میں کسی ملک کی گلیوں میں اترتی ہوئی بے چینی کو کسی اچانک حادثے کا نام نہیں دے سکتی۔ یہ برسوں کی جمع شدہ اذیت ہوتی ہے، جو لفظوں، نعروں اور قربانیوں میں ڈھل جاتی ہے۔ تاریخ ہمیشہ ہمیں یہ سبق دیتی رہی ہے کہ جب عوام کی زندگی جبر تذلیل اور معاشی گھٹن میں قید ہو جائے تو خاموشی ٹوٹتی ضرور ہے۔ یہ خاموشی کسی بیرونی سازش کا شاخسانہ نہیں ہوتی بلکہ اس نظام کے خلاف فیصلہ کن احتجاج ہوتا ہے جو اقتدار اور دولت کو چند ہاتھوں میں سمیٹتا ہے۔
ریاستی طاقت کا جواب بھی وہی پرانا بے رحم اور اندھا ہوتا ہے۔ گولیاں، گرفتاریاں، لاشیں اور اطلاعات کا محاصرہ کر کے شاید آوازوں کو دبایا جا سکتا ہے مگر تاریخ کے کٹہرے میں سچ کو نہیں۔ جانیں جانا کوئی نقصان نہیں، یہ ایک پورے سماج کے سینے پر لگا ہوا زخم ہوتاہے۔ مردہ جسم اس سوال کا جواب ہوتے ہیں جو حکمران بار بار پوچھتے ہیں مسئلہ کہاں ہے؟
ایرانی عوام کا غصہ کوئی نیا باب نہیںہوتا۔ یہ غصہ مزدور کی اجرت میں کٹوتی سے جنم لیتا ہے، کسان کی زمین سے بے دخلی میں پکتا ہے، طالب علم کی زبان بندی کا نتیجہ ہوتا ہے اور عورت کے جسم پر ریاستی پہرے میں بھڑک اٹھتا ہے۔
لیکن اس جدوجہد کے ساتھ ایک اور خطرہ جڑا ہوا ہے، جو مجھے کسی بھی ریاستی تشدد جتنا ہی مہلک دکھائی دیتا ہے، جدوجہد کی ہائی جیکنگ۔ امریکی سامراج اور اس کے اتحادی اچانک ایرانی عوام کے خیر خواہ بن کر سامنے آگئے ہیں۔ وہی طاقتیں جنھوں نے پابندیوں محاصروں اور اقتصادی ناکہ بندیوں کے ذریعے عام ایرانی کی زندگی کو جہنم بنایا، آج اسی اذیت کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ ایک فرسودہ بادشاہت کے وارث کو نجات دہندہ بنا کر پیش کرنا، اسی منصوبے کا حصہ ہے۔
میں یہ سوال اٹھانے پر مجبور ہوں، کیا ایرانی عوام کی یاد داشت اتنی کمزور ہے کہ وہ شاہی جبر، ساواک کی اذیت گاہوں اور طبقاتی نابرابری کو بھول جائیں؟ کیا تاریخ کو ریورس گیئر میں ڈال کر آزادی حاصل کی جا سکتی ہے؟ سامراج ہمیشہ یہی کرتا آیا ہے، عوام کے جائز مطالبات کو اپنے کھیل میں مہرہ بنا لینا۔ جب انقلاب کا امکان نظر آئے تو یا تو بم برساؤ یا کسی قابلِ قبول متبادل کو آگے کر دو۔
ایران محض ایک ملک نہیں، یہ تیل کی شاہراہوں، تجارتی راستوں اور جغرافیائی سیاست کا مرکز ہے۔ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس پر نظریں جمائے طاقتیں انسانوں کو نہیں نقشوں کو دیکھتی ہیں۔ امریکا چین کو گھیرنے، اسرائیل کی علاقائی بالادستی کو مضبوط کرنے اور مشرقِ وسطیٰ کو اپنی مرضی کے مطابق ترتیب دینے کے خواب دیکھتا ہے۔ ایسے میں ایرانی عوام کی قربانیاں اس کے لیے سودے بازی کا ایک کارڈ بن جاتی ہیں۔
ٹرمپ کی فوجی مداخلت کی دھمکیاں مجھے کسی اخلاقی تشویش کا اظہار نہیں لگتیں، بلکہ یہ وہی پرانی سامراجی زبان ہے جس میں انسانی حقوق کا لفظ بارود کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے۔ ہم نے یہ مناظر بغداد میں دیکھے، طرابلس میں دیکھے، دمشق کے مضافات میں دیکھے۔ ہر جگہ نجات کے وعدے کے ساتھ تباہی آئی اور عوام کو صرف ملبہ ملا۔
امریکا نہ غزہ کے بچوں کے لیے کھڑا ہوا، نہ حلب کی ماؤں کے لیے، نہ افریقہ کے بھوکے مزدوروں کے لیے۔ اس کا ضمیر تیل کی قیمتوں فوجی اڈوں اور منڈیوں کے اتار چڑھاؤ سے بندھا ہے۔ ’’ میک امریکا گریٹ اگین‘‘ دراصل دنیا بھرکے محنت کشوں کے لیے ایک کھلا اعلانِ جنگ ہے، ان کی اجرتوں ان کے حقوق اور ان کے خوابوں کے خلاف۔
ایسے میں سوال یہ ہے کہ ایرانی عوام کی نجات کہاں ہے؟ نہ آمریت میں نہ بادشاہت کی واپسی میں نہ امریکی سرپرستی میں اور نہ ہی کسی اور عالمی طاقت کی مداخلت میں۔ نجات کا راستہ خود ایرانی محنت کش طبقے کی اجتماعی قوت سے نکلے گا۔ اراک کے مزدور ہمیں بتاتے ہیں کہ اصل سیاست کہاں جنم لیتی ہے، کام کی جگہوں پر اور یکجہتی میں۔
یہ جدوجہد اس عالمی نظام کے خلاف سوال ہے جو ہر جگہ محنت کو سستا اور سرمایہ کو مقدس قرار دیتا ہے۔ جب ایرانی مزدور اٹھتا ہے تو وہ لاشعوری طور پر دنیا بھر کے مزدوروں سے بات کر رہا ہوتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں بین الاقوامی یکجہتی محض نعرہ نہیں، ضرورت بن جاتی ہے۔
میں اس نتیجے پر پہنچتی ہوں کہ ہر ملک کی عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دینا نہیں بلکہ ان کے حقِ خود ارادیت کے ساتھ کھڑا ہونا، اصل اخلاقی موقف ہوتا ہے۔ نہ ان پر بم گرائے جائیں، نہ ان کی تحریک کو اغوا کیا جائے۔ انھیں یہ حق دیا جائے کہ وہ اپنی تاریخ خود لکھیں، اپنی غلطیوں سمیت اپنی کامیابیوں سمیت۔
ایران کا مستقبل بھی تہران، اصفہان، تبریز اور اراک کی گلیوں میں طے ہوگا، واشنگٹن یا تل ابیب کے ایوانوں میں نہیں۔ جب یہ مستقبل جنم لے گا تو یہ ہمیں یاد دلائے گا کہ تاریخ کا پہیہ اب بھی عوام کے ہاتھ میں ہے اور فیصلہ آخرکار وہی کریں گے جن کے ہاتھوں میں زخم ہیں نہ کہ وہ جن کے ہاتھوں میں ہتھیار۔
تبدیلی کا عمل کبھی سیدھی لکیر میں آگے نہیں بڑھتا۔ اس میں ٹھہراؤ بھی آتا ہے، پسپائی بھی ہوتی ہے اور بسا اوقات قربانیاں وقتی طور پر بے ثمر دکھائی دیتی ہیں۔ مگر تاریخ بار بار ثابت کرتی ہے کہ جو سماج سوال کرنا سیکھ لے اسے مکمل طور پر دوبارہ خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ ایرانی نوجوان عورتیں اساتذہ اور محنت کش جس جرات سے خوف کی دیوار گرا رہے ہیں، وہ اس بات کا اعلان ہے کہ ریاستی بیانیہ اپنی اخلاقی بنیاد کھو چکا ہے، اگر آج یہ آوازیں دب بھی جائیں تو کل کسی اور شکل میں ابھریں گی۔