ڈیووس میں جمعرات کے روز غزہ بورڈ آف پیس معاہدے پر دستخط کی تقریب ہوئی ، اس موقع پر پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سمیت مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر نے بھی معاہدے پر دستخط کیے۔ دوسری جانب غزہ پر اسرائیلی حملے میں تین صحافیوں سمیت 11فلسطینی شہید ہوگئے ۔ اسرائیل نے خوراک، طبی امداد اور پناہ گاہ کا داخلہ محدود کر رکھا ہے، 22 لاکھ افراد کو شدید سردی میں انسانی بحران کا سامنا ہے۔
عالمی سیاست کے افق پر اس وقت جو منظرنامہ ابھر رہا ہے وہ نہایت پیچیدہ، تضادات سے بھرپور اور مستقبل کے لیے کئی سوالات کو جنم دینے والا ہے۔ طاقتور ممالک امن کے دعوے کرتے دکھائی دیتے ہیں، عالمی فورمز پر امن، استحکام اور تعاون کی باتیں ہوتی ہیں، مگر زمینی حقائق ان دعوؤں کی نفی کرتے نظر آتے ہیں۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بورڈ آف پیس کے قیام اور اس میں پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر جیسے اہم ممالک کی شمولیت کو بظاہر عالمی امن کی ایک نئی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے تقریب سے ایک روز قبل مشترکہ اعلامیے کے ذریعے تقریب میں شرکت کی دعوت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ اپنی اپنی آئینی و قانونی حدود کے مطابق شمولیتی دستاویزات پر دستخط کریں گے اور بورڈ آف پیس کے مشن کے نفاذ میں مکمل تعاون کریں گے۔ غزہ کے بارے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت سفارتی سطح پر یقیناً اہم ہے، تاہم اس کے اثرات اور نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا یہ بورڈ واقعی غیر جانبدار، منصفانہ اور عملی اقدامات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ عالمی امن کے نام پر قائم کیے جانے والے کئی ادارے اور فورمز طاقتور ممالک کے مفادات کے تحفظ کا ذریعہ بنے، جب کہ کمزور اقوام کے مسائل وہیں کے وہیں رہے۔
یہی خدشہ آج ایک بار پھر سر اٹھاتا دکھائی دیتا ہے، خصوصاً جب غزہ، ایران اور مشرق وسطیٰ کے دیگر تنازعات کو دیکھا جائے۔ صدر ٹرمپ کی قیادت میں امن کی کوششوں کی حمایت کے بیانات اپنی جگہ، مگر ان کے ساتھ ساتھ دی جانے والی دھمکیاں، پابندیاں اور فوجی کارروائیوں کے عندیے عالمی امن کے تصور کو کمزور کرتے ہیں۔ غزہ کے معاملے میں امریکا کا کردار اس تضاد کی واضح مثال ہے، جہاں ایک طرف امن کے بورڈ اور عالمی معاہدوں کی بات کی جا رہی ہے، اور دوسری طرف اسرائیل کو بلا مشروط حمایت حاصل ہے، جس کے نتیجے میں فلسطینی عوام مسلسل جان و مال کے نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔
غزہ میں اسرائیلی حملے، جن میں اگلے روز تین صحافیوں سمیت گیارہ فلسطینی شہید ہوئے، عالمی ضمیر کے لیے ایک اور امتحان ہیں۔ صحافیوں کو نشانہ بنانا صرف انسانی جانوں کا ضیاع نہیں بلکہ سچ کو دبانے کی کوشش بھی ہے، وہ صحافی جو امدادی سرگرمیوں کو دستاویزی شکل دے رہے تھے، ایک مہاجر کیمپ کے قریب اپنی گاڑی میں نشانہ بنے اور گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ غزہ میں نہ صرف عام شہری بلکہ وہ لوگ بھی محفوظ نہیں جو دنیا کو حقائق دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود عالمی طاقتوں کی جانب سے محض رسمی بیانات اور تشویش کے اظہار سے آگے کوئی مؤثر قدم نظر نہیں آتا۔
غزہ میں خوراک، طبی امداد اور پناہ گاہوں کی رسائی پر سخت پابندیاں عائد ہیں، جس کے باعث بائیس لاکھ سے زائد افراد شدید سردی، بھوک اور بیماریوں کا شکار ہیں۔ بچے، خواتین اور بزرگ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال کسی بھی انسانی اقدار کے حامل معاشرے کے لیے ناقابل قبول ہونی چاہیے، مگر افسوس کہ عالمی سیاست میں انسانی جانوں کی قدر کا تعین اکثر مفادات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، اگر بورڈ آف پیس واقعی امن کا ضامن بننا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے غزہ میں فوری جنگ بندی، محاصرہ ختم کرنے اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔
اسی طرح صدر ٹرمپ کی جانب سے حماس کو دی جانے والی سخت دھمکیاں بھی اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ امریکا تنازعے کو یکطرفہ زاویے سے دیکھ رہا ہے۔ حماس سے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ اور یہ کہنا کہ اگر اس نے اپنے وعدے کو پورا نہ کیا تو اسے تیزی سے ختم کردیا جائے گا، مسئلے کے بنیادی اسباب کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ فلسطینی عوام کی جدوجہد کو محض ایک عسکری تنظیم تک محدود کرنا تاریخ اور حقیقت دونوں سے لاعلمی کی عکاسی کرتا ہے۔ امن کا راستہ صرف ہتھیار ڈالنے سے نہیں بلکہ انصاف پر مبنی سیاسی حل سے نکلتا ہے، جس میں فلسطینیوں کے بنیادی حقوق، آزاد ریاست اور باوقار زندگی کی ضمانت شامل ہو۔
