ایک تجزیہ کارکا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ کراچی مافیاز کے قبضے میں ہے۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے کراچی کا جتنا بیڑا غرق کیا وہ سانحہ گل پلازہ کی آتشزدگی سے نظر آگیا جہاں کوئی نظام ہے نہ قانون اور اربوں کھربوں کا نقصان ہو گیا ہے۔ مالی نقصان کا تو کچھ ازالہ کیا جاسکتا ہے مگر جانی نقصان کا کوئی ازالہ ہو ہی نہیں سکتا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق گل پلازہ کے خارجی راستوں پر بھی دکانیں بنائی گئیں اور ایک ہزار 21 کی بجائے بارہ سو دکانیں بنائی گئیں اور 179 دکانیں منظور شدہ نقشے سے زائد تعمیر کی گئیں۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق 1998 میں گل پلازہ میں غیر قانونی طور پر اضافی منزل تعمیر کی گئی۔ پارکنگ ایریا میں اضافی دکانیں بنائی گئیں اور چھت کو پارکنگ میں بدلا گیا اور 2003 میں گل پلازہ کی اضافی منزل کو ریگولائز کیا گیا تھا۔ گل پلازہ میں بیسمنٹ سمیت تین منزلوں کی اجازت دی گئی تھی اور اضافی دکانیں بنانے سے راہداری اور باہر نکلنے کی جگہوں پر دکانیں بنائے جانے کی وجہ سے لوگ باہر نہیں نکل سکے۔
ملک بھر میں گل پلازہ کی خوفناک آتشزدگی زیر بحث ہے اور تجزیہ کاروں نے جانی و مالی نقصان کا ذمے دار سندھ حکومت اور خاص طور پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو قرار دیا ہے جو کراچی کی تباہ کن آتشزدگی کا باعث بنا اور بہت بڑا نقصان ہوا۔ کراچی کی عمارتوں اور تجارتی مراکز میں آتشزدگی کی طویل تاریخ ہے۔ گل پلازہ کے علاوہ کلفٹن شاپنگ مال، میلینم مال، رمپا پلازہ، ایمپریس نعمان پلازہ، فرنیچر مارکیٹ، آرجے شاپنگ مال، حفیظ سینٹر، کوآپریٹیو مارکیٹ، چیز اپ مارکیٹ اور چیز اپ ڈپارٹمنٹل اسٹار، عرشی شاپنگ مال، کلفٹن شاپنگ سینٹر، چاولہ مارکیٹ میں 2016 سے اب تک ایک نہیں متعدد بار آگ لگ چکی ہے۔ ایک بار آگ کے بعد دوبارہ بھی آگ لگنے کے باوجود ہوش سے کام نہیں لیا گیا، اگر پہلی بار آگ لگنے کے بعد احتیاط کر لی جاتی اور مزید انتظامات کر لیے جاتے تو مزید آتشزدگی سے بچا جا سکتا تھا۔
گل پلازہ میں اگست 2016 میں بھی آگ لگی تھی جس کے بعد اگر سندھ حکومت اور اس کے ادارے گل پلازہ سمیت ان عمارتوں میں غیر قانونی تعمیرات پر ایکشن لے لیتے تو گل پلازہ کا یہ حشر نہ ہوتا جو اب ہوا اور گل پلازہ کی پوری عمارت تباہ نہ ہوتی، جو اب از سر نو بنائی جائے گی سندھ حکومت جس کی تعمیر کا اعلان بھی کر چکی ہے اور ہلاک ہونے والوں کے لیے مالی امداد کا سندھ حکومت اعلان بھی کر چکی ہے۔
کراچی کی جن عمارتوں اور شاپنگ مالز میں تعمیرات کا پورا ریکارڈ ایس بی سی اے کے پاس ہے جو کراچی کا اہم ترین مافیا بن چکا ہے جس کے خلاف عدالتیں متعدد بار احکامات دے چکی ہیں مگر ایس بی سی اے پر کوئی اثر نہیں ہوتا، جس کے افسروں کو شہر کی اندرونی گلیوں تک میں غیر قانونی تعمیرات کا پتا چل جاتا ہے اور اس کا عملہ فوری طور توڑنے پہنچ جاتا ہے۔
