علم روشنی، علم زندگی ہے

’’جس دل میں علم حقیقی کا نُور ہو، اس دل میں گم راہی کا اندھیرا جگہ نہیں بنا سکتا۔‘‘


سمیرا رانی January 23, 2026

علم انسان کے لیے وہ عظیم نعمت ہے جس کے ذریعے وہ جہالت کے اندھیروں سے نکل کر معرفتِ حق کے نُور تک پہنچتا ہے۔

اسلام میں علم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سب سے پہلی وحی کا آغاز ہی اقراء یعنی پڑھ سے ہُوا۔ یہ وہ انقلاب آفریں لفظ ہے جس نے نہ صرف عرب معاشرے بلکہ پوری دنیا کی فکری سمت بدل دی۔ قرآن مجید نے متعدد مقامات پر علم و حکمت کی فضیلت بیان کی اور رسولِ اکرم ﷺ نے اپنے اعمال و اقوال سے یہ واضح کردیا کہ امت مسلمہ کی کام یابی علم کے راستے سے ہو کر گزرتی ہے۔

علم کا بنیادی تصور

اسلام میں علم چند کتابیں پڑھ لینے کا نام نہیں، بلکہ ایسی روشنی ہے جو انسان کو زندگی کے ہر شعبے میں راہ نمائی فراہم کرے۔ یہ وہ نُور ہے جس کے ذریعے انسان صحیح اور غلط میں تمیز کرنا سیکھتا ہے، اپنے رب کو پہچانتا ہے، کائنات پر غور کرتا ہے اور دوسروں کے لیے نفع کا ذریعہ بنتا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد کا مفہوم ہے: ’’کیا علم رکھنے والے اور علم نہ رکھنے والے برابر ہوسکتے ہیں؟‘‘ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ جاہل اور عالم کے درمیان وہی فرق ہے جو روشنی اور اندھیرے کے درمیان ہوتا ہے۔

علم اور ایمان کا تعلق

اسلامی تعلیمات کے مطابق علم، ایمان کی مضبوطی کا ذریعہ ہے۔ جب انسان اﷲ کی آیات پر غور کرتا ہے، کائنات کے نظام کو سمجھتا ہے اور اس میں چھپی ہوئی حکمتوں کو پہچانتا ہے تو اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے مختلف مقامات پر تدبّر، تفکر اور تعقّل کی دعوت دی ہے۔ علم کے ذریعے ہی انسان اﷲ کی معرفت حاصل کرتا ہے، اور جب وہ دیکھتا ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ اﷲ کے حکم کے تابع ہے تو اس کے دل میں عاجزی اور خشیت پیدا ہوتی ہے۔

نبی کریم نے فرمایا: ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔‘‘ آپؐ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ علم نُور ہے۔ ایک ایسا چراغ جو انسان کے راستے کو روشن کرتا اور اسے گم راہی سے بچاتا ہے۔

اسلامی تہذیب اور فروغ علم

تاریخ انسانی گواہ ہے کہ مسلمانوں نے علم کی روشنی سے دنیا کو منُور کیا۔ جب یورپ تاریکی میں ڈوبا ہُوا تھا، مسلم دنیا میں علمی انقلاب عروج پر تھا۔ بغداد، قرطبہ، دمشق، قاہرہ اور بخارا علم و تحقیق کے عظیم مراکز تھے۔ مسلمان علماء نے طب، ریاضی، فلکیات، فلسفہ، کیمیا، تاریخ اور جغرافیہ سمیت بے شمار شعبوں میں کارہائے نمایاں سرانجام دیے۔ ابنِ سینا، ابنِ رشد، جابر بن حیان، البیرونی، الخوارزمی، امام غزالی اور امام رازی جیسے نام آج بھی علم کے مینار سمجھے جاتے ہیں۔ یہ تاریخ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمانوں نے نہ صرف علم کا پیغام سنا بلکہ اسے عملی زندگی میں نافذ بھی کیا۔

بعض لوگ علم کو صرف مذہبی دائرے تک محدود سمجھتے ہیں، جب کہ اسلام کا تصورِ علم بہت وسیع ہے۔ دین ہمیں دنیا کو بہتر بنانے کا حکم دیتا ہے، اور دنیا تب ہی سنُورتی ہے جب انسان جدید علوم سے واقف ہو۔ دینی علم انسان کو اﷲ اور اس کے احکام سے رُوشناس کرتا ہے۔ دنیاوی علم انسان کو معاشرے کی خدمت اور ترقی کا ذریعہ بناتا ہے۔ اسلام نے دونوں علوم کو اہمیت دے کر ایک متوازن نظام قائم کیا ہے۔

