غزہ امن بورڈ، عالمی سیاست کا امتحان

غزہ کی تاریخ درد، مزاحمت اور ناانصافی سے بھری پڑی ہے۔


ایڈیٹوریل January 24, 2026

پاکستان، امریکا، ترکیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا سمیت مختلف ممالک نے غزہ امن بورڈ کے چارٹر پر دستخط کر دیے، اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے کوشاں اور امن کوششوں کی کامیابی کے لیے پرامید ہیں۔ دوسری جانب فرانس، برطانیہ اور جرمنی سمیت متعدد یورپی ممالک نے غزہ امن بورڈ کا حصہ بننے سے انکار کردیا۔ روسی صدر ولادیمیر پیوتن اور بھارت کا کہنا ہے کہ وہ ٹرمپ کی شمولیت کی دعوت پر غورکر رہے ہیں جب کہ چین نے اس معاملے پر چپ سادھ لی ہے۔

 غزہ کا مسئلہ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں آچکا ہے اور اس مرتبہ یہ واپسی محض روایتی بیانات یا رسمی قراردادوں تک محدود نہیں بلکہ ایک نئے سفارتی فریم ورک کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ عالمی اقتصادی فورم کے 56 ویں اجلاس کے موقعے پر ڈیووس میں غزہ امن بورڈ کے چارٹر پر پاکستان سمیت بیس ممالک کے دستخط اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی برادری کا ایک حصہ اب اس دیرینہ بحران کو محض نظرانداز کرنے کے بجائے کسی منظم حل کی تلاش میں سنجیدگی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ غزہ جو گزشتہ کئی دہائیوں سے جنگ، محاصرے، تباہی اور انسانی المیوں کی علامت بن چکا ہے، اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں امن، تعمیر نو اور سیاسی حل کی بات ایک مشترکہ پلیٹ فارم سے کی جا رہی ہے۔

 غزہ کی تاریخ درد، مزاحمت اور ناانصافی سے بھری پڑی ہے۔ مسلسل بمباری، شہری آبادی کو نشانہ بنانا، بنیادی سہولیات کی تباہی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں عالمی ضمیر پر ایک مستقل سوال بن چکی ہیں۔ لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں، ہزاروں جانیں ضایع ہوئیں اور ایک پوری نسل خوف، عدم تحفظ اور محرومی کے ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے۔ ایسے حالات میں غزہ امن بورڈ کا قیام اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ موجودہ صورت حال مزید جاری نہیں رہ سکتی اور کسی نہ کسی سطح پر اجتماعی عالمی ذمے داری قبول کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس کی میزبانی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی اور تقریب میں بیس عالمی رہنماؤں کی شرکت ہوئی۔ پاکستان، امریکا، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، بحرین، مراکش، اردن، ہنگری، ارجنٹائن اور دیگر ممالک کی شمولیت اس امرکی عکاس ہے کہ یہ بورڈ محض ایک خطے یا ایک بلاک تک محدود نہیں بلکہ مختلف سیاسی، معاشی اور ثقافتی پس منظر رکھنے والی ریاستوں کو ایک مشترکہ مقصد پر اکٹھا کرنے کی کوشش ہے۔

پاکستان کی اس بورڈ میں شمولیت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان ان چند ممالک میں شامل رہا ہے جنہوں نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت، آزاد ریاست اور القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے کے اصولی مؤقف سے کبھی انحراف نہیں کیا۔ عالمی دباؤ، بدلتے ہوئے علاقائی اتحاد اور وقتی مفادات کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب وزیر اعظم پاکستان غزہ امن بورڈ کے چارٹر پر دستخط کے لیے آگے بڑھے تو امریکی صدر کی جانب سے ان کا خصوصی شکریہ ادا کیا جانا، محض ایک سفارتی جملہ نہیں بلکہ اس بات کا اعتراف تھا کہ پاکستان اس معاملے میں اخلاقی وزن اور اصولی ساکھ رکھتا ہے۔غزہ امن بورڈ کے مقاصد محض جنگ بندی تک محدود نہیں بلکہ ایک جامع امن عمل کی بنیاد رکھنا ہیں۔ اس میں مستقل جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی، اقوام متحدہ کی نگرانی میں تعمیر نو اور فلسطینی عوام کی عزت نفس کی بحالی شامل ہے۔ غزہ میں تباہ شدہ گھروں، اسپتالوں، اسکولوں، پانی اور بجلی کے نظام کی بحالی کے بغیر کسی بھی امن منصوبے کو کامیاب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تعمیر نو کا یہ عمل صرف انفرااسٹرکچر تک محدود نہیں بلکہ سماجی، معاشی اور نفسیاتی بحالی کا بھی تقاضا کرتا ہے۔

اس بورڈ میں مسلم اکثریتی ممالک کی نمایاں موجودگی ایک مثبت پہلو ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ، قطر، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، بحرین، مراکش اور اردن جیسے ممالک کی شمولیت اس امر کی ضمانت بن سکتی ہے کہ فلسطینی حقوق، ریاستی حیثیت اور حق خودارادیت کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ ماضی میں کئی عالمی امن منصوبے اس لیے ناکام ہوئے کہ ان میں متاثرہ فریق کی خواہشات اور زمینی حقائق کو ثانوی حیثیت دی گئی۔

