ہیموںکالانی، تحریک آزادی کا ہیرو…گل محمد منگی

برطانوی فوجیوں سے بھری ایک ریل گاڑی جوکہ سکھر سے بلوچستان جا رہی تھی اور اس میں اسلحہ بھی لدا ہوا تھا


گل محمد منگی January 25, 2026

22 اکتوبر 1942 کو برطانوی فوجیوں سے بھری ایک ریل گاڑی جوکہ سکھر سے بلوچستان جا رہی تھی اور اس میں اسلحہ بھی لدا ہوا تھا، اس کوگرانے کے لیے ہیموں کالانی اور اس کے ساتھیوں نے ایک منصوبہ بنایا، جس کا مقصد برطانوی استعمارکے خلاف جدوجہد کو تیزکرنا اور ہندوستان کو انگریز سامراج سے آزادی دلانا تھا۔ آنکھوں میں آزادی کا خواب سجائے ہیموں کالانی اور اس کے نوجوان ساتھی سکھر اور روہڑی کے درمیان ریل کی پٹڑیاں اکھاڑنے کے لیے چل دیے۔ ہیموں کالانی اور ان کے ساتھی جب ریل گاڑی کوگرانے کے ارادے سے پٹڑیاں اکھاڑ رہے تھے تو اچانک ڈیوٹی پر مامور ایک سپاہی کی ان پر نظر پڑگئی اور اس نے ان کو پکڑنے کے لیے شور مچایا۔

ان کی آواز سن کر بہت سارے اہلکار وہاں پہنچے اور ہیموں کالانی کو پکڑلیا جب کہ ان کے بقیہ ساتھی موقعے سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس نے ہیموں کالانی سے ان کے مفرور ساتھیوں کے نام اگلوانے کے لیے بدترین تشدد کیا، تاہم اسے کامیابی نصیب نہ ہوئی اور ہیموں کا ایک ہی بیان تھا کہ وہ اکیلے ہی پٹڑیاں اکھاڑ رہے تھے۔ ہیموں کالانی 23 مارچ 1923کو سکھر میں پیسو مل کالانی کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ کا نام جیٹھی بائی تھا۔

وہ چھوٹی عمر میں ہی ’’ غیرملکی اشیاء کا بائیکاٹ کرو تحریک‘‘ میں شامل تھا، جب کہ ’’ ہندوستان چھوڑ دو تحریک‘‘ کا بھی حصہ بنے۔ اسے آزادی سے جنون کی حد تک پیار تھا اور وہ غلامی سے شدید نفرت کرتا تھا۔ہیموں کالانی کا مقدمہ اسپیشل ٹریبونل میں چلا۔ ان کے دفاع کے لیے وکلاء کے پینل میں عبدالحفیظ پیرزادہ کے والد سابق وزیراعلیٰ سندھ عبدالستار پیرزادہ، نند رام وادھوانی اور سادھو رام کالانی سمیت چار وکلاء شامل تھے۔

ہیموں کالانی پر جیل کے اندر سختیاں روز بروز بڑھتی چلی گئیں۔ اسے ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہناکر عدالت میں پیش کیا گیا مگر یہ نوجوان بالکل بھی نہ گھبرایا۔ وکلا نے اسے سمجھایا کہ عدالت میں اقرار جرم ہرگز نہیں کرنا اور ہرالزام سے انکار کردینا۔ معروف دانشور ’’جیٹھو لالوانی‘‘ لکھتے ہیں کہ ہیموں کالانی نے عدالت میں کہا کہ ’’ اسے اس کے کیے پرکوئی پچھتاوا نہیں۔‘‘

اگر اسے موقع ملا یا دوسرا جنم ملا تو بھی وہ یہی کام کریں گے جو اس نے کیا ہے۔ وکلاء صفائی نے عدالت سے گزارش کی کہ ہیموں نوعمر ہے، اس لیے اس کی غلطی کو نظراندازکرکے اسے معاف کیا جائے۔ وکلاء نے اسے بیگناہ ثابت کرنے کے بجائے اس کی نوعمری پر دلائل دیے،کیونکہ اس وقت کے برطانوی قانون میں نو عمر لوگوں پر اگر جرم ثابت بھی ہوجائے تب بھی ان سے سزا میں نرمی برتی جاتی تھی مگر ہیموں کالانی کو اس کے باوجود دس برس قید کی سزا سنادی گئی۔

اسپیشل ٹریبونل نے مقدمات کے کاغذات حیدرآباد میں واقع فوجی ہیڈکوارٹرز کو بھیج دیے۔ جہاں مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر میجر جنرل رچرڈسن نے ان کی سزا کو تبدیل کرتے ہوئے پھانسی دینے کا حکم صادر کیا۔ پیر علی محمد راشدی نے اپنی کتاب ’’ اھی ڈینھن اھی شینھن‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’ہیموں کالانی کے والدین اور اس کے رشتہ داروں نے رحم کی متعدد اپیلیں کیں مگر ان اپیلوں کو اس بات سے مