انسانی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں مزدور طبقے کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ ہاتھ ہیں جو عمارتیں کھڑی کرتے ہیں، فصلوں کو اگاتے ہیں، فیکٹریوں میں مصنوعات تیار کرتے ہیں اور شہروں کو چلتا رکھتے ہیں۔
لیکن افسوس، معاشرے کے سب سے کمزور اور غریب مزدور اکثر استحصال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ استحصال محض مالی نہیں بلکہ جسمانی، نفسیاتی اور سماجی بھی ہوتا ہے، جو ان کی زندگی کو دوزخ بنا دیتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں مزدور کو مشین کا پرزہ سمجھا جاتا ہے جبکہ حقیقتاً وہ معاشرے کا ستون ہے۔
استحصال کی مختلف شکلیں مندرجہ ذیل ہیں:
1. ناقص اجرت: غریب مزدوروں کا سب سے بڑا استحصال انہیں ان کi محنت کے عوض مناسب اور منصفانہ اجرت نہ دینا ہے۔ اکثر انہیں قانونی کم سے کم اجرت سے بھی کم پر کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ سرکار کے کاغذوں میں مزدور کی کم از کم اجرت چالیس ہزار روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ شاید ہی کوئی ایک ادارہ ہو جو کہ ایک غریب مزدور کو یہ رقم دیتا ہو۔
2. طویل اوقات کار: ان سے غیر معقول حد تک طویل گھنٹوں (16-18 گھنٹے تک) بغیر اضافی معاوضے کے کام لیا جاتا ہے، جس سے ان کی جسمانی و ذہنی صحت تباہ ہو جاتی ہے۔
3. ناکافی سہولیات: کام کی جگہ پر بنیادی سہولیات جیسے صاف پانی، صاف بیت الخلا، ہوا کی مناسب آمدورفت، حفاظتی سامان (جیسے دستانے، ہیلمٹ، ماسک) کا فقدان ہوتا ہے۔ یہ خاص طور پر تعمیراتی اور صنعتی شعبوں میں عام ہے۔
4. جسمانی و زبانی تشدد: مزدوروں کو اکثر مالکان، منتظمین یا ایجنٹس کی جانب سے گالم گلوچ، دھمکیوں اور یہاں تک کہ جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، خاص طور پر اجرت مانگنے یا سہولیات کی بات کرنے پر۔
5. وقت پر ادائیگی نہ ہونا: مزدوروں کی محنت کی کمائی وقت پر ادا نہیں کی جاتی۔ کئی کئی مہینوں کی تنخواہیں روک لی جاتی ہیں، جس سے ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
6. غلامی جیسے حالات: کچھ انتہائی غریب اور غیر دستاویزی مزدوروں (خاص طور پر خواتین اور بچے) کو ایسے حالات میں رکھا جاتا ہے جو جدید غلامی سے مشابہت رکھتے ہیں۔ ان کی آزادی سلب ہوتی ہے، پاسپورٹ یا شناختی کارڈ ضبط کرلیے جاتے ہیں اور انہیں ڈرا دھمکا کر رکھا جاتا ہے۔
7. بچوں سے مشقت (چائلڈ لیبر): غربت کی وجہ سے چھوٹے معصوم بچوں کو اسکول چھڑوا کر مشقت پر لگا دیا جاتا ہے، جہاں ان کا استحصال بھی بے دریغ کیا جاتا ہے۔
استحصال کی وجوہات:
شدید غربت اور بے روزگاری: روزگار کے محدود مواقع اور انتہائی غربت مزدوروں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ کسی بھی شرط پر، چاہے وہ کتنی ہی ظالمانہ کیوں نہ ہو، کام کر لیں۔
ناخواندگی اور جہالت: بہت سے مزدور اپنے حقوق سے ناواقف ہوتے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ قانون انہیں کیا تحفظ فراہم کرتا ہے۔
کمزور قانون سازی اور نافذ کرنے میں ناکامی: مزدوروں کے تحفظ کےلیے قوانین تو موجود ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ مزدوروں کے تحفظ کے ادارے اکثر غیر فعال یا بدعنوان ہوتے ہیں۔
منافع کی ہوس: کچھ مالکان اور صنعتکار اپنے منافع کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کےلیے مزدوروں کی اجرت کاٹنے، سہولیات بچانے اور ان سے زیادہ سے زیادہ کام کروانے پر تیار رہتے ہیں۔
