پنشن یافتگان کے بارے میں سرکاری اداروںکا جو رویہ رہا ہے، اس کے بارے میں ایک بار راقم الحروف نے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ پنشن خیرات نہیں ہے بلکہ یہ ایک شخص کی ایک مدت کی خدمات کا اعتراف ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ نے حال ہی میں ایک سرکاری ملازم محمد عثمان کو اس کی 60 سالہ خدمات کے صلے میں مکمل پنشنری فوائد دینے کا حکم صادرکیا ہے۔
ہمارا ملک اقتصادی بحران کا شکار ہے۔ یہ بحران واقعی بھی ہے اور بعض صورتوں میں مصنوعی بھی۔ ہم بعض پیشوں اور ہوشیار افراد کی لوٹ مارکا سبب ہونے والے نقصانات کا ازالہ سرکاری ملازم کی پنشن کے واجبات کی ادائیگی کو قرار دیتے ہیں۔
کبھی کہا جاتا ہے کہ پنشن کی رقم قوم کے کاندھے کا بوجھ ہے، اسے فوراً بند کر دینا چاہیے، کبھی کوئی اسکیم گھڑ لی جاتی ہے جس کے تحت سرکاری ملازم مدت ملازمت کے اختتام پر ایک خاص رقم کا حق دار ہوگا اور پھر قصہ ختم۔ مگر یہ خاص رقم بھی خاص الخاص بنتی ہے اور ملکی اقتصادیات کا بوجھ ہی قرار پاتی ہے توکیا پنشنرکو پنشن ہوتے ہی ہلاک کردیا جائے تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ جب پنشن کی رقم سے نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تو پنشن یافتگان کو طرح طرح کے خوفناک منصوبوں سے آشنا کیا جاتا ہے مگر ان میں سے کوئی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتا اور اس لیے پرنالہ وہیں گرتا رہتا ہے۔
پچھلے دنوں سپریم کورٹ میں ایک سرکاری ملازم عثمان کی پنشن کے واجبات کا مقدمہ پیش ہوا۔ اس شخص نے بیس سال کی کوالی فائنگ مدت مکمل کرنے کے بعد ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس نے پنشن کے مطالبے میں تاخیر کی اور مطالبہ کیا تو فیڈرل سروس ٹریبونل نے اس کا مطالبہ مسترد کردیا۔ اس نے سپریم کورٹ میں اپیل کی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پنشن کوئی خیرات نہیں ہے، بلکہ یہ سرکاری ملازم کی ایک مدت ملک کی خدمت کا اعتراف ہوتا ہے۔
چنانچہ جسٹس شفیع صدیقی نے ٹریبونل کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ملازم نے 60 سالہ کوالی فائنگ مدت مکمل کرنے کے بعد استعفیٰ دیا لیکن پنشن کے واجبات طلب کرنے میں تاخیر ہوئی مگر تاخیر سے اس کے واجبات کا حق ختم نہیں ہوتا، اس لیے اسے تمام واجبات اور وہ فوائد جن کا وہ مستحق ہے ادا کیے جائیں۔جب تک حکومتی مشینری پنشن میں ادا کیے جانے والے اخراجات کے لیے کوئی مناسب صورت حال پیدا نہیں کر سکتی، اس وقت تک پنشنر کو موجودہ فوائد ملتے رہنا چاہئیںاور تنگ دستی سے آشنا کرنے کی کوئی بھی کوشش غیر انسانی فعل ہی شمار ہوگی۔غیر انسانی فعل کی بات نکلی ہے تو امریکی صدرکے کارنامے زیر بحث لائے بغیر چارہ نہیں کیوں کہ بین الاقوامی سطح پر موصوف کے اقدامات آمرانہ اور خالص غیر انسانی افعال ہیں۔
گرین لینڈ ڈنمارک کا حصہ ہے، رقبے کے اعتبار سے چھوٹا مگر فطرت کی عطاؤں کے اعتبار سے بڑا ملک ہے۔ وہ روایتی طور پر ڈنمارک کا حصہ رہا ہے، مگر اب مسٹر ٹرمپ کی نیت میں اس کے تعلق سے خرابی پیدا ہوگئی ہے۔ وہ اس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں جب کہ ڈنمارک کا کہنا ہے کہ اگر گرین لینڈ کے مستقبل کا کوئی فیصلہ ہونا ہے تو وہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے عوام کو کرنا ہے ۔ مسٹر ٹرمپ کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ گرین لینڈ کے اس موقف کی متعدد یورپی ممالک نے حمایت کی ہے جن میں سوئیڈن، ناروے، برطانیہ، نیدرلینڈ اور فن لینڈ شامل ہیں۔لیکن جناب ٹرمپ بزعم خود فرماتے ہیں کہ گرین لینڈ چھوٹا سا ملک ہے اور ڈنمارک اس کا دفاع کرنے کی صلاحیت قطعی نہیں رکھتا۔ گرین لینڈ عالمی سلامتی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
روس اور چین اس پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں اورگرین لینڈ کا دفاع امریکا کے علاوہ کوئی اور کر ہی نہیں سکتا۔دراصل شیر جب بلی کو کھانا چاہے تو اسے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی مگر وہ دنیا دکھاؤے کے لیے کوئی بہانہ ضرور بناتا ہے، اب گرین لینڈ کی ’’عالمی سلامتی کے لیے کلیدی حیثیت‘‘ اور اس کی سلامتی کا دنیا جہاں میں واحد ذمے دار امریکا کا ہونا انتہائی مناسب بہانہ ہے۔اس لیے امریکا نے فوری اقدام یہ کیا کہ ڈنمارک کی حمایت کرنے والے آٹھوں یورپی ممالک پر 10 فی صد ٹیرف فوری طور پر عائد کردیا ہے اور اسے بڑھا کر 25 فی صد تک کرنے کی نوید بھی سنا دی ہے تاکہ ڈنمارک کی حمایت میں کھڑے ہونے والے یورپی ممالک کی کمر توڑی جا سکے اور ان کی مناسب سرکوبی کی جا سکے۔خیال رہے کہ غزہ پر امریکی قبضے کی نئی صورت نکالی گئی ہے جو سامراجی ذہن کی عکاس ہے اور ہر سامراجی مزاج کا حامل اسی طرح برتاؤ کرتا ہے۔
غزہ امریکی اجارہ داری میں نہیں، مگر وہاں کے لیے صدر امریکا نے بغیر کسی لائسنس کے ازخود ایک ’’ بورڈ آف پیس‘‘ تشکیل دیا ہے جس کی کارکردگی کا وہ خود معائنہ کرتے رہیں گے۔ اس کے بانی ارکان مارکو روبیو اور ٹونی بلیئر ہوں گے۔ اس کے علاوہ میجر جنرل رینک کے امریکی فوجی عہدیدار کو بین الاقوامی فورس کا کمانڈر مقررکردیا ہے۔چلیے قصہ پاک ہوا، غزہ بھی مسٹر ٹرمپ کی جھولی میں اورگرین لینڈ بھی ان کی مٹھی میں۔ اب دنیا میں امن وچین کی بانسریاں بج رہی ہوں گی اور ہر طرف مسٹر ٹرمپ کی واہ واہ ہو رہی ہوگی، قصہ ختم، پیسہ ہضم !