو تبدیل کرے مگر کراچی کی بیشتر عمارتوں میں یہ نظا م موجود نہیں ہے۔
حکومت سندھ کے توانائی کے محکمہ کے تحت کام کرنے والے الیکٹرک انسپکٹر کی یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ ہر عمارت کا معائنہ کیا جائے اور جس عمارت کے مکین بجلی کے استعمال کے قواعد و ضوابط پر عمل نہیں کرتے ان پر جرمانہ عائد کیا جائے۔ قواعد کے تحت ایسی عمارتوں کو سیل تک کیا جاسکتا ہے۔ بلدیہ کراچی کے عملے کی یہ ذمے داری ہے کہ ہر عمارت میں آگ بجھانے کے متبادل نظام کی تنصیب کا جائزہ لے اور جہاں پانی کا متبادلہ نظام نہ ہو اور آگ بجھانے والے سلنڈر موجود نہ ہوں ان عمارتوں کو سیل کردیا جائے۔ کچھ صحافیوں کا کہنا ہے کہ بڑی عمارتوں کے دکانداروں کی انجمنوں کا بڑا منفی کردار ہے۔ یہ انجمن اپنے اراکین سے ماہانہ ہزاروں روپے چندہ وصول کرتی ہیں مگر یہ رقم عمارتوں کی مرمت، بجلی اور پانی کی لائنوں کی مرمت اور سیوریج کے نام کو بہتر کرنے کے بجائے دیگر مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ انجمنیں عمارتوں کامعائنہ کے لیے آنے والے سرکاری عملہ کو رشوت دے کر انھیں عمارتوں سے باہر سے ہی رخصت کردیتی ہیں۔ گل پلازہ کے دکاندار تو لٹ گئے۔ ان کا جانی اور مالی نقصان کوئی پورا نہیں کرسکتا مگر ان کی انجمنوں نے کبھی ضلعی حکام کی توجہ گل پلازہ میں قائم ہونے والی تجاوزات اور بجلی کے ناقص نظام کی طرف توجہ مبذول نہیں کرائی۔ ساری دنیا میں بازار صبح کھلتے ہیں اور شام 6 بجے بند ہوجاتے ہیں۔ اگر گل پلازہ کے دکاندار شام 6بجے دکانیں بند کررہے ہوتے تو اتنا بڑا المیہ نہیں ہوتا۔بعض افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ دکانداروں کی انجمن ہی اصل میں پلازہ میں تجاوزات کے قائم کرنے کی ذمے دار ہیں۔
کراچی میں آتش زدگی کا یہ نہ ہی پہلا واقعہ ہے اور نہ ہی آخری ہوگا۔ 2012ء میں بلدیہ فیکٹری میں آتش زدگی کے حادثے میں 250 مزدور جاں بحق ہوئے تھے مگر اس حادثہ کے بعد فیکٹریوں میں حالات بہتر نہیں ہوئے۔ گزشتہ سال ملینیئم مال میں آتش زدگی کے واقعے میں 500 دکانیں جل گئی تھیں اور اربوں روپوں کا نقصان ہوا تھا۔
اسی طرح 2023ء میں آر جے مال میں آگ لگنے سے 10 افراد جاں بحق ہوئے اور 22 زخمی ہوئے۔ اسی سال عائشہ منزل کے قریب رہائشی کمپلیکس میں آگ میں 950 فلیٹ اور 25 دکانیں تباہ ہوگئی تھیں۔ اب بھی کچھ لوگوں کو ریجنٹ پلازہ میں آتش زدگی کا خوف ناک واقعہ یاد آجاتا ہے۔ ان تمام واقعات کا جائزہ لیا جائے تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان حادثات کے ذمے دار کسی شخص کا احتساب نہیں ہوا۔ محض میئر کو برا کہنے کے بجائے اس سبق کو محسوس کیا جائے کہ کرپشن کی بنیادر پر قائم ہونے والے نظام کو مکمل طور پر تبدیل کرکے ہی شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کیا جاسکتا ہے۔