عالمی سیاست میں ایک اور اہم تبدیلی یورپ میں دیکھنے کو مل رہی ہے، جہاں امریکا کے دیرینہ اتحادی اب خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں۔ ڈنمارک، جو دہائیوں تک امریکا کا سب سے وفادار یورپی اتحادی رہا، آج صدر ٹرمپ کی پالیسیوں سے نالاں نظر آتا ہے۔ گرین لینڈ کو اپنے کنٹرول میں لینے کی دھمکیاں اور تجارتی پابندیاں ڈنمارک کے عوام اور قیادت کے لیے ایک صدمے سے کم نہیں۔ حالیہ سروے کے مطابق ایک بڑی تعداد امریکا کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتی ہے اور یورپ پر انحصار بڑھانے کی حامی ہے۔
یہ تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ امریکا کی جارحانہ اور خود غرضانہ پالیسیاں اس کے اتحادیوں کے اعتماد کو بھی متزلزل کر رہی ہیں۔ یہ تمام حالات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی نظام ایک تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے۔ طاقت کا توازن بتدریج بدل رہا ہے، نئی صف بندیاں بن رہی ہیں اور پرانے اتحاد کمزور پڑ رہے ہیں۔ ایسے میں بورڈ آف پیس جیسے فورمز کی کامیابی کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ آیا وہ واقعی کثیر الجہتی تعاون، باہمی احترام اور انصاف کے اصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہیں یا نہیں۔ اگر یہ بورڈ محض طاقتور ممالک کے فیصلوں کی توثیق تک محدود رہا تو اس سے نہ صرف اس کی ساکھ متاثر ہوگی بلکہ عالمی امن کے امکانات بھی مزید دھندلا جائیں گے۔
پاکستان کے لیے اس بورڈ میں شمولیت ایک اہم موقع بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔ پاکستان نے ہمیشہ عالمی امن، مکالمے اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے امن مشنز میں اس کا کردار دنیا بھر میں تسلیم شدہ ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان بورڈ آف پیس میں اپنی آواز مؤثر انداز میں استعمال کرے اور فلسطین، کشمیر اور دیگر مظلوم اقوام کے حق میں اصولی مؤقف اختیار کرے۔ محض رسمی شمولیت یا خاموش تائید پاکستان کے تاریخی کردار اور عوامی جذبات کے منافی ہوگی۔یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی امن کا تصور اس وقت تک ادھورا رہے گا جب تک انسانی حقوق کو سیاست سے بالاتر نہیں رکھا جاتا۔ غزہ میں بچوں کی لاشیں، ایران پر پابندیوں سے متاثر عام شہری، یا یورپ میں عدم تحفظ کا شکار ممالک سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ عالمی نظام میں انصاف کا فقدان ہے۔ بورڈ آف پیس کے قیام سے امیدیں باندھی جا رہی ہیں، مگر ان امیدوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے طاقتور ممالک کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔
صدر ٹرمپ کے بیانات میں بار بار یہ دعویٰ سننے کو ملتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو چکا ہے اور صرف چند چھوٹے مسائل باقی ہیں، مگر یہ بیانات زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ امن محض جنگ کے نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ انصاف، خوشحالی اور انسانی وقار کی موجودگی کا نام ہے۔ جب تک فلسطینی اپنے گھروں میں محفوظ نہیں، جب تک ان کے بچوں کو تعلیم اور صحت کی سہولیات میسر نہیں، اور جب تک ان کی ریاست تسلیم نہیں کی جاتی، امن کے دعوے محض الفاظ ہی رہیں گے۔
عالمی برادری کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے زور پر مسلط کیا گیا امن دیرپا نہیں ہوتا۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جبر، پابندیاں اور دھمکیاں وقتی طور پر خاموشی تو پیدا کر سکتی ہیں، مگر دلوں میں موجود زخموں کو بھر نہیں سکتیں۔ حقیقی امن کے لیے مکالمہ، مفاہمت اور انصاف ناگزیر ہیں۔ آخرکار یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا دنیا واقعی امن چاہتی ہے یا صرف اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے امن کا نعرہ استعمال کر رہی ہے۔ موجودہ عالمی منظرنامہ اس تضاد کو بے نقاب کرتا ہے۔
ایک طرف امن کے بورڈ، دستخطی تقاریب اور عالمی اجلاس، دوسری طرف جنگ، بمباری، پابندیاں اور انسانی المیے۔ اگر عالمی قیادت نے اس تضاد کو ختم نہ کیا تو نہ صرف بورڈ آف پیس ناکام ہوگا بلکہ دنیا مزید عدم استحکام، تصادم اور انسانی المیوں کی طرف بڑھتی چلی جائے گی۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ الفاظ کو عمل میں بدلا جائے، طاقت کے بجائے انصاف کو فوقیت دی جائے اور عالمی امن کو واقعی ایک مشترکہ مقصد بنایا جائے، ورنہ تاریخ ایک بار پھر یہی لکھے گی کہ امن کے نام پر بہت کچھ کہا گیا، مگر کیا کچھ نہ گیا۔