اگر غزہ امن بورڈ واقعی مؤثر ثابت ہونا چاہتا ہے تو اسے فلسطینی قیادت اور عوام کی آواز کو مرکز میں رکھنا ہو گا۔تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ فرانس، برطانیہ اور جرمنی جیسے اہم یورپی ممالک کا اس بورڈ میں شامل ہونے سے انکار کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جو انسانی حقوق، جمہوریت اور بین الاقوامی قانون کے بڑے علمبردار سمجھے جاتے ہیں، مگر غزہ جیسے شدید انسانی بحران پر ایک مشترکہ عالمی پلیٹ فارم سے دور رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس رویے کی وجوہات میں اسرائیل کے ساتھ تاریخی تعلقات، داخلی سیاسی دباؤ اور امریکی قیادت پر تحفظات شامل ہو سکتے ہیں، مگر اس کا نتیجہ عالمی اتحاد کی کمزوری کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور بھارت کی جانب سے دعوت پر غور کرنے کے بیانات اور چین کی خاموشی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ بڑی طاقتیں ابھی اس بورڈ کے مستقبل، اس کی سمت اور عملی افادیت کا بغور جائزہ لے رہی ہیں۔ یہ ایک فطری امر ہے کیونکہ ماضی میں کئی امن منصوبے طاقتور ریاستوں کے مفادات کی نذر ہو چکے ہیں، اگر غزہ امن بورڈ واقعی ایک مؤثر پلیٹ فارم بننا چاہتا ہے تو اسے محض بیانات سے آگے بڑھ کر ٹھوس اور شفاف اقدامات کرنا ہوں گے۔پاکستان کے لیے اس بورڈ میں شمولیت ایک سفارتی موقع کے ساتھ ساتھ ایک بڑی ذمے داری بھی ہے۔ پاکستان کو اس پلیٹ فارم پر نہ صرف فلسطینی مؤقف کی وکالت کرنی ہو گی بلکہ یہ بھی یقینی بنانا ہو گا کہ امن کے نام پر کوئی ایسا سمجھوتہ نہ ہو جو فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کو مجروح کرے۔

1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست، القدس الشریف کا دارالحکومت ہونا اور اسرائیلی قبضے کا خاتمہ وہ اصول ہیں جن پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔حالیہ ملاقات میں فلسطینی وزیر اعظم کی جانب سے وزیر اعظم پاکستان کا شکریہ اس اعتماد کا اظہار ہے جو فلسطینی قیادت پاکستان پر رکھتی ہے۔ یہ اعتماد پاکستان پر ایک اضافی ذمے داری بھی عائد کرتا ہے کہ وہ عالمی فورمز پر محض علامتی موجودگی کے بجائے فعال، مسلسل اور مؤثر کردار ادا کرے۔ انسانی امداد، سفارتی دباؤ، عالمی رائے عامہ کی تشکیل اور مسلم دنیا کے درمیان ہم آہنگی وہ میدان ہیں جہاں پاکستان اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

امریکی صدر کی جانب سے ایران سے بات چیت کی آمادگی اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی خواہش ایک نئی سفارتی حکمت عملی کی علامت ہو سکتی ہے، مگر ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ امریکی پالیسی اکثر تضادات کا شکار رہی ہے۔ ایک طرف امن کے دعوے اور دوسری طرف اسرائیل کی غیر مشروط حمایت نے فلسطینی مسئلے کو مزید پیچیدہ بنایا۔ ایسے میں غزہ امن بورڈ کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ آیا امریکا واقعی ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کرتا ہے یا نہیں۔

بورڈ آف پیس میں برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کا کردار اہم مگر متنازع ہے۔ ان کا تجربہ اور سفارتی اثر و رسوخ اس عمل کو تقویت دے سکتا ہے، مگر ماضی کی پالیسیوں کے باعث اعتماد کی فضا قائم رکھنا ایک بڑا چیلنج ہو گا۔ شفافیت، فلسطینی عوام کی شمولیت اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری ہی وہ عوامل ہیں جو اس عمل کو قابل قبول بنا سکتے ہیں۔

غزہ امن بورڈ اگر کامیاب ہوتا ہے تو یہ عالمی سیاست میں ایک مثال قائم کر سکتا ہے کہ دیرینہ تنازعات کو طاقت کے بجائے مکالمے، انصاف اور تعمیر نو کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ اگر ناکام ہوتا ہے تو یہ بھی تاریخ میں ایک اور ضایع شدہ موقع کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ پاکستان کی شمولیت اس لیے اہم ہے کہ وہ اس عمل میں اصولی مؤقف، اخلاقی وزن اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کی روایت لے کر آیا ہے۔آخرکار یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی کہ غزہ کا مسئلہ کسی ایک بورڈ، ایک اجلاس یا ایک چارٹر سے حل نہیں ہو گا۔ یہ ایک طویل، پیچیدہ اور صبر آزما عمل ہے جس کے لیے مستقل مزاجی، دیانت داری اور عالمی عزم درکار ہے۔

اگر عالمی برادری واقعی غزہ میں امن، انصاف اور انسانی وقار کی بحالی چاہتی ہے تو اسے فلسطینی عوام کو محض امداد کے مستحق نہیں بلکہ ایک آزاد اور باوقار قوم کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر غزہ ایک بار پھر عالمی ضمیر کی ناکامی کی علامت بن کر رہ جائے گا اور تاریخ یہ سوال پوچھتی رہے گی کہ جب موقع تھا تو دنیا نے کیا کیا۔

مقبول خبریں