حیدرآباد سکھر موٹروے کب تعمیر ہوگی؟

کہا جاتا ہے کہ سی پیک کے منصوبہ کے تحت پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت یہ منصوبہ مکمل ہونا تھا۔



حیدرآباد سکھر موٹروے کب تعمیر ہوگی؟ وفاقی حکومت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو 465 بلین روپے لاہور بہاولپور موٹر وے کی دوبارہ تعمیرکے لیے منتقل کر رہی ہے۔ یہ اقدام Federal Fiscal Dues کی واضح خلاف ورزی ہے۔ پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماؤں نوید قمر اور شرمیلا فاروقی نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران علیحدہ علیحدہ توجہ دلاؤ نوٹس پیش کر کے ایوان کی توجہ اس اہم مسئلے کی طرف مبذول کروائی تو پھر واضح ہوگیا کہ وفاق اپنے اتحادیوں کے ساتھ منصفانہ سلوک کا روا دار نہیں ہے۔

وفاقی حکومت کی اتحادی پیپلزپارٹی کے اراکین نے اس مسئلے کی جانب توجہ اس وقت مبذول کروائی جب وفاقی وزراء کو صدرکی منظوری کے بغیر آرڈیننس کے اجراء پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ملک کے آئین کے تحت وفاق کی سطح پرکوئی بھی آرڈیننس صدرِ پاکستان کی منظوری کے بغیر نافذ نہیں ہوسکتا۔ پیپلز پارٹی کے ایک رکن اسمبلی نے اپنی تقریر میں الزام لگایا تھا کہ اس آرڈیننس سے صدر اتفاق نہیں کرتے تھے، اس بناء پر انھیں نظر اندازکیا گیا تھا۔ یہ اقدام جعل سازی کے زمرے میں آتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ غلطی کے ذمے  دار افراد کا احتساب کیا جائے۔

وفاقی وزیر قانون نذیر تارڑ نے فوری طور پر آرڈیننس واپس لینے کا اعلان کرکے صورتحال کو خراب ہونے سے بچا لیا مگر وزیر موصوف نے اس غلطی کے ذمے دار افسروں کی نشاندہی نہیں کی اور نہ ہی اس غلطی کے ذمے دار افراد کے احتساب کا کوئی اعلان کیا، البتہ اب پارلیمنٹ کے سینئر رکن نوید قمر نے این ایچ اے کے فنڈزکی منتقلی کو صوبائی خود مختاری کو پس پشت ڈالنے کے مترادف قرار دیا اور یہ نکتہ اٹھایا کہ کیوں ایک صوبائی پروجیکٹ کو وفاق نے اپنانے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت این ایچ اے کے فنڈزکیوں صوبے کو منتقل کر رہی ہے؟ نوید قمر نے یہ بھی تجویز دی کہ حکومت کوئی پروجیکٹ شروع کرنا چاہتی ہے تو پھر سندھ کی طرح پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کا طریقہ اختیارکرنا چاہیے۔

شرمیلا فاروقی نے اسی موضوع پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام Fiscal Agreementکی خلاف ورزی ہے اور جب تک کوئی صوبہ تیار نہ ہو تو PSDP کے فنڈز منتقل نہیں ہوسکتے۔ شرمیلا فاروقی کو اس بات پر بھی تشویش تھی کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے  2.5 Trillionروپے صحیح مقاصد کے لیے خرچ ہونے چاہئیں۔ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کے وزیر مملکت نے اس بات کی وضاحت کی مگر اسپیکر نے یہ معاملہ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ سیل کو بھیج دیا۔ جب میاں نواز شریف پہلی دفعہ برسر اقتدار آئے تھے تو انھوں نے لاہور اسلام آباد موٹر وے کی تعمیرکا منصوبہ شروع کیا تھا، اگرچہ اس وقت مخالف جماعت پیپلزپارٹی نے اس منصوبے کی سخت مخالفت کی تھی مگر اس موٹروے کی تکمیل کے بعد دونوں بڑے شہروں کے درمیان سفرکی سہولت بہتر ہونے سے اس پروجیکٹ کی افادیت سب پر واضح ہوگئی تھی۔

میاں صاحب کے دورِ اقتدار میں چین کے ساتھ 2013ء میں China Pakistan Economic Corridor (CPEC) کی تعمیر پر اتفاق رائے ہوا تھا۔ چین نے دنیا بھرکے مختلف ممالک میں Belf and Road Initiative (BRI) کی تعمیر کے نئے منصوبے تعمیرکیے تھے۔ چین کے موجودہ صدر میں Vi Jinping کے وژن کے تحت ایشیا اور افریقہ کے کئی ممالک میں ایسے منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچائے۔ چین صدرکے وژن کے تحت نہ صرف جدید ترین سڑکوں کا جال بچھایا جاتا ہے بلکہ پورے علاقے میں صنعتی زون قائم کیے جاتے ہیں مگر پاکستان میں چین نے گوادر سے چین کے صوبہ سنگیانگ تک جدید موٹروے کی تعمیر، پنجاب اور سندھ میں کئی پاور پلانٹ لگانے اور لاہور میں اورنج ٹرین کی تعمیرکا منصوبہ سی پیک منصوبہ کے تحت مکمل ہوا تھا۔ اس منصوبے کے تحت حیدرآباد سکھر موٹر وے (M6) کی تعمیر ہونی تھی مگر یہ منصوبہ مستقل التواء کا شکار ہے۔