مڈل مین (ایجنٹوں) کا کردار: خصوصاً غیر رسمی شعبے میں، ایجنٹ مزدوروں کا بھاری کمیشن کاٹتے ہیں اور انہیں استحصالی حالات میں دھکیل دیتے ہیں۔
معاشرتی عدم مساوات: معاشرے میں پائی جانے والی گہری طبقاتی تقسیم اور سماجی تعصب بھی غریب مزدوروں کے استحصال کو آسان بناتا ہے۔
نتائج
انسانی حقوق کی پامالی: یہ استحصال انسانی وقار، آزادی اور بنیادی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
معاشی بدحالی کا چکر: کم اجرت اور استحصال مزدوروں اور ان کے خاندانوں کو غربت کے دائمی چکر میں پھنسا دیتا ہے۔
صحت کے مسائل: ناقص حالاتِ کار، طویل اوقات اور تناؤ مزدوروں میں مختلف جسمانی (جیسے سانس، جلد، جوڑوں کے امراض) اور ذہنی (ڈپریشن، اضطراب) بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔
معاشرتی برائیاں: مزدوروں کی بے چینی اور مایوسی معاشرے میں جرائم، منشیات اور دیگر برائیوں کو فروغ دیتی ہے۔
نسل در نسل غربت: غریب مزدوروں کے بچے تعلیم سے محروم رہ کر اسی استحصالی نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔
حل کے راستے
1. قوانین کا مؤثر نفاذ: مزدوروں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین (کم سے کم اجرت، حفاظتی قواعد، کام کے اوقات) پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا ضروری ہے۔ بدعنوانی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
2. مزدوروں میں شعور و آگاہی: مزدوروں کو ان کے حقوق اور قانونی چارہ جوئی کے طریقوں سے آگاہ کرنے کے لیے مہمات چلانی چاہئیں۔ خواندگی کی شرح بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔
3. مزدور یونینوں کی مضبوطی: مزدوروں کو منظم ہونے اور اجتماعی طور پر اپنے حقوق کی جدوجہد کرنے کا حق دیا جانا چاہیے۔ آزاد اور فعال مزدور یونینز استحصال روکنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔
4. سماجی تحفظ کے پروگرام: حکومت کو غریب مزدوروں اور ان کے خاندانوں کے لیے صحت کی سہولیات، سستے رہائشی اسکیموں، بچوں کی تعلیم کے لیے وظائف اور دیگر سماجی بہبود کے پروگرامز کو مؤثر بنانا چاہیے۔
5. صارفین اور معاشرے کا کردار: صارفین کو چاہیے کہ وہ ایسی مصنوعات اور خدمات کو ترجیح دیں جو اخلاقی اور منصفانہ طریقے سے تیار کی گئی ہوں۔ معاشرے کو غریب مزدوروں کے ساتھ ہمدردی اور انصاف کا رویہ اپنانا چاہیے۔
6. EOBI رجسٹریشن: تمام ملازمین چاہے وہ کسی بھی عہدے پر ہوں۔ ای اوبی آئی رجسٹریشن اور او بی آئی پیشن کا حق حاصل ہے۔ EOBI کے تحت ملنے والی کم از کم پنشن 11500 روپے نہایت نامناسب ہے۔ کم پنشن کے باعث بزرگ شہریوں کی بڑی تعداد مناسب علاج سے محروم رہتی ہے۔
غریب مزدوروں کا استحصال محض ایک معاشی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک سنگین انسانی المیہ اور قومی شرمندگی کا نشان ہے۔ ایک مہذب اور منصفانہ معاشرے کی تعمیر اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کی بنیاد رکھنے والے ہاتھوں کا خون چوسا جاتا رہے۔ ان مظلوم ہاتھوں کو انصاف دلانا، انہیں ان کا حق دار معاوضہ اور عزت نفس واپس دلانا صرف حکومت کی ہی نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقی اور قومی ذمے داری ہے۔ ان کے استحصال کو روک کر ہی ہم ایک خوشحال، مستحکم اور حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، جب مزدور کے چہرے پر مسکراہٹ ہوگی، تبھی قوم کی ترقی سچی اور پائیدار ہوگی۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