ہمارا معاملہ اس دن سے بگڑنا شروع ہوا جس دن اس دنیا میں اس منحوس نام یا لفظ’’انڈسٹری‘‘ نے جنم لیا یہ گویا ایک ابلیسی اور شیطانی’’اسم اعظم‘‘ تھا جس نے انسانی زندگی اور معاشرے میں انٹری دے کر زندگی کو شرمندگی بنا دیا۔لوگ اچھے بھلے جن کاموں کو ہنر یا پیشہ یا کام کہتے تھے وہ انڈسٹری ہوگئے۔
سیاست، جمہوریت، تعلیم،صحت،ادب، صحافت سب انڈسٹر یلائز ہوکر ’’ابلیسلائز‘‘ ہوگئے۔ابھی ابھی اخبار میں ایک شخص کا بیان پڑھا جو اس نے کرکٹ انڈسٹری میں ایک نیلامی کے بعد دیا کہ ’’کرکٹ ہمارے خون میں بہتی ہے‘‘ حالانکہ پہلے اس خون میں انسانیت، اسلام اور پاکستانیت بہا کرتی تھی۔چنانچہ انڈسٹریوں کی اس بھرمار نے انسان کے خون میں کسی اور چیز کے لیے جگہ ہی باقی نہیں رہنے دی ہے بلکہ پوری زندگی ہی انڈٖسٹری ہوگئی ہے۔
جہاں انڈسٹری آجاتی ہے وہاں سے انسانیت بھاگ جاتی ہے اور جہاں انسانیت آتی ہے انڈسٹری اپنا سر کھالیتی ہے۔اور یہ سب ایک ایسے بندے کی برکت سے ہے جو تھا تو ابلیس کا پتر جنم۔لیکن اس جنم میں اس کا نام لارڈ میکالے تھا جس نے تعلیم کے نام پر ایک ایسی چیز ایجاد کی جس نے انسان کو ’’ری کنڈیشن‘‘ کرکے دوبارہ حیوان بلکہ درندہ بنا دیا ہے۔ اس ایجاد کو لوگ غلط فہمی سے ’’علم‘‘سمجھتے ہیں جب کہ اصل میں وہ’’جہل‘‘ کی سب سے بڑی انڈسٹری ہے بلکہ یوں کہیے کہ آگے کی تمام انڈسٹریوں کی ماں ہے۔یہ انسان کو بڑے کمال سے ایجوکیٹڈ بنادیتی ہے، ڈاکٹر بنا دیتی ہے، انجینئر، بابو،افسر، استاد، سائنس دان ،لیکن ساتھ ہی اس سے انسان کو نکال لیتی ہے۔
چلیے مکمل سمجھانے کے لیے ہم اپنے ایک پڑوسی کی مثال دیتے ہیں پڑوسی ہمارا کلاس فیلو بھی تھا لیکن پھر ہم پر خدا مہربان ہوا ہم نے اسکول چھوڑ دیا وہ کھاتے پیتے گھرانے کا تھا اس لیے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اسی سلسلے میں وہ بیرونی ملک بھی گیا۔اس کی کامیابیوں کی خبریں مسلسل آرہی تھیں، بیرون ممالک ہی میں اسے اچھی جاب بھی ملی۔ پھر جب یہاں آگیا تو ایک جدید سرکاری ادارے کا سربراہ بن گیا۔
ریٹائرڈ ہونے پر ایک بنگلہ حیات آباد ایک اسلام آباد میں بنایا۔اور گاؤں میں بھی اڑوس پڑوس کی زمین خرید کر ایک شاندار بنگلہ کھڑا کیا۔لیکن لوگوں سے بھی تعلق رکھے ہوئے تھا شادی غمی میں آتا جاتا تھا اس لیے نہیں کہ اسے گاؤں والوں یا رشتے داروں سے محبت تھی بلکہ ان کو مرعوب اور متاثر کرنے کے لیے یہ دکھانے کے لیے کہ تم کہاں ہو اور میں کیا ہوں، کیا بن گیا ہوں کہاں پہنچ گیا ہوں۔
ظاہر ہے وہ جب بھی آتا تھا لوگ اس کے پروانے بن جاتے، سر آنکھوں میں بٹھانے اور بات بات میں اپنی مزید کامیابیوں، ترقیوں اور بیٹوں کی فتوحات کے قصے سناتا، کبھی حیات آباد کے بنگلے میں، کبھی گاوں کے بنگلے میں بڑی بڑی دعوتیں اور حیراتیں کرتا۔ ملنے پر رسمی علیک سلیک کرتے اور پھر دور ہوکر بیٹھ جاتے۔وہ ہمارے اس رویے سے سخت شاکی تھا بلکہ کہیں کہیں اس بارے میں لوگوں سے ہماری شکایت بھی کرلیتا کہ دیکھو یہ شخص میرے بچپن کا ساتھی، کلاس فیلو اور اتنا کچھ تھا مگر سیدھے منہ بات بھی نہیں کرتا، دراصل اسے ہم سے کوئی رغبت نہیں تھی بلکہ ہمیں ’’مفتوح‘‘ نہ کرنے کا رنج تھا۔
ایک دن وہ ایک شادی میں آئے تھے ہم نے ہاتھ ملایا۔رسمی علیک سلیک کی اور پھر ہم دور ایک کونے میں اپنے کچھ پسندیدہ لوگوں میں جاکر بیٹھ گئے اور گپ شپ ہوتی رہی، کھانا بھی چل رہا تھا ہم محسوس کررہے تھے کہ وہ ہم پر نظر رکھے ہوئے ہے، آخر میں جب ہمارے ساتھی بھی چھٹ گئے پھر تو وہ بڑا آدمی ہمارے پاس آیا اور کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے بولا۔ہم سے نہیں لگتی کیا؟ نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں۔نہیں کوئی بات تو ہے تم میرے بچپن کے ساتھی پڑوسی اور کلاس فیلو رہے ہو۔لیکن کھچ کھچ کر رہتے ہو کیوں؟ ہم نے پھر جان چھڑاتے ہوئے کہا، کچھ بھی نہیں۔ وہ بولا، میں نے حیات آباد میں اپنے بنگلے کے افتتاح پر اور کئی دعوتوں میں تمہیں بلایا مگر نہیں آئے ، یہاں تک کہ میرے بیٹوں کی شادیوں میں بھی نہیں آئے اور یہاں بھی آتا ہوں تو نظرانداز کردیتے ہو۔میں نے سوچا بات اب ڈھول کے سوراخ تک آگئی ہے تو کھری کھری سنا دوں،ناراض ہو تو ہو میری بلا سے۔اس لیے جناب عالی کہ اب تم وہ نہیں رہے ہو جو کبھی ہوا کرتے تھے۔کیا مطلب؟
اس سامنے پنکھے کو دیکھ رہے ہو
ہاں کیا ہے اس میں
یہی بات ہے کہ اس میں کچھ نہیں صرف پنکھا ہے اور وہی کررہا ہے جو بنانے والوں نے اس کے اندر ڈالا ہے، یہ گھوم سکتا ہے، ہوا دے سکتا ہے لیکن یہ نہ ہنس سکتا ہے نہ مسکرا سکتا ہے بلکہ خود سے نہ چل سکتا ہے نہ رک سکتاہے۔وہ ہنس پڑا۔تو پنکھا اور کیا کرے گایہیں کر سکتا ہے یہی تو میں بھی تمہیں سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں پنکھا اور کچھ نہیں کرسکتا اور تم بھی ایک پنکھے کی طرح ہو۔
میں؟ میں پنکھا ہوں
ہاں پنکھا نہ سہی،موٹر سہی ریل گاڑی یا ہوائی جہاز سہی۔اچھا اب میں ریل گاڑی،سائیکل اور ہوائی جہاز بھی ہوگیا ہوں۔ہاں یہ تم جس تعلیمی انڈسٹری کے بنائے گئے ہو تم وہی کرسکتے ہو اور وہی کرتے رہے۔تو اور کیا کرتا؟۔کر بھی نہیں سکتے کہ انڈسٹری نے تمہیں وہی کچھ بنایا ہے جو بنانا چاہا۔تم نے ایک خاص قسم کی تعلیم حاصل کی اور اب ایک خاص قسم کی چیز بن گئے اور بس۔تم عجیب باتیں کررہے ہو۔عجیب نہیں سچ۔ تم نے نام کمایا پیسے کمائے شہرت حاصل کی لیکن بتاؤ تم نے کبھی کسی انسان کی کوئی مدد کی؟ لیکن وہ چپ رہا۔
ہم نہیں بنے اور رہے پنکھا کسی کا۔