اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز کی جانب سے 98ویں آسکر ایوارڈز کے لیے نامزدگیوں کا اعلان کر دیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان نامزدگیوں میں تین ایسی فلموں کو بھی جگہ ملی ہے جن کا موضوع غزہ کی جنگ تھا اور ان میں دو اسرائیلی اور ایک تیونسی فلم شامل ہے۔
آسکر نامزدگی حاصل کرنے والی تیونس کی فلم The Voice of Hind Rajab ہے جسے بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کے لیے نامزد کیا گیا۔

ہدایتکارہ کوثر بن ہنیہ کی یہ ڈاکومنٹری ڈراما فلم پانچ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کی کہانی بیان کرتی ہے جو مبینہ طور پر گزشتہ سال اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں غزہ میں شہید ہوئی تھی۔
فلم میں فلسطینی ہلالِ احمر کے عملے کی کوششوں کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا جس میں بچی کی حقیقی فون کال کی آڈیو بھی شامل ہے جس میں وہ اپنے جاں بحق اہلِ خانہ کے درمیان مدد کی اپیل کرتی سنائی دیتی ہے۔
فلسطینی ہلالِ احمر نے الزام لگایا تھا کہ اس امدادی ایمبولینس کو اسرائیلی افواج نے نشانہ بنایا تھا۔
اس فلم کو ایوارڈز سیزن کے دوران فلسطین نواز فلم ساز برادری کی بھرپور حمایت حاصل رہی جبکہ معروف برطانوی یہودی فلم ساز جوناتھن گلیزر بھی اس کے شریک پروڈیوسرز میں شامل ہیں۔
اسی موضوع پر اسرائیل میں بنائی گئی مختصر دورانیے کی فلم “Butcher’s Stain” کو بہترین لائیو ایکشن شارٹ فلم کے زمرے میں نامزد کیا گیا۔
یہ فلم تل ابیب یونیورسٹی کے فلم اسکول سے وابستہ میئر لیونسن بلاؤنٹ نے بنائی، جس کی کہانی تل ابیب میں مقیم ایک عرب قصاب سمیر کے گرد گھومتی ہے۔
جس پر اُن یرغمال اسرائیلیوں کے پوسٹر ہٹانے کا الزام لگتا ہے جنھیں حماس نے 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں اغوا کیا تھا اور غزہ لے آئے تھے۔

عرب مسلم نوجوان کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے تشدد، جبر اور طویل قانونی جنگ سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ فلم اس سے قبل اسٹوڈنٹ اکیڈمی ایوارڈز میں بھی نمایاں رہی۔
آسکر نامزدگی حاصل کرنے والی اسرائیل کی دوسری فلم Children No More: Were and Are Gone ہے یہ بھی مختصر دورانیے کی فلم ہے۔
ہِلا میڈالیا کی اس دستاویزی فلم کو بہترین ڈاکیومنٹری شارٹ فلم کے لیے نامزد کیا گیا۔ فلم مارچ 2025 سے تل ابیب میں شروع ہونے والے ایک خاموش احتجاج کو دکھاتی ہے۔
جہاں مظاہرین غزہ میں مارے گئے بچوں کی تصاویر اٹھائے ہفتہ وار اجتماع کرتے ہیں، جو وقت کے ساتھ ایک بڑی علامتی تحریک میں بدل گیا تھا۔

آسکر نامزدگی کے لیے پیش کی گئی چند اسرائیلی فلموں کو مسترد کردیا گیا جس میں زیادہ تر مواد محض ایک پروپیگنڈا تھا اور اسرائیل کو انسان دوست ثابت کرنے کی ناکام کوشش تھی۔