علم اور کردار سازی

علم کا اصل فائدہ تبھی حاصل ہوتا ہے جب وہ انسان کے کردار میں روشنی پیدا کرے۔ علم انسان کو تکبر، حسد، بخل اور لالچ جیسے روحانی امراض سے بچاتا ہے اور اسے خدمتِ خلق، سخاوت اور انصاف کی طرف لے جاتا ہے۔

حضرت علیؓ نے فرمایا

’’علم دولت سے بہتر ہے، کیوں کہ علم تمہاری حفاظت کرتا ہے، اور تم دولت کی حفاظت کرتے ہو۔‘‘

یہ قول علم کی حقیقت کو نہایت خوب صورتی سے بیان کرتا ہے۔

جہاں علم کی قدر نہ ہو، وہاں جہالت، ظلم اور انتشار جنم لیتے ہیں۔ اسلام نے جامعات، مساجد اور دیگر علمی مراکز کو ہمیشہ تعلیم و تربیت کے مراکز بنایا۔ آج مسلمان دنیا میں پیچھے رہ گئے ہیں تو اس کی ایک وجہ علم سے دوری بھی ہے۔ جو قوم تحصیل علم چھوڑ دیتی ہے وہ ترقی کے سفر سے باہر ہو جاتی ہے۔ اسلام اس علم کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو فائدہ مند ہو۔ علمِ نافع وہ ہے جو انسان کو اﷲ کی معرفت دے، اسے اچھے اعمال کی طرف مائل کرے، معاشرے کے لیے مفید ہو، انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیدا کرے۔

علم کی روشنی اور دور حاضر

آج کا دور بہ ظاہر ترقی کا دور ہے، مگر انسان اندرونی طور پر پہلے سے زیادہ بے سکون اور انتشار کا شکار ہے۔ معلومات کے انبار نے انسان کو تو مصروف کردیا ہے، مگر علم اور حکمت کی روشنی دن بہ دن کم ہوتی جا رہی ہے۔ معلومات کا سیلاب ہے مگر علم کا فقدان ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے جہاں علوم و فنون کے دروازے کھول دیے ہیں، وہیں دوسری جانب گم راہی کے در بھی کھل گئے ہیں۔ اس لیے آج کے دور میں مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ دنیاوی علم کے ساتھ تنقیدی سوچ، اسلامی اخلاق اور روحانیت کو بھی اپنائے تاکہ صحیح اور غلط میں تمیز کر سکے۔ اسلام کا پیغام یہ ہے کہ جدید علوم ضرور سیکھو، تحقیق اور ایجاد میں آگے بڑھو، لیکن اپنے اخلاق، کردار اور ایمان کی روشنی میں یہ سفر طے کرو۔ وہ علم جو انسان کو فریب نفس میں مبتلا کر دے، وہ نُور نہیں اندھیرا ہے۔ اور وہ علم حقیقی جو دل میں عاجزی، خدمت، ہدایت اور خیر پیدا کرے، وہی اصل نُور ہے۔ آج کے دور میں یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمان تحقیق، سائنس، ٹیکنالوجی، طب، فلکیات اور معاشی علوم میں آگے بڑھیں کیوں کہ اسلامی تاریخ کا سنہرا دور بھی تحقیق اور جستجو ہی کی وجہ سے قائم تھا۔ اگر آج مسلمان اخلاص اور محنت کے ساتھ جدید و قدیم دونوں علوم حاصل کریں تو دنیا دوبارہ اسلامی تہذیب کی طرح روشن ہو سکتی ہے۔ علم صرف اﷲ کی رضا کے لیے سیکھا جائے۔ علم تکبر نہیں، عاجزی پیدا کرے۔ علم پر عمل کیا جائے، کیوں کہ عمل کے بغیر علم بے فائدہ ہے۔ استاد کی عزت کی جائے، کیوں کہ وہ علم کے تقسیم کار ہیں۔ یہ آداب علم میں برکت اور طالبِ علم کی کام یابی کا سبب بنتے ہیں۔

اسلام کے نزدیک علم محض الفاظ یا معلومات کا مجموعہ نہیں بلکہ نُور ہے، وہ نُور جو انسان کو جہالت سے نکال کر اﷲ کی معرفت تک پہنچاتا ہے۔ علم اخلاق کو سنوارتا، کردار میں نرمی اور بصیرت پیدا کرتا اور انسان کو دنیا و آخرت دونوں میں کام یاب کرتا ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے گھروں، معاشرے اور اداروں میں علم کے چراغ روشن کریں، اپنی نسلوں کو دینی اور دنیاوی دونوں علوم سے آراستہ کریں، اور ہمیشہ یاد رکھیں:

’’جس دل میں علم حقیقی کا نُور ہو، اس دل میں گم راہی کا اندھیرا جگہ نہیں بنا سکتا۔‘‘

مقبول خبریں