سوئیڈن نے بھی دیگر ممالک کی طرح افغان تارکین وطن کے بارے میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے انھیں ملک چھوڑنے کا الٹی میٹم جاری کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سوئیڈن حکومت کی جانب سے افغان تارکین وطن کو ملک چھوڑنے کا حکم دینے کی وجہ ان کے جرائم میں ملوث ہونا ہے۔
سوئیڈن نے خاص طور پر ان افغان شہریوں پر سخت مؤقف اپنایا ہے جو جرم میں ملوث پائے جاتے ہیں یا جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہوچکی ہیں۔
سوئیڈن کے امیگریشن وزیر یوهان فورسّل نے بتایا کہ افغان شہریوں کے جرائم میں ملوث ہونے کے باعث اسائلم کے درجنوں کیسز مسترد ہوچکے ہیں۔
سوئیڈن کی سرکاری اداروں کے بقول 2024 میں جرائم اور نظام کے غلط استعمال کے باعث 2 ہزار 800 افغانیوں کے رہائش کے اجازت نامے منسوخ یا ملک بدر کیے گئے۔
یاد رہے کہ سوئیڈن میں جرم کرنے والے افراد کے بارے میں سرکاری اعداد و شمار مخصوص قومیت کی بنیاد پر علیحدہ علیحدہ محفوظ نہیں کیے جاتے۔
تاہم بعض انفرادی کیسز میڈیا یا عدالتی رپورٹوں میں سامنے آئے ہیں جنھوں نے افغان شہریوں کے سوئیڈن میں جرائم کا پردہ چاک کیا ہے۔
سنہ 2018 میں اسٹاک ہوم میں ایک افغان پناہ گزین نے پولیس اہلکار پر چاقو سے حملہ کیا۔ اس واقعے میں ملزم کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اسی سال دو مزید ایسے واقعات سامنے آئے تھے۔
سنہ 2022 میں ایک افغان نژاد کو سوئیڈن کے ایک عدالت نے خاتون کے ساتھ زیادتی اور انھیں گہری کھائی میں دھکیلنے کے جرم میں سزا سنائی تھی۔
2023 سے 2025 کے درمیان درجنوں افغان شہری ملکی قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث پائے گئے تھے۔
یہ اعداد وشمار اتنے زیادہ بڑھ گئے کہ بالآخر سوئیڈن حکومت کو یورپی یونین سے افغان شہریوں کی بیدخلی کے لیے مدد مانگنا پڑی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل برطانیہ، جرمنی، فرانس سمیت متعدد ممالک نے بھی افغان تارکین وطک کے لیے ویزا پالیسی اور پناہ گزین ضوابط میں سخت پابندیاں عائد کی ہیں۔