فٹ پاتھ کا نوحہ، معاشی جبر نے مسیحائی چھین لی

 شدید سردی کی حالیہ لہر نے ایک بار پھر ہمارے سماجی نظام کی بے حسی کو بے نقاب کردیا ہے



 شدید سردی کی حالیہ لہر نے ایک بار پھر ہمارے سماجی نظام کی بے حسی کو بے نقاب کردیا ہے۔ فٹ پاتھوں پر زندگی گزارنے والے بے گھر افراد جو پہلے ہی غربت اور محرومی کے اندھیروں میں سانس لے رہے تھے، اب سردی کی سنگین شدت کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ماہ جنوری کے غالباً 17 یوم میں سرد موسم کے باعث کم ازکم آٹھ افراد جان کی بازی ہارگئے جب کہ متعدد دیگر زندگی اور موت کے درمیان کی حالت میں ٹھٹھرتے ہوئے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ آٹھ افراد کی اموات موسمی حادثہ نہیں، اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہے۔ ایسے افراد جو چھت،کمبل، چادر و دیگر بنیادی ضرورتوں سے محروم ہوں، ان کے لیے سرد راتیں، کسی آزمائش سے کم نہیں ہوتیں۔ سوال یہ ہے کہ شہری ترقی کے باوجود فٹ پاتھ اب بھی قبروں میں کیوں تبدیل ہو رہے ہیں۔

رہائشی اداروں اور سماجی تنظیموں کی ذمے داری ہے کہ وہ سرد موسم میں ہنگامی بنیادوں پر پناہ گاہوں،گرم لباس،کمبل اور دیگر طبی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ یہ صرف فلاحی اقدام نہیں بلکہ انسانی وقارکا تقاضا ہے۔ اگر اب بھی اس مسئلے کو نظراندازکیا گیا تو یہ خاموش اموات ہمارا اجتماعی ضمیر مزید مجروح کرتی رہیں گی۔

مردوں کے علاوہ پاکستان بھر میں نامعلوم کتنی خواتین، کتنے بچے بچیاں سردی میں ٹھٹھر کر انھی فٹ پاتھوں، پلوں کے نیچے یا کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرتے ہیں اور خواتین کے لیے یہ فٹ پاتھ کبھی بھی محفوظ نہیں رہے کیونکہ رات کا اندھیرا، ہر سُو پھیلا ہوا خوف کا راج انھیں سونے نہیں دیتا اور ان کے لیے نیند کا مطلب کوئی ناخوشگوار حادثے کو دعوت دینا ہے اور پھر جب ایسے لوگ حکومتی شیلٹرز تک پہنچتے ہیں تو طرح طرح کے سوالات اور شناختی کارڈ کے نہ ہونے پر دوبارہ ان کو بے یار و مددگار سڑکوں کی طرف بھیج دیا جاتا ہے۔

اب تو یہ حالت ہو گئی ہے کہ اس سال کمبل اور گرم کپڑے بانٹنے والے ہاتھوں کو مہنگائی کے جبر نے روک رکھا ہے، پہلے متوسط طبقے کے لوگ ہی اس بات کا احساس کرتے ہوئے گرم کپڑے، رضائیاں، کمبل اور دیگر اشیا تقسیم کرتے تھے۔ ایسے حالات میں اشرافیہ قدم آگے بڑھائے، اگر انھوں نے ان یخ بستہ راتوں میں سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے افراد کی کپکپی، بچوں اور بچیوں کی سسکیوں، بوڑھے افراد کے بڑھاپے کا خیال نہ کیا تو تاریخ انھیں معاف نہیں کرے گی،کیونکہ حالیہ برسوں میں ان کی تعداد میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔

اس سلسلے میں شہر کے ایک ریسکیو ادارے کے ٹرسٹی نے بتایا کہ شہر میں بے گھر افراد کی تعداد میں حالیہ برسوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تاہم ان کا منظم ڈیٹا نہیں۔ ریاست کو اس بارے میں فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ان کو شمار میں لایا جائے اور بغیر کسی شرط و پابندی کے ان کو ملک بھر میں جگہ جگہ آرام دہ شیلٹرز بنا کر دیے جائیں۔جب میں یہ رپورٹ پڑھ رہا تھا کہ رواں ماہ سردی کی تاب نہ لاتے ہوئے 8 افراد کی لاشیں ملی ہیں تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہماری معاشی پالیسیاں صرف اعداد و شمار کے لیے ہیں یا انسانوں کے لیے۔

لاہور کے لاری اڈے ہوں یا پنڈی کا ’’پیر ودھائی‘‘ پورے پاکستان میں بے گھر افراد موجود ہیں۔ بے گھر افراد میں حالیہ اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ شہری منصوبہ بندی میں غریب طبقے کو نظرانداز کر دیا گیا ہے اور حکومت کے وہ لوگ بھی خوب ہیں جنھوںنے پناہ گاہیں شہر کے مضافات میں بنائی ہیں جب کہ بے گھر لوگ اپنی گزر اوقات کے لیے شہر میں رہنا پسند کرتے ہیں۔

حکومت ملک کے بڑے بڑے شہروں کے اندر چاہے کرائے کی جگہ ہو، وہاں ایسے مراکز جابجا قائم کرے اور بغیر کسی شرط کے شناخت کے داخل کرے صرف اور صرف انسانیت کے نام پر، ورنہ پھر اسی طرح ملک بھر سے لاشیں ملتی رہیں گی۔ شاید حکومت غافل تو نہیں لیکن اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مدد کا حق دارکون ہے اورکہاں ہے؟ اور ہم تک کیسے پہنچ سکتا ہے؟ کہا جاتا ہے کہ ان پناہ گاہوں کے کچھ رولز ہیں کچھ پابندیاں ہیں، اس لیے متاثرہ شخص یا عورت وہاں رجوع نہیں کرتے۔

اگر حکومت نے انسانیت کے نام پر پناہ دینی ہے تو پھر کیسے قواعد و قانون۔ جب ایک حق دار مرد، عورت، بچے، بچیاں، بوڑھا مرد، بوڑھی عورت آپ تک حکومتی ادارے تک پہنچ گیا تو اب اس سے کچھ سوال جواب نہ کریں اور اب وہ آپ کا مہمان بن گیا ہے۔ تین دن تک اس کی مہمان نوازی کریں کیونکہ اسلام بھی یہی تعلیم دیتا ہے۔ مہمان کی تین دن تک خوب مہمان نوازی کی جاتی ہے لہٰذا تین دن بعد پوچھنا چاہیے کہ آپ کون ہیں، کہاں سے آئے ہیں؟ یقینی طور پر تین دن کے بعد وہ ادارے کے ذمے داروں کو اپنی کہانی سنا دے گا۔

اس کے بعد منتظمین یہ فیصلہ کر لیں کہ اس کو پناہ دینی ہے یا یخ بستہ راتوں میں فٹ پاتھ پر دوبارہ واپس بھیجنا ہے۔بہرحال یہ ایک اہم ترین قابل توجہ اور فوری ترجیح کا مسئلہ ہے۔ حکومت کی ذمے داری کے ساتھ مدارس کے مہتمم اور مسجدوں کے متولی اگر رات کے اوقات میں ارد گرد کی سڑکوں فٹ پاتھوں کا جائزہ لیں تو بہت سے افراد بے سہارا، بیمار مل جائیں گے جن کو سردی سے بچانے کے لیے فوری پناہ فراہم کی جا سکتی ہے۔ مخیر حضرات کو کمبل، رضائی دے کر ان کو فٹ پاتھ پر ہی چھوڑ دیتے ہیں، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کو عارضی پناہ گاہ بھی فراہم کی جائے جہاں وہ رات بسر کر سکیں۔
 

مقبول خبریں