آدھا وزیر اعلیٰ اور آدھی ریاست

اقتدار و اختیار کا لالچ اور لوبھ بُری بلا ہے ۔ لالچ سے مغلوب و مجبور ہو کر انسان اپنے حق سے بھی پیچھے ہٹ جاتا ہے ۔


تنویر قیصر شاہد January 23, 2026

جنوری2025کے پہلے ہفتے مقبوضہ کشمیر میں ایک عجب واقعہ رُونما ہُوا ۔ غاصب وقابض بھارتی حکومت نے جموں میں کھلنے والے نئے میڈیکل کالج کالائسنس ہی منسوخ کر دیا ۔ یعنی یہ میڈیکل کالج اب سرے سے ہی غیر فعّال ہو چکا ہے ۔ اِس میڈیکل کالج کا نام ہے: وشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس۔یہ میڈیکل کالج پچھلے سال ہی جموں میں کھلا تھا ۔ اِس میں ایم بی بی ایس کے طلبا و طالبات کے لیے50سیٹیں رکھی گئی تھیں۔ایک بھی سیٹ کوٹے پر نہیں تھی۔

داخلے کھلے ، امتحانات ہُوئے اور میرٹ بنا تو مقبوضہ کشمیر کے46 مسلمان لڑکے لڑکیاں میرٹ پر پورا اُتر کر مذکورہ میڈیکل کالج میں داخلے کے اہل قرار پائے ۔ یہ منظر بھارتی مقتدر، بنیاد پرست اور متعصب پارٹی ، بی جے پی،اور بھارتی ہندوؤں کو بہت چبھا کہ کشمیری مسلمان بچے بچیاں اکثریت میں کیوں میڈیکل کالج میں داخل ہو گئے؟ جب کہ ہندو طلبا و طالبات میرٹ سے نیچے گر گئے تھے ؛ چنانچہ سب نے رَل مل کر اس قدر شور مچایا کہ بھارت کے مرکزی سرکاری محکمے (MARB) نے مذکورہ میڈیکل کالج ہی بند کر دیا ۔ اور جو46 مسلمان کشمیری لڑکے لڑکیاں میرٹ پر منتخب ہو گئے تھے ، اُن کے بارے میں چارو ناچار یہ فیصلہ کیا گیا کہ انھیں مقبوضہ کشمیر کے دیگر مختلف میڈیکل کالجوں میں کھپا دیا جائے ۔

یاد رہے ، اِس وقت مقبوضہ کشمیر میں 13میڈیکل کالج کام کر رہے ہیں ۔میرٹ پر ایم بی بی ایس کی تعلیم کے لیے46 کشمیری مسلمان طلبا و طالبات کے خلاف بھارتی حکومت کے اِس فیصلے سے ایک بار پھر عیاں ہو گیا ہے کہ بھارتی حکومت کا مقبوضہ کشمیر کے خلاف سیاسی ، مذہبی و معاشی تعصب کن انتہاؤں کو پہنچ چکا ہے ۔

وشنو دیوی میڈیکل کالج بند کیے جانے پر بی جے پی اور اِس کے وابستگان نے خوب جشن منایا ہے کہ یہ اُن کی کشمیری مسلمانوں کے خلاف ایک اور ’’فتح‘‘ ہے۔ حیرت انگیز بات مگر یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے (کٹھ پتلی) وزیر اعلیٰ، عمر عبداللہ ، دہلی سرکارکے اِس ظالمانہ اقدام پر محض منمنا کر رہ گئے ہیں۔ احتجاج میں موصوف بس یہ الفاظ کہنے پر اکتفا کر گئے :’’ ہمارے (کشمیری) بچوں کا قصور کیا تھا؟ اُنھوں نے تو میرٹ پر داخلے لیے تھے ۔

سب ٹیسٹ بھی پاس کر گئے تھے ۔ افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے کہ بی جے پی نے وشنو دیوی میڈیکل کالج میں بھی سیاست ، تعصب اور فرقہ واریت داخل کردی ہے ۔ اگر میرا کوئی بیٹا یا بیٹی اِس کالج میں داخلہ لینا بھی چاہتے تو مَیں اُنہیں قطعاً ایسے میڈیکل کالج میں داخلہ نہ لینے دیتا جہاں بی جے پی والے فرقہ وارانہ سیاست داخل کر چکے ہیں ۔‘‘اگر بی جے پی سمیت جملہ بھارتی بنیاد پرست ہندو جماعتیں جموں کے ’’وشنو میڈیکل کالج‘‘ کے مسلمان طلبا کے خلاف ہندو تنظیموں کو نہ بھڑکاتیں تو یہ المیہ بھی جنم نہ لیتا ۔ اگر مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ، عمر عبداللہ، نریندر مودی کی حکومت کے اِس استحصالی فیصلے کے خلاف ڈٹ جاتے تو شائد مذکورہ میڈیکل کالج بند ہونے سے بچ جاتا، مگر عمر عبداللہ ’’صاحب‘‘ بھارتی بنیاد پرست ہندوؤں کے سامنے ٹھہرنے کا رسک نہ لے سکے ۔

اقتدار و اختیار کا لالچ اور لوبھ بُری بلا ہے ۔ لالچ سے مغلوب و مجبور ہو کر انسان اپنے حق سے بھی پیچھے ہٹ جاتا ہے ۔ یہ مثال مقبوضہ کشمیر کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ، عمر عبداللہ، پر پوری طرح منطبق ہوتی ہے ۔ وہ کہنے کو تو منتخب وزیر اعلیٰ ہیں ، مگر اختیارات و اعتبارات کے لحاظ سے محض ایک پتلی تماشہ۔ اقتدار کو مگر وہ چھوڑنے کے لیے مطلقاً تیار نہیں ہیں ۔ اُن کے باپ اور دادا نے بھی یہی راستہ اور وطیرہ اختیار کیا تھا ۔ اقتدار بس ہاتھ میں رہے ، خواہ آدھا ہی کیوں نہ ہو۔ عمر عبداللہ کے دادا ( شیخ عبداللہ ) اور والد ( فاروق عبداللہ) نے بھی مقبوضہ کشمیر پر دہلی کے کنٹرول کو کبھی چیلنج نہیں کیا تھا ۔ اب یہی رویہ عمر عبداللہ کا ہے۔ وہ دہلی کے حکمرانوں اور انڈین اسٹیبلشمنٹ کے سامنے رو بھی رہے ہیں اور وزارتِ اعلیٰ بھی چلا رہے ہیں، میر تقی میر کا یہ شعر گنگناتے ہُوئے : ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی/ چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ، ہم کو عبث بدنام کیا !!

بھارتی و کشمیری بنیاد پرست ہندو تنظیموں کا مطالبہ تھا کہ ’’وشنو دیوی میڈیکل کالج‘‘ میں بھارتی ہندو طلبا وطالبات کے لیے کئی سیٹیں مختص و محفوظ (Reserve) رکھی جائیں ۔ یہ مطالبہ کرنے والی بھارتی ہندو تنظیموں کا کہنا تھا کہ ’’چونکہ مذکورہ میڈیکل کالج شری ماتا وشنو دیوی مندر کے پجاریوں کے عطیات سے بنایا گیا ہے، اس لیے اِس میں داخلہ بھی ہندو طلباو طالبات کا حق بنتا ہے۔‘‘ اور جب اِس ناجائز اور بے جا مطالبے کو تسلیم نہ کیا گیا تو میڈیکل کالج کے دروازے ہی بند کر دیے گئے ۔

یہ فیصلہ کشمیری مسلمان طلبا کے ساتھ کھلواڑ قرار پایا ہے ۔ مگر مودی کی مسلمان دشمن حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی ۔ مقبوضہ کشمیر کے منتخب وزیر اعلیٰ، عمر عبداللہ، اِس ظلم پر خاموش ہیں ، حالانکہ سری نگر میں اُن کی مقتدر پارٹی کے پاس اکثریت ہے (47میں41سیٹیں عمر عبداللہ کی پارٹی کے پاس ہیں) یہ اکثریت مگر نام نہاد ہی ثابت ہو رہی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر حکومت کے سارے اختیارات مقبوضہ کشمیر کے گورنر ( لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا) کے ہاتھوں میں مرتکز ہیں ۔ اور عمر عبداللہ خود کو ’’آدھا وزیر اعلیٰ‘‘ محسوس کرتے ہیں ۔ بے بس وزیر اعلیٰ۔ اور اِس کا اظہار بھی وہ متعدد بار کر چکے ہیں ۔

چھ سال قبل جب بھارتی وزیر اعظم ، نریندر مودی، نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بیک قلم ختم کر ڈالی تھی اور بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر بارے خصوصی شق (آرٹیکل370) منسوخ کر دیا تھا، تب سے مقبوضہ کشمیر بھی کشمیریوں کے لیے آدھی ریاست بن چکا ہے۔ یوں عمر عبداللہ کے پاس اختیارات بھی نصف ہی رہ گئے ہیں۔ اِس کے باوجود وہ اقتدار کی دیوی سے چپکے ہُوئے ہیں ۔ شائد اِسی لیے عمر عبداللہ کے وزیر اعلیٰ بننے پر دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ ( اروند کجریوال) نے عمر عبداللہ کو مبارکباد دیتے ہُوئے طنزیہ کہا تھا:’’ کشمیر کا وزیر اعلیٰ بننے پر میرے طرف سے آپ کو مبارک۔دہلی کو بھی آدھی ریاست کہا جاتا ہے ، اس لیے مجھے بھی آدھے اختیارات دیے گئے تھے۔ اِسی طرح آرٹیکل 370کی تلوار چلنے کے بعد (مقبوضہ ) کشمیر بھی اب آدھی ریاست بن چکی ہے اور آپ اِس آدھی ریاست کے آدھے وزیر اعلیٰ بنے ہیں ؛ چنانچہ مَیں آپ کو مشورہ دیتا ہُوں کہ جب بھی آپ کو وزارتِ اعلیٰ کے دوران دہلی سرکار سے رکاوٹوں اور مسائل کا سامنا کرنا پڑے تو مشاورت کے لیے میرے دروازے کھلے ہیں ۔‘‘

اروند کجریوال 10سال تک دہلی کے منتخب وزیر اعلیٰ رہے ہیں ۔ آخر بی جے پی نے اپنی سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے کجریوال کی پارٹی(AAP) کو ہرا دیا  کجریوال کو مسلسل بی جے پی کی مخالفتوں اور سازشوں کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ اور اب مقبوضہ کشمیر کے ’’آدھے وزیر اعلیٰ‘‘ عمر عبداللہ کو بھی بی جے پی کی سازشوں اور مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ گویا کہا جا سکتا ہے کہ اروند کجریوال اور عمر عبداللہ ایک ہی کشتی کے مسافر ہیں ۔ کجریوال تو اِس کشتی سے اُتر چکے ہیں، جب کہ عمر عبداللہ ابھی کشتی پر سوار ہیں، مگر مجبورِ محض بن کر ۔اُن کی آدھی وزارتِ اعلیٰ پر سبھی طنز کررہے ہیں ۔

مقبوضہ کشمیر کے ایک ممتاز صحافی کا کہنا ہے کہ ’’ جب سے عمر عبداللہ وزیر اعلیٰ بنے ہیں، ایک بھی کام اور فیصلہ اپنی مرضی سے نہیں کر سکے ہیں ۔ اور نہ ہی مودی کے استحصالی فیصلے (آرٹیکل370کے خاتمے) کو ریورس کروا سکے ہیں ۔ عمر عبداللہ اور اُن کی وزیر تعلیم (سکینہ اِتّو) نے کشمیری لیفٹیننٹ گورنر کے چند فیصلے ریورس کرنے کی کوشش تو کی، مگر کامیاب نہ ہو سکے ۔‘‘ عمر عبداللہ نے وزیر اعلیٰ بنتے ہی اپنی کابینہ کے ساتھ نئی دہلی کا دَورہ بھی کیا تھا، وزیر اعظم مودی اور امیت شاہ ایسے طاقتور وزیروں سے بھی ملے اور سب کی خدمت میں مہنگی ترین کشمیری شالز بھی پیش کیں، مگر آدھے وزیر اعلیٰ کا کوئی آدھ مطالبہ بھی تسلیم نہ کیا گیا ۔

مقبول خبریں