تعلیم،تحقیق اورریاست کا بحران

تحقیق بنیادی طور پر شواہد اور علمی بنیادوں پر ہوتی ہے تو اس سے ترقی اور آگے بڑھنے کے امکانات اور زیادہ ہوتے ہیں ۔


سلمان عابد January 24, 2026
[email protected]

عمومی طورپر جدید ریاستی اور حکمرانی کے تصورات میں پیش آنے والے مسائل اور چیلنجز کا حل جذباتیت پر مبنی سوچ کی بجائے تحقیق و شواہد کی بنیاد پر تلاش کیا جاتا ہے ۔اس حکمت عملی کے تحت حکمرانی کے نظام کا اعلی تعلیم اور تحقیقاتی اداروں کی سطح پر ایک جامع رابطہ کاری اور معاونت کا عمل دیکھنے کو ملتا ہے ۔اسی بنیاد پر حکومت اعلی تعلیم اور تحقیق کے میدان میں بڑی سرمایہ کاری کرتی ہے ۔

اعلی تعلیم کے بجٹ میں ایک بڑا حصہ نئے زاویوں و تصورات کی بنیاد پر تحقیق کے میدان میں خرچ کیا جاتا ہے ۔یعنی حکومت اور اعلی تعلیم کے میدان میں رابطہ کاری کی نوعیت موجودہ مسائل کے حل کی صورت میں ہوتا ہے ۔ تحقیق بنیادی طور پر شواہد اور علمی بنیادوں پر ہوتی ہے تو اس سے ترقی اور آگے بڑھنے کے امکانات اور زیادہ ہوتے ہیں ۔ تعلیمی میدان یا تحقیق کے اداروں کی سطح پر ہونے والی تحقیق سے فائدہ اٹھا کر بھی حکمرانی کے نظام کو مسائل سے نمٹنے کا ایک متبادل راستہ فراہم کرتے ہیں ۔

لیکن پاکستان کی صورتحال دنیا کے جدید علمی و تحقیقی ممالک سے بالکل مختلف ہے ۔اول، حکومت کی سطح پر پرائمری تعلیم سے اعلی سطح کی تعلیم اور تحقیقی ادارے ہماری ترجیحات کا حصہ نہیں ہیں اور ان اداروں میں تحقیق کے لیے مالی وسائل کی کمی دیکھنے کو ملتی ہے۔

دوئم، یہاں جو متبادل تحقیق کے لیے ایک آزادانہ فکری ماحول درکار ہوتا ہے جہاں تحقیق کار حکومتی پالیسیوں پر بحث کرتے ہوئے ایک متبادل نقطہ نظر تحقیق کی صورت میں پیش کرسکیں۔ حکومت کی پالیسیوں کو چیلنج کرنا اس وقت تحقیق کے میدان میں کم دیکھنے کو ملتا ہے۔سوئم، ایسا نہیں کہ یہاں تحقیق کرنے والے افراد یا ادارے تحقیق کی صلاحیت نہیں رکھتے یا وہ کچھ بھی نہیں کررہے بلکہ ممکن ہے کہ ان کی جانب سے بہت کچھ ہو بھی رہا ہو مگر ان کی تحقیق حکمران یا طاقت کے طبقات میں سیاسی پزیرائی حاصل نہیں کر پاتی یا اسے بند الماریوں تک محدود کردیا گیا ہے ۔

چہارم ، اعلی تعلیم یا جامعات کی سطح پر ان اداروں کی سیاسی ،انتظامی یا مالی خود مختاری کا نہ ہونا اور اس میں سیاسی بنیادوں پر وائس چانسلروں کی تقرری سے لے کر دیگر عہدے داروں کی تقرری تک اگر سیاسی بنیاد پر ہی فیصلے کرنے ہیں تو پھر ان اداروں کی شفافیت اور صلاحیت کا بحران واضح طور پر دیکھنے کو ملے گا۔پنجم،اب ایک خاص بیوروکریسی کی بنیاد پر سرکاری جامعات کے بارے میں یہ نقطہ نظر آگے بڑھایا جارہا ہے کہ اب ہماری اعلی تعلیم بوجھ بن گئی ہے اور جامعات کو پبلک اور پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چلایا جائے ۔لیکن سوال یہ ہے کہ ہم نے نجی شعبہ جات کی سطح پر چلنے والی جامعات کی تحقیق سے کس حد تک استفادہ کیا ہے اور کیا سماجی علوم کی تحقیق پر ان نجی جامعات پر کوئی معیاری کام ہوا ہے ،خود ایک سوال ہے۔

ایسے لگتا ہے کہ اب مسائل کے حل کے لیے ہمیں سیاسی فورمز یعنی پارلیمنٹ یا منتخب نمائندوں کی بھی ضرورت نہیں بلکہ ہم اس وقت مجموعی طو ر پر اپنے مسائل کے حل کے لیے بیوروکریسی کے نظام تک قید ہوگئے ہیں اور ان کے فیصلوں کی ایک بڑی بھاری قیمت بطور ریاست یا معاشرہ ہمیں نئے بحرانوں کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

تعلیم کے میدان میں بھی تعلیمی ماہرین کے مقابلے میں ہمیں جو بیوروکریسی کی بالادستی دیکھنے کو مل رہی ہے وہاں تعلیمی ماہرین بھی خود کو بے بس سمجھتے ہیں ۔ایک طرف بیوروکریسی کا غلبہ تو اس کے مقابلے میں دوسری طرف عالمی ماہرین کی فوج در فوج جو بڑے بڑے معاوضہ پر کام کرتے ہیں اور ان کی جگہ ہمارے اپنے تعلیمی ماہرین جو داخلی معاملات پر زیادہ گہری نظر رکھتے ہیں کو نظرانداز کرنے کی پالیسی بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔

 حکومت کا نظام اور اس کو چلانے والی بیوروکریسی یا سیاسی و غیر سیاسی قیادت جو خود کو عقل کل سمجھتی ہے اور اس کے بقول تمام مسائل کا حل ان کی جیب میں ہوتا ہے،یہ ہی بحران کی اصل جڑ بھی ہے ۔ حکومت کا نظام تحقیق اور جدید تصورات کی بنیاد پر آگے بڑھنے کی بجائے فرسودہ سوچ کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ اس کی اس حکمت عملی نے ہمیں آج جدید دنیا کی ترقی کے ماڈل میں پیچھے چھوڑ دیا ہے لیکن اس کے باوجود ہم اپنی غلطیوں کو تسلیم کرکے آگے بڑھنے یا نئی حکمت عملیوں کو اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہم جب تک سماجی علوم کی تعلیم کو مضبوط نہیں بنائیں گے اس وقت تک ایک مضبوط پرامن اور انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل بھی ممکن نہیں ہوگی ۔

 جامعات میں جو بھی گورننس کا بحران ہے اس کاحل بھی شفافیت کی بنیاد پر ہم تلاش کرنے میں ناکام ہورہے ہیں ۔جامعات کی سطح پر حکومت یا اشرافیہ کو دکھانے کے لیے نئے سے نئے ادارے تو بنادیے جاتے ہیں مگر وہ وسائل کی کمی کی وجہ سے فعال نہیں ہوتے اور اپنی اہمیت قائم نہیں کرسکے۔جو ہمیں ان اداروں میں کام کرنے والے اساتذہ اور بالخصوص لیکچرارز یا اسسٹنٹ پروفیسر کی بنیاد پر جو ان کو مسائل ہیں ان کا بھی کوئی حل ان کو دیکھنے کو نہیں مل رہا ۔

جب کہ نجی شعبہ میں چلنے والے بڑے اعلی تعلیمی اداروں کے استاد کے مسائل اور زیادہ سنگین نوعیت کے ہیں مگر ہماری اعلی تعلیم کا جو ریگولیٹری نظام وفاقی اور صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن یا ہائرایجوکیشن اور بیوروکریسی پر مشتمل ہے اعلی تعلیم سے جڑے معاملات کے حل میں غیر سنجیدہ ہے اور وہ اس نظام کو پرانے خیالات تک محدود کرکے چلانا چاہتے ہیں۔ یہ جو حکومت کو اس وقت اپنی سیاسی بقا کے لیے داخلی، علاقائی اور عالمی سطح پر جس مضبوط بیانیہ کی تلاش ہے وہ بھی ان ہی علمی اور فکری تعلیمی میدان سے ہی نکالا جاسکتا ہے ۔

مقبول خبریں