یہ موٹر وے 306 کلومیٹر طویل ہوگی اور یہ سڑک 6 لائنوں پر مشتمل ہوگی۔ کہا جاتا ہے کہ سی پیک کے منصوبہ کے تحت پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت یہ منصوبہ مکمل ہونا تھا۔ اس منصوبے کے بارے میں شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی ترقیاتی بینک نے گزشتہ سال یکم اکتوبر کو 475 ملین ڈالرکی منظوری دی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس منصوبے پر حتمی لاگت کا حجم 1.7 بلین ڈالر ہوگا، مگر یہ منصوبہ مختلف وجوہات کی بناء پر التواء کا شکار رہا، جس کی بناء پر منصوبہ پر آنے والی لاگت بڑھتی چلی گئی۔ 2018ء میں یہ لاگت کا تخمینہ 617 ملین ڈالر تھا جوگزشتہ سال 1.7بلین ڈالر تک پہنچ گیا۔ سابق وزیراعظم اور بانی تحریک انصاف کے دور میں اس منصوبے کی فوری تکمیل کے لیے ایک لائحہ عمل تیار ہوا تھا مگر اس لائحہ عمل پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہوسکا تھا۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے یہ سفارش کی تھی کہ اس منصوبے میں کراچی تک توسیع کردی جائے تاکہ کراچی اور حیدرآباد کے درمیان تعمیر ہونے والی سپرہائی وے کو بھی ایک جدید موٹروے میں تبدیل کیا جائے مگر تمام تر مطالبات کے باوجود کراچی حیدرآباد موٹر وے کی تعمیرکے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا تھا کہ اس منصوبہ کے التواء کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے بورڈ میں سندھ کی نمائندگی مؤثر نہیں ہے اور سندھ کی نمائندگی کرنے والے افسر کا جلد ہی تبادلہ ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ قائمہ کمیٹی نے ہدایات جاری کی تھیں کہ سندھ کے نمایندہ کا مستقل تقررکیا جائے۔گزشتہ سال سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں این ایچ اے کے افسروں نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ 2026ء کے اوائل میں موٹر وے کی تعمیرکا کام شروع ہوجائے گا۔

حیدرآباد سکھر موٹر وے کی تعمیر سے صرف اس علاقے کی ترقی کا عمل ہی تیز نہیں ہوگا، بلکہ کراچی کی بندرگاہ سے پورے ملک میں سامان پہنچانے کے لیے عمل میں تیزی آئے گی اور ساتھ ہی اس شاہراہ پر روزانہ ہونے والے ٹریفک حادثات میں بھی کمی ہوجائے گی۔ مگر سی پیک کے تحت تعمیر ہونے والے اس موٹر وے کا معاملہ ہی التواء کا شکار نہیں ہے بلکہ کراچی سرکلر ریلوے کا منصوبہ بھی کسی فائل میں کھوچکا ہے۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ چند سال قبل چین گئے تھے، تو انھوں نے یہ خوش خبری سنائی تھی کہ سی پیک کے تحت کراچی سرکلر ریلوے کی تعمیر شروع ہوگی۔ گزشتہ سال سندھ کے سینئر وزیر سید ناصر شاہ اور شرجیل میمن بھی چین کے دورہ پر گئے تھے۔ انھوں نے واپسی پر اسی خوش خبری کو دہرایا۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے اپنے دور میں سرکلر ریلوے کی راہ میں ہونے والی تعمیرکو منہدم کرنے کے احکامات دیے تھے۔

حکام نے فوری کارروائی کرکے یہ تجاوزات منہدم کردی تھیں اور ہزاروں افراد بے گھر ہوئے تھے مگر کئی سال گزرگئے، سرکلر ریلوے دوبارہ فعال نہ ہوسکی۔ اسی طرح بلوچستان میں چمن سے کراچی آنے والی شاہراہ کو ایک جدید موٹر وے میں تبدیل کرنے کے اعلانات محض اعلانات ہی رہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سی پیک منصوبہ کے تحت تھرکے کوئلہ سے لگائے جانے والے بجلی گھرکی بجلی گھرکے لوگوں کو فراہم نہیں کی جاتی بلکہ وہ نیشنل گرڈ میں شامل کردی جاتی ہے۔ تھرکا آج بھی بیشتر حصہ بجلی سے محروم ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ دو چھوٹے صوبوں میں ہی کیوں ہوتا ہے؟ مختلف فلسفی، سیاست دان اور صحافی اس صورتحال کی مختلف توجیہات بیان کرتے ہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ اب بھی ترقیاتی عمل میں چھوٹے صوبوں کو نظراندازکیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں