اسلام ان تمام حقوق میں، جو کسی مذہبی فریضے اور عبادت سے متعلق نہ ہوں، بلکہ ان کا تعلق ریاست کے نظم و ضبط اور شہریوں کے بنیادی حقوق سے ہو، غیر مسلم اقلیتوں اور مسلمانوں کے درمیان عدل و انصاف اور مساوات قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔
قرآن مجید میں ان غیر مسلموں کے ساتھ، جو اسلام اور مسلمانوں سے بر سر پیکار نہ ہوں اور نہ ان کے خلاف کسی سازشی سرگرمی میں مبتلا ہوں ان سے خیر خواہی، مروّت، حسن سلوک اور رواداری کی ہدایت دی گئی ہے۔
ارشاد بار ی تعالیٰ کا مفہوم:
’’اﷲ تمہیں اس بات سے منع نہیں کرتا کہ جن لوگوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ان کے ساتھ تم کوئی نیکی کا یا انصاف کا معاملہ کرو۔‘‘ (الممتحنتہ)
اسلامی ریاست میں تمام غیر مسلم اقلیتوں اور رعایا کو عقیدے، مذہب، جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفّظ کی ضمانت حاصل ہے۔ وہ انسانی بنیاد پر شہری آزادی اور بنیادی حقوق میں مسلمانوں کے برابر کے شریک ہیں۔ قانون کی نظر میں سب کے ساتھ یک ساں معاملہ کیا جائے گا، بہ حیثیت انسان کسی کے ساتھ کوئی امتیاز روا نہیں رکھا جائے گا۔ جذیہ قبول کرنے کے بعد اور ان پر وہی واجبات اور ذمے داریاں عاید ہوں گی، جو مسلمانوں پر عاید ہیں، انھیں وہی حقوق حاصل ہوں گے جو مسلمانوں کو حاصل ہیں اور ان تمام مراعات و سہولیات کے مستحق ہوں گے جن کے مسلمان ہیں۔
اگر وہ ذمہ قبول کرلیں، تو انھیں بتا دو کہ جو حقوق و مراعات مسلمانوں کو حاصل ہیں، وہی ان کو بھی حاصل ہوں گی اور جو ذمے داریاں مسلمانوں پر عاید ہیں وہی ان پر بھی عاید ہو ں گی۔ جان کے تحفظ میں ایک مسلم اور غیر مسلم دونوں برابر ہیں۔ دونوں کی جان کا یک ساں تحفظ و احترام کیا جائے گا۔ اسلامی ریاست کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ ایسی غیر مسلم رعایا کی جان کا تحفظ کرے اور انھیں ظلم اور زیادتی سے محفوظ رکھے۔
رسول اکرم ﷺ کے ارشاد کا مفہوم:
’’جو کسی معاہد کو قتل کرے گا وہ جنّت کی خوش بُو تک نہیں پائے گا، جب کہ اس کی خوش بُو چالیس سال کی مسافت سے بھی محسوس ہوتی ہے۔‘‘
اسلامی ریاست مسلمانوں کی طرح ذمّیوں کے مال و جائیداد کا تحفظ کرے گی۔ انھیں حق ملکیت سے بے دخل کرے گی نہ ان کی زمینوں اور جائیدادوں پر زبردستی قبضہ، حتی کہ اگر وہ جذیہ دیں تو اس کے عوض بھی ان کی املاک کو نیلام وغیرہ نہیں کیا جائے گا۔
حضرت علیؓ نے اپنے ایک عامل کو لکھا:
’’خراج میں ان کا گدھا، ان کی گائے اور ان کے کپڑے ہرگز نہ بیچنا۔‘‘
ذمّیوں کو مسلمانوں کی طرح خر ید و فروخت، صنعت و حرفت اور دو سرے تمام ذرایع معاش کے حقوق حا صل ہو ں گے، اور انھیں اپنی املاک میں مالکانہ تصرف کا حق ہوگا، وہ اپنی ملکیت وصیت و ہبہ وغیرہ کے ذریعے دوسروں کو منتقل بھی کرسکتے ہیں۔ ان کی جائیداد ان ہی کے ورثاء میں تقسیم ہوگی، حتیٰ کہ اگر کسی ذمّی کے حساب میں جذیے کا بقایا واجب الادا تھا اور وہ مرگیا تو اس کے ترکے سے وصول نہیں کیا جائے گا اور نہ اس کے ورثا پر کوئی دباؤ ڈالا جائے گا۔ کسی جائز طریقے کے بغیر کسی ذمّی کا مال لینا جائز نہیں ہے۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے، مفہوم: ’’خبردار! معاہدین کے اموال حق کے بغیر حلال نہیں ہیں۔‘‘
(ابو داؤد شریف)
مسلمانوں کی طرح ذمّیوں کی عزت آبرو اور عصمت و عفت کا تحفّظ کیا جائے گا۔ اسلامی ریاست کے کسی شہری کی توہین و تذلیل نہیں کی جائے گی۔ ایک ذمّی کی عزت پر حملہ کرنا، اس کی غیبت کرنا، اس کی ذاتی و شخصی زندگی کا تجسس، اس کے راز کو ٹوہنا، اسے مارنا، پیٹنا اور گالی دینا ایسے ہی ناجائز اور حرام ہے، جس طرح ایک مسلمان کے حق میں۔ اس کو تکلیف دینے سے روکنا واجب ہے۔ اور اس کی غیبت ایسی ہی حرام ہے جیسی کسی مسلمان کی۔ فوج داری اور دیوانی قانون و مقدمات مسلم اور ذمّی دونوں کے لیے یک ساں اور مساوی ہیں۔ جو تعزیرات اور سزائیں مسلمانوں کے لیے ہیں، وہی غیر مسلموں کے لیے بھی ہیں۔ چوری، زنا اور تہمت زنا میں دونوں کو ایک ہی سزا دی جائے گی، ان کے درمیان کوئی امتیاز نہیں کیا جائے گا۔ قصاص، دیت اور ضمان میں بھی دونوں برابر ہیں۔ اگر کو ئی مسلمان کسی ذمّی کو قتل کردے، تو اس کو قصاص میں قتل کیا جائے گا۔ حدیث شریف میں ہے، مفہوم: ’’ ان کے خون ہمارے خون کی طرح ہیں۔‘‘ حضور ﷺ کے زمانے میں ایک مسلمان نے ایک ذمّی کو قتل کردیا، تو آپ ﷺ نے اس کو قصاص میں قتل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ’’میں ان لوگوں میں سب سے زیادہ حق دار ہوں جو ایسا وعدہ وفا کرتے ہیں۔‘‘
ذمّیوں کو اعتقادات و عبادات اور مذہبی مراسم و شعائر میں مکمل آزادی حاصل ہوگی، ان کے اعتقاد اور مذہبی معاملات سے تعرض نہیں کیا جائے گا، ان کے کنائس، گرجوں، مندروں اور عبادت گاہوں کو منہدم نہیں کیا جائے گا۔ ارشاد باری تعالی ہے، مفہوم:
’’دین کے معاملے میں کوئی زبر دستی نہیں ہے۔ ہدایت کا راستہ گم راہی سے ممتاز ہوکر واضح ہوچکا۔‘‘
وہ بستیاں جو اسلامی شہروں میں داخل نہیں ہیں۔ ان میں ذمّیوں کو صلیب نکالنے، ناقوس اور گھنٹے بجانے اور مذہبی جلوس نکالنے کی آزادی ہوگی، اگر ان کی عبادت گاہیں ٹوٹ پھوٹ جائیں تو ان کی مرمت اور ان کی جگہوں پر نئی عبادات گاہیں بھی تعمیر کر سکتے ہیں۔ البتہ امصار المسلمین یعنی ان شہروں میں جو جمعہ، عیدین، اقامت حدود اور مذہبی شعائر کی ادائیگی کے لیے مخصوص ہیں، انھیں کھلے عام مذہبی شعائر ادا کرنے اور دینی و قومی جلوس نکالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اور نہ وہ ان جگہوں میں نئی عبادت گاہیں تعمیر کر سکتے ہیں۔ البتہ اپنی عبادت گاہوں کے اندر انہیں مکمل آزادی حاصل ہوگی اور عبادت گاہوں کی مرمت بھی کرسکتے ہیں۔ وہ فسق و فجور جس کی حرمت کے اہل ذمّہ خود قائل ہیں اور جو ان کے دین میں حرام ہیں، تو ان کے اعلانیہ ارتکاب سے انہیں روکا جائے گا خواہ وہ امصار المسلمین میں ہوں یا اپنے امصار میں ہوں۔ (بہ حوالہ : اسلام کا پیغام امن)
صدقات واجبہ (مثلاً زکوٰۃ ، عشر) کے علاوہ بیت المال کے محاصل کا تعلق جس طرح مسلمانوں کی ضروریات و حاجات سے ہے، اسی طرح غیر مسلم ذمّیوں کی ضروریات و حاجات سے بھی ہے، ان کے فقراء و مساکین اور دوسرے ضرورت مندوں کے لیے اسلام بغیر کسی تفریق کے وظائف معاش کا سلسلہ قائم کرتا ہے۔ خلیفہ کی یہ ذمے داری ہے کہ اسلامی ریاست کا کوئی شہری محروم المعیشت نہ رہے۔ ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے گشت کے دوران ایک دروازے پر ایک ضعیف العمر نابینا آدمی کو دیکھا۔ آپؓ نے اس کی پشت پر ہاتھ رکھ کر پوچھا کہ تم اہل کتاب کے کس گروہ سے تعلق رکھتے ہو۔ اس نے جواب دیا کہ میں یہودی ہوں۔ حضرت عمر ؓ نے دریافت کیا کہ گداگری کی یہ نوبت کیسے آئی۔ یہودی نے کہا: ادائے جزیہ، شکم پروری اور پیرانہ سالی اور گونہ مصائب کی وجہ سے۔ حضرت عمر ؓ نے یہ سن کر اس کا ہاتھ پکڑا اور گھر لائے اور جو موجود تھا، اس کو دیا اور بیت المال کے خازن کو لکھا:
’’یہ اور اس قسم کے دوسرے حاجت مندوں کی تفتیش کرو۔ خدا کی قسم! ہرگز یہ ہمارا انصاف نہیں ہے کہ ہم جوانی میں ان سے جزیہ وصول کریں اور بڑھاپے میں انھیں بھیک کی ذلت کے لیے چھوڑ دیں۔ قرآن کریم کی اس آیت (انما الصدقات للفقراء و المساکین) میں میرے نزدیک فقراء سے مسلمان مراد ہیں۔ اور مساکین سے اہل کتاب کے فقراء اور غرباء۔‘‘
اس کے بعد حضرت عمر ؓ نے ایسے تمام لوگوں سے جزیہ معاف کرکے بیت المال سے وظیفہ بھی مقرر کردیا۔