ایس بی سی اے کے افسروں نے شہر میں اپنے ٹاؤٹس بھی چھوڑے ہوئے ہیں جو میڈیا اور وکالت کے حوالے سے وہاں پہنچ کر رقم طلب کرتے ہیں اور رقم نہ ملنے پر مذکورہ علاقے کے افسر کو غیر قانونی تعمیرات کا بتاتے ہیں اور عدالتوں کے ذریعے بھی یہ نجی ٹاؤٹس عدالتی نوٹس جاری کراتے ہیں جن کا کوئی تعلق نہیں ہوتا، کیونکہ نوٹس جاری کرنا عدالتوں کا نہیں بلکہ خود ایس بی سی اے کا کام ہے مگر وکالت کی آڑ میں عدالتی عملے کی ملی بھگت سے نوٹس جاری ہوتے ہیں جس کی وجہ سے بلڈرکام رک جانے کے خوف سے مذکورہ نجی مافیا کو ان کی مطلوبہ رقم دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
ایس بی سی اے افسران اور اس نجی مافیا کا بھی آپس میں گٹھ جوڑ ہوتا ہے اور افسران غیر قانونی تعمیرات پر اپنا حصہ وصول کرکے نجی مافیا کو کمائی کے لیے وہاں بھیج دیتے ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ کے فاضل بینچ نے کہا ہے کہ ایس بی سی اے غیر قانونی تعمیرات کیوں نہیں روکتا، کیا اس کے افسروں کے پاس اپنا کوئی دماغ نہیں ہے۔ غیر قانونی تعمیرات کے وقت افسران پیٹھ کر کے کھڑے ہو جاتے ہیں، غیر قانونی تعمیرات پر افسران معطل ہوں گے، فاضل ججز ایس بی سی اے کے افسروں پر آئے دن برہمی کا اظہارکرتے رہتے ہیں مگر اعلیٰ افسران بہت کم ہی کسی افسر کو معطل کرتے ہیں۔ شکایت پر صرف تبادلے ہوتے ہیں برطرف کوئی نہیں ہوتا۔
اگرکوئی معطل ہو تو جلد بحال ہو جاتا ہے اور زیادہ کما کر دینے والوں کو زیادہ کمائی کے ٹاؤن مل جاتے ہیں۔ ایس بی سی اے کے بڑے افسران اور سربراہوں پر حکومت بہت کم ہی ایکشن لیتی ہے، ایک سربراہ تو ملک سے بھاگا ہوا ہے۔ سانحہ گل پلازہ کے باعث دس ہزار افراد بے روزگار، درجنوں فیکٹریوں کی معاشی سرگرمیاں متاثر ہوئیں مگر ایس بی سی اے متاثر ہوا نہ کسی ذمے دار افسر کے خلاف کارروائی ہوئی۔
گورنر سندھ نے گل پلازہ آتشزدگی کو قومی سانحہ قرار دیا اور کہا کہ شہری اضطراب میں ہیں۔ وفاقی حکومت بھی متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے مگر وزیر اعظم نے صرف بیان ہی جاری کیا۔
کراچی کی مافیاز میں ایس بی سی اے کے بعد تجاوزات مافیا بھی نہایت اہمیت کی حامل ہے جس کو کنٹرول کرنے میں خود سندھ حکومت بھی ناکام ہے کیونکہ نہایت بااثر و رسوخ کے افراد کی تجاوزات مافیا کو سرپرستی حاصل ہے جس کے فیصلوں میں تاخیر معمول ہے مگر تجاوزات مافیا کے کسی سرغنہ کو عدالت سے سزا نہیں ہوئی اور حکومتی خاموشی تجاوزات مافیا کو ڈھیل دیتی رہتی ہے۔
کراچی میں اور بھی مافیاز ہیں، اگر غیر قانونی تعمیرات اور غیر قانونی قبضوں کے خلاف سخت کارروائی ہو جائے تو دیگر مافیازکو بھی سبق دیا جاسکتا ہے۔