افغانستان کے مختلف علاقوں میں تین روز سے جاری شدید بارشوں اور برفباری نے موسم کو یخ بستہ بنا دیا جس نے ناقص حکومتی کارکردگی کے باعث خوفناک انسانی المیے کو جنم دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان میں گزشتہ تین روز میں کم از کم 61 افراد جان سے چلے گئے اور 110 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔
حکام نے مزیدجانی و مالی نقصان کی پیش گوئی بھی کی ہے کیوں کہ کئی علاقوں میں مسلسل بارشوں اور برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔
بارشوں اور برفباری میں تقریباً 458 مکانات تباہ ہو گئے۔ درجنوں پالتو جانوروں کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے جب کہ کئی سو ہیکٹر پر کھڑی فصلیں بھی تباہ ہوگئیں۔
یہ اعداد و شمار افغانستان نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے بدھ سے جمعہ تک ملک کے مختلف علاقوں سے جمع کیے ہیں۔ جن میں دور افتادہ علاقے شامل نہیں ہیں جہاں راستے مسدود ہوچکے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر ہلاکتیں چھتوں کے گرنے سے ہوئی ہوئیں جب کہ کچھ علاقوں میں برفانی تودے گرنے سے ہلاکتیں ہوئیں۔
صفر سے نیچے درجہ حرارت نے بزرگ افراد کو صحت کے شدید مسائل میں مبتلا کیا اور اس میں کئی اپنی جانوں سے گئے۔
برفباری نے نقل و حمل کو شدید متاثر کیا ہے بالخصوص شمالی علاقوں اور دور دراز گاؤں تک رسائی ناممکن ہو گئی ہے۔ امدادی ٹیموں کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
طالبان حکام نے شہریوں سے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ دور دراز علاقوں میں پھنسے افراد کو راشن اور ضروری سامان بھی تقسیم کیا گیا۔