قرۃ العین حیدرکے پانچ ناولٹ ہیں۔ سیتا ہرن، چائے کے باغ، دلربا، اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو، ہاؤسنگ سوسائٹی۔ ہاؤسنگ سوسائٹی پہلے پت جھڑ کی آواز میں شامل تھا، بعد میں پبلشرز نے اسے الگ کر کے ناولٹ کی شکل میں شائع کیا، یہ کہانی ان کے قیام پاکستان کے دوران لکھی گئی،جب کہ ان کا قیام کراچی کی اولین شرفا اور سرکاری ملازمین کی سوسائٹی میں تھا، خود ہمارا گھر بھی ہاؤسنگ سوسائٹی بلاک 2 میں تھا، جہاں سے ہل پارک بہت نزدیک تھا، یہاں قرۃ العین حیدرکے بھائی مصطفیٰ حیدرکا گھر بھی تھا۔
سیتا ہرن کی ہیروئن مایا ایک حقیقی کردار ہے۔ ہمارے یونیورسٹی کے زمانے میں شعبہ انگریزی میں ایک لیکچرر تھیں مایا جمیل، یہی افسانے کا مرکزی کردار ہیں، ہم لوگ بڑے اشتیاق سے انھیں دیکھا کرتے تھے۔ وہ عموماً ساڑھی باندھتی تھیں، سانولی سلونی پرکشش مایا جمیل بہت ہردلعزیز تھیں۔ چائے کے باغ کا پس منظر مشرقی پاکستان ہے۔ دلربا ایک بہت دلکش ناولٹ ہے۔ اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو کی قمرالنساء کی کہانی آنکھوں میں آنسو لے آتی ہے۔ عینی کا قلم ہر قسم کے جذبات کو انتہائی مہارت سے قلم بند کرتا ہے۔
قرۃ العین حیدر نے 7 ناول لکھے۔ (1)۔ میرے بھی صنم خانے (2) سفینہ غم دل۔ (3)۔آگ کا دریا (4)۔آخر شب کے ہم سفر (5)۔گردش رنگ چمن۔ (6) چاندنی بیگم۔ تین ان کے سوانحی ناول ہیں۔ (1)۔کار جہاں دراز ہے، حصہ اول دوم اور سوم۔ تیسرے حصے میں انھوں نے سلمان رشدی کا بھی تذکرہ کیا ہے جو بیگم مجید ملک کا قریبی عزیز تھا۔کار جہاں درازکے تیسرے حصے کو انھوں نے شاہراہ حریرکا نام دیا ہے۔
اسی میں انھوں نے میڈم آزوری کا بھی تفصیلی ذکرکیا ہے جو ایک برانڈڈ صابن کی پہلی ماڈل تھیں۔ ذاتی طور پر مجھے ان کا ناول ’’ گردش رنگ چمن‘‘ بہت پسند ہے۔ اسے میں تین بار پڑھ چکی ہوں۔ اس ناول کا پس منظر 1857 کی جنگ آزادی ہے جب خوف کے مارے مسلمان لڑکیوں نے ٹھنڈے تندوروں میں چھپ چھپ کر اپنی جانیں بچائی تھیں، یہ ناول پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
عینی نے گیارہ رپورتاژ بھی لکھے۔ (1)۔لندن لیٹر۔(2)ستمبر کا چاند(3)۔ چھٹے امیر تو بدلا ہوا زمانہ تھا (4)۔ در چمن ہر ورقی، دفتر حال دیگر ست۔ (5) کوہ دماوند۔ (6)۔ قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے (7) ۔گل گشت (8)۔جہاں دیگر۔ (9)۔ خضر سوچتا ہے۔ (10)۔ دکن سا نہیں ٹھار سنسار میں۔ (11)۔ پدما ندی کے کنارے۔ ان رپورتاژوں میں مجھے سب سے زیادہ پراثر اور دلکش ’’دکن سا نہیں ٹھار سنسار میں‘‘ لگا۔ باقی بھی اپنی جگہ بہترین ہیں، میں نے ذاتی طور پر رائے دی ہے۔
قرۃ العین حیدر نے انگریزی سے اردو زبان میں تراجم بھی کیے ہیں، جن میں ’’ایلس ان ونڈر لینڈ‘‘ اور ہنری جیمس کی تصنیف Portrait Of a Lady کا اردو ترجمہ ’’ہمیں چراغ ہمیں پروانے‘‘ کے نام سے کیا۔ نیز دوسری زبانوں کے تراجم بھی کیے۔ سید ولی اللہ کے بنگالی ناول ’’ ناؤ‘‘ کا اردو ترجمہ اور ’’ تین جاپانی کھیل، آسٹریلین کہانی ’’ رات کی بات‘‘ منجائل شولوف کی کہانی The Fate of a Man کا ترجمہ ’’آدمی کا مقدر‘‘ کے نام سے کیا۔ ٹرومین کایوٹ کی کہانی Breakfast at Tiffany کا ترجمہ ’’ تلاش‘‘ کے نام سے کیا۔ قرۃ العین حیدر نے اپنے بعض ناولوں، ناولٹ اور افسانوں کے انگریزی تراجم خودکیے ، جیسے آگ کا دریا کا ترجمہ The River of Fire کے نام سے۔ یاد رہے آگ کا دریا میں انھوں نے شعورکی رد کی تکنیک استعمال کی ہے۔
اسی لیے انھیں اردوکی ورجینیا وولف بھی کہا جاتا ہے۔ شعورکی رد کی مثالیں ورجینیا وولف اور جیمس جوائس کی تصانیف میں ملتی ہیں۔ اس کے علاوہ آخرشب کے ہم سفرکا انگریزی ترجمہ Fire Files in the Mist کے نام سے۔ پت جھڑکی آوازکا The Sound of Falling Leaves کے نام سے۔ جلا وطن کا The Exiles کے نام سے۔ اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو کا ترجمہ A Women's life کے نام سے۔ چائے کے باغ کا ترجمہ The Garden of Sychet کے نام سے کیا۔ یہ ناولٹ سابقہ مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش کے تناظر میں لکھا گیا ہے۔
جب وہ پی آئی اے کی ملازمت کے دوران مشرقی پاکستان گئی تھیں۔ بہت سے دوسرے ادیبوں نے بھی ان کے ناولٹ اور افسانوں کے تراجم دوسری زبانوں میں کیے ہیں۔ مثلاً آگ کا دریا کا ترجمہ انگریزی اور روسی زبانوں کے علاوہ ہندوستان کی چودہ زبانوں میں ہوا۔ اس کے علاوہ چاندنی بیگم کا ترجمہ ہندی میں، اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو کا ہندی میں۔ ان کے علاوہ سیتا ہرن، آخر شب کے ہم سفر، یہ داغ داغ اجالا، پت جھڑکی آواز اور ہاؤسنگ سوسائٹی کے تراجم شامل ہیں۔
قرۃ العین حیدر کے افسانوں میں بعض افسانے ایسے ہیں، جو ان کے کسی مجموعے میں شامل نہیں، وہ صرف ادبی رسالوں کی زینت بنے۔ ان افسانوں میں سنگھار دان، فصل گل آئی یا اجل آئی، بڑے آدمی، تار پر چلنے والی، ایک شام، وہی زمانہ وہی فسانہ، یہ باتیں، تلاش، آوازیں، وغیرہ۔ ان کے سارے ہی افسانے، ناولٹ اور رپورتاژ میں نے پڑھے ہیں۔
مجھے ذاتی طور پر بعض افسانے بہت زیادہ پسند ہیں، عینی کا طرز تحریر، اسلوب اور انداز بیاں اتنا منفرد اور دلکش ہے کہ قاری اس کے سحر میں کھو جاتا ہے۔ پسندیدہ افسانوں میں پہلا نمبر جس افسانے کا ہے وہ ہے ’’ نظارہ درمیاں ہے‘‘ یہ ایک معرکۃ الآرا افسانہ ہے جس نے مجھے بہت متاثرکیا، دوسرے نمبر پر ہے ’’ کچھ اس طرح سے بھی رقص فغاں ہوتا ہے‘‘۔ ان کے علاوہ پت جھڑکی آواز، سنگھار دان، کہرے کے پیچھے، حسب نسب، تار پر چلنے والی، روشنی کی رفتار، سیکریٹری، ’’یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے‘‘ اور ’’لکڑ بگھے کی ہنسی۔‘‘
قرۃ العین حیدرکو متعدد ایوارڈ بھی ملے ہیں جن میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ 1967 میں ان کے افسانے ’’پت جھڑکی آواز‘‘ پر دیا گیا۔ اس کے علاوہ سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ 1969 میں تراجم پر دیا گیا، پدم شری ایوارڈ 1984 میں حکومت ہندوستان نے دیا۔ اس کے علاوہ غالب انسٹی ٹیوٹ کا غالب ایوارڈ1984 میں دیا گیا۔ ’’گیان پیتھ ایوارڈ‘‘ جو ہندوستان کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہے وہ انھیں 1990 میں دیا گیا۔ یہ ایوارڈ ان سے پہلے صرف فراق گورکھ پوری اور علی سردار جعفری کو ملا تھا۔ قرۃ العین حیدر بھی دوسرے حساس لوگوں کی طرح ہندوستان کی تقسیم کو ذہنی طور پر قبول نہیں کرسکی تھیں۔
یہ ایک المیہ تھا کہ عید اور دیوالی ساتھ منانے والے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے، تلواریں اورکرپانیں نکل آئیں، لوگ اپنے ہنستے بستے گھر چھوڑکر ایک نئی سرزمین پہ آ بسے۔ ہجرت اور تقسیم کا دکھ وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اس کرب سے گزرے ہیں۔ یہ کیسا المیہ تھا کہ ایک ہی زمین کے ٹکڑے کر کے خاندانوں کو تقسیم کردیا گیا۔ زمین کی تقسیم تو ایک جغرافیائی حقیقت تھی اور رہے گی، لیکن دلوں کو تقسیم کرنے کا کیا مطلب ہے یہ ہر کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ قرۃ العین حیدر جب پاکستان آئیں اور ہمیشہ رہنے کے لیے اپنی والدہ کے ساتھ آئیں تو انھوں نے اس بات کو بہت شدت سے محسوس کیا۔ ان کے بیش تر افسانوں اور ناولوں میں یہ بات شدت سے محسوس ہوتی ہے۔
ایوب خان کے مارشل لا میں ایک لابی ان کے خلاف متحرک ہوگئی، یہ وہی لوگ تھے جو ایوب خان کی خوشامد اور ان سے مراعات حاصل کرتے تھے۔ قرۃ العین حیدر اس رویے کو برداشت نہ کر سکیں اور برطانیہ چلی گئیں۔ قرۃ العین حیدرکا کہنا تھا کہ ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کا کیا قصور ہے جو انھیں سزا دی جا رہی ہے۔ دوسری طرف ان خاندانوں کا بھی المیہ تھا جو ہجرت کرکے پاکستان آگئے تھے۔ جنھوں نے سرزمین کو سجدہ کیا تھا، اس کی خاک کو سرمہ بنایا تھا، وہ کیوں ایک نظر نہ آنے والے عذاب مسلسل میں رہ رہے ہیں۔ ’’کار جہاں دراز ہے‘‘ کی دوسری جلد میں انھوں نے ان حالات سے پردہ اٹھایا ہے کہ کس طرح بیوروکریسی اور ان کے ہم عصروں کے چہروں پر سے نقاب اٹھایا ہے جنھوں نے انھیں ترک وطن پہ مجبور کیا۔
وہ تو اپنی والدہ کے ساتھ یہاں رہنے آئی تھیں۔ کار جہاں دراز ہے کہنے کو تو سوانحی ناول ہے لیکن یہ ایک ایسی دستاویز ہے جس میں منافقوں کے چہروں کی نقاب کشائی بڑے اچھے طریقے سے کی گئی ہے۔ قرۃ العین حیدرکی وفات کے بعد اردو ادب کے ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا۔ اب ان جیسا دوسرا کوئی نہیں، وہ ایک جینوئن ادیبہ تھیں، حساس اور ذہین تھیں انھوں نے ساری زندگی اردو ادب کے لیے وقف کردی۔ 21 اگست 2007 کو وہ اس دنیا سے چلی گئیں، ان کی وفات دلی میں ہوئی۔