چوہدری منظور الٰہی، ایک مثالی بڑا بھائی

چوہدری سردارخاں نے اگرچہ اپنے والد حیات محمد خاں سے علم دوستی ورثہ میں پائی تھی


اصغر عبد اللہ January 22, 2026

گجرات شہر سے جی ٹی روڈ پر دریائے چناب کی طرف آئیں تو کچھ فاصلہ پر بائیں طرف ایک سڑک اندر مڑتی ہے، جو بل کھاتی ہوئی آگے دریا کنارے آباد ’نت‘ گائوں تک لے جاتی ہے۔ چوہدری منظور الٰہی مرحوم کی کہانی اسی قدیمی گائوں سے شروع ہوتی ہے۔ قیام پاکستان سے قبل آس پاس کے علاقوں میں اس گائوںکی ایک پہچان یہاں صدیوں سے آباد جٹ قوم کے ایک معتبر زمیندار چوہدری حیات محمد خاں بھی تھے، جن کی مہمان نوازی قرب و جوار میں ضرب المثل بن چکی تھی۔ ان کو تصوف سے بھی لگائو تھا، بلکہ انھی کی فرمایش پر پنجابی شاعر میاں محمد قادری نے ’مرزا صاحبان‘ صوفیانہ رنگ میں منظوم کی تھی۔

 یہ ’مرزا صاحباں‘ کچھ عرصہ بعد نایاب ہو گئی، تاہم ایک نسخہ حیات محمد خاں کے آثار میں محفوظ رہا، جسے2007 میں انھی کے پڑپوتے چوہدری پرویزالٰہی نے، جب وہ وزیراعلیٰ پنجاب تھے، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچرکے تحت دوبارہ شائع کرایا تھا۔

چوہدری سردارخاں نے اگرچہ اپنے والد حیات محمد خاں سے علم دوستی ورثہ میں پائی تھی، مگر وہ اس زمیندار خاندان کے پہلے فرد بھی تھے، جنھوں نے اپنے بیٹوں کو جدید تعلیم دلانے کے بارے میں سوچا۔ اگرچہ وہ خود ساری زندگی گائوں ہی میں رہے، اور لاہور بھی کم کم آئے، لیکن اپنے بیٹوں کی گائوں کی حدود سے نکل کر دور شہروں میں جا کے اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کی جدوجہد کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی۔

یہ فرنگی دور تھا، جب پنجاب میں گائوں کے گبھرو یا توکھیتی باڑی میں پسینہ بہا کے فخر محسوس کرتے، یا پھر فوج میں بھرتی ہو جانے کو کمال سمجھتے تھے؛ مگر چوہدری سردارخاں کے بڑے بیٹے منظور الٰہی کچھ اور ہی سوچ رہے تھے۔ انھوں نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ شاید وہ دیکھ رہے تھے کہ آنے والا دور صنعت و تجارت کا ہے، اور جو خاندان اس میدان میں آگے آئیں گے، وہی خودکو تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں معاشی طور پر مستحکم رکھ سکیں گے۔ اپنے والد سردارخاں کے سخت مزاج اور کڑی تربیت کے نتیجہ میں نظم و ضبط ان کی طبیعت میں پہلے ہی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، جوکاروباری زندگی میں ہمیشہ سے کامیابی اور ترقی کی ضمانت مانا جاتا ہے۔

 امرتسر اس زمانہ میں پنجاب میںکپڑے کی صنعت کا مرکز تھا۔ چنانچہ، نوجوان منظور الٰہی بھی قسمت آزمائی کے لیے امرتسر پہنچ گئے، جہاں1943 کے لگ بھگ وہ لدھیانہ جنرل ملز میں مینیجر تھے۔ ادھر،گجرات میں ان کے چھوٹے بھائی ظہور الٰہی تعلیم ادھوری چھوڑ کر پولیس میں بھرتی ہوگئے، مگر یہ نوکری ان کی طبع آزاد سے کوئی مطابقت نہ رکھتی تھی۔ زندگی کے اس نازک موڑ پر، یہ ان کے بڑے بھائی منظور الٰہی ہی تھے، جنھوں نے ان کو سمجھایا کہ نوکری کا خیال چھوڑیں اور امرتسر آ کے ان کے ساتھ کاروبار میں شریک ہو جائیں۔

 ان کا کہنا تھا، ٹیکسٹائل انڈسٹری سے اپنی وابستگی کے باعث انھیں پورا یقین تھا کہ دونوں بھائی مل کرکام کریں تو بہت کچھ کر کے دکھا سکتے ہیں۔ یوں ظہورالٰہی بھی اہل خانہ کے ساتھ امرتسر منتقل ہو گئے، جہاں علی بخش روڈ پر دونوں خاندان اکٹھے رہتے تھے۔ چند پاور لومزکے ساتھ جس کاروبار کا آغاز کیا، اس میں اللہ نے اتنی برکت دی کہ دو سال کے مختصر عرصہ میں ان کے پاس ایک سو کھڈیوں کے علاوہ ہوزری کی تیس مشینیں بھی تھیں۔ یہ مشینیں سونا اگل رہی تھیں، جب اگست1947میں خونریز فسادات کے باعث انھیں نوکری اورکاروبار سمیٹ کر امرتسر کو خیرباد کہنا پڑا۔

چوہدری منظور الٰہی نے مگر ہمت نہیں ہاری، اور امرتسر سے واپس گجرات جانے کے بجائے لاہور ( کرشن نگر ) ہی میں رہ کے نئے سرے سے اپنا ہنر اور تجربہ آزمانے کا فیصلہ کیا۔ چھوٹے بھائی ظہورالٰہی نے گجرات جا کے کاروباری امکانات کا جائزہ لیا، جہاں ابتدائی طور پر چند دستی کھڈیوںکے ساتھ کرایہ کی ایک جگہ پر’ پاکستان ٹیکسٹائل‘ کے نام سے دونوں بھائی پھرسے کاروباری میدان میں اتر آئے۔ ان کھڈیوں کو، وہ دو تین سال کے اندر اندر ہی پاورلومز سے بدلنے کے قابل ہو گئے۔ منظور الٰہی کو ٹیکسٹائل انڈسٹری میں اتنی گہری دلچسپی تھی کہ اس سے متعلق عالمی نمایشوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے تھے۔

 1953میں جاپان گئے تو واپسی پر لینن اور ہوزری کی پاورلومز بھی ساتھ لے کر آئے۔ کپڑے کی یہ نئی ورائٹی مارکیٹ میں آئی تو اس نے مقبولیت کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے اور ملوں پر ہن برسنے لگا۔ 1970 کے شروع میں جرمنی اور ہالینڈ سے پلش میکنگ اور کلاتھ پرنٹنگ مشینیں بھی پہلی بار انھوں نے ہی درآمد کیں۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ ان کے چھوٹے بھائی ظہورالٰہی نے اپنی عوامی زندگی کا پہلا الیکشن بھی، جو نیشنل بینک کا تھا، لاہور سے لڑا تھا، جب ابھی گلبرگ کے موجودہ گھر نہیں بنے تھے۔

 پرویزالٰہی اس وقت شجاعت حسین کے ساتھ سینٹرل ماڈل اسکول میں تیسری یا چوتھی جماعت میں پڑھتے تھے، جب پہلی بار گھر میں انھوں نے یہ گفتگو سنی کہ چچا لاہور سے کسی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ ظہورالٰہی کے باقی اہل خانہ اگرچہ گجرات میں ان کے ساتھ ہوتے تھے، مگر شجاعت حسین اپنے تایا منظور الٰہی کے گھر لاہور میں رہتے اور یہیں پڑھتے تھے، اور وہ بھی ان کا اپنے بچوں سے بھی بڑھ کے خیال رکھتے تھے۔

نیشنل بینک کی چیئرمین شپ کا الیکشن جیتنے کے بعد چوہدری ظہورالٰہی نے قومی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا، تو چوہدری منظور الٰہی نے اس طرح پس منظر میں رہ کے چھوٹے بھائی کا ساتھ دیا کہ سیاست اور تجارت میں قربانی اور ایثار کی ایسی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔ جنرل ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو دور میں جب ظہورالٰہی قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے، تو یہ منظور الٰہی تھے، جو خاندانی کاروبار کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ پوری تندہی اور جرات کے ساتھ ان پر مقدمات کی پیروی بھی کرتے تھے، بلکہ اس کی پاداش میں، بھٹو دور میں ان کو بھی متعدد جھوٹے مقدمات اور قیدوبند کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کے باوجود وہ پوری استقامت کے ساتھ چھوٹے بھائی کے پیچھے کھڑے رہے۔ دوسری طرف چوہدری ظہورالٰہی بھی بڑے بھائی کا اس قدر احترام کرتے تھے کہ ان کو دیکھتے ہی ادب سے کھڑے ہو جاتے،اور کبھی ان کی کوئی بات نہیں ٹالتے تھے۔ لاہور میں ہوتے تو صبح ناشتہ ہمیشہ انھی کے ساتھ بیٹھ کر کرتے۔ سیاست میں ان کے بیٹے پرویزالٰہی کی سمجھ بوجھ کو ہمیشہ سراہتے، اور ان کے چھوٹے بیٹے راسخ الٰہی سے ان کو اتنا انس تھا کہ دن میں کم ازکم تین چاربار اس کو پاس ضرور بلاتے تھے، بلکہ کبھی کبھی وہ شرارت سے پردے کے پیچھے چھپ جایا کرتا کہ نانا اسے تلاش کریں۔

1981 میں چوہدری ظہورالٰہی کی ناگہانی موت اس خاندان کے لیے بہت بڑا دھچکا تھی۔ اس مشکل وقت میں بھی یہ چوہدری منظور الٰہی تھے، جنھوں نے نہ صرف خاندان کو پھر سے سنبھالا، بلکہ چھوٹے بھائی کی سیاسی امانت کی اس طرح حفاظت کی کہ ان کے بیٹے شجاعت حسین کو اپنے بیٹے پرویز الٰہی سے ہمیشہ آگے رکھا، جب کہ خود پہلے کی طرح، نمود و نمایش سے بے نیاز، پس منظر میں رہ کر کام کرتے رہے۔ پیرانہ سالی کے باوصف ان کی کاروباری مصروفیات میں کوئی کمی نہ آئی تھی، کہ نوے کی دہائی میں اس وقت کی حکومت کے اہلکاروں نے، ان کے بیٹے پرویزالٰہی کی مخالفت میں، ایک روز راوی روڈ پر ان کی موجودگی میںان کے دفتر پر ہلہ بول دیا۔

 اس عمر میں اس تکلیف دہ تجربہ اورکچھ بڑھتے ہوئے صحت کے مسائل کے باعث اس کے بعد دفتر جانا ترک کردیا تھا۔ چند سال بعد جنوری2001میں اس طرح صاحب فراش ہوئے کہ گھر ہی کے ہو کر رہ گئے۔ یوں بھی ساری زندگی انھوں نے اس طرح خاندان کی ترقی و استحکام کے لیے وقف کیے رکھی تھی کہ خاندان سے باہر ان کا حلقہ احباب نہ ہونے کے برابر تھا۔ یہی وہ دور ہے، جب پرویزالٰہی وزیراعلیٰ پنجاب اورشجاعت حسین وزیراعظم پاکستان بنے، جنھوں نے ظہورالٰہی کی شہادت کے بعد عملی طور پر انھی کے زیرسایہ انتخابی سیاست میں قدم رکھا تھا۔

انھی سردیوں کے دن تھے، جب جنوری 2005 میں نوے برس کی عمر میںچوہدری منظور الٰہی کی زندگی کا طویل اور تھکا دینے والا سفر اپنے اختتام کو پہنچا ، اور وہ واپس گجرات جاکے، جہاں پورا شہر ان کو الوداع کہنے کے لیے موجود تھا ، اپنی والدہ اورچھوٹے بھائی ظہور الٰہی کے پہلو میں ابدی نیند سو گئے؛ تو اس سے پہلے وہ اپنے اس خواب کی تعبیر پا چکے تھے، جو بڑے بھائی کی حیثیت سے انھوں نے اپنے خاندان کے لیے برسوں پہلے گجرات اپنے گائوں سے امرتسرکے سفر پر نکلتے وقت دیکھا تھا، بقول شاعر ؎

شکر خدا کہ ہرچہ طلب کردم از خدا

بر منتہاے مطلب خود کامران شدم

ان کے بعد آج اس خاندان کے پاس سب کچھ ہے، مگر شاید ان جیسا ’بڑا بھائی‘ نہیں۔

مقبول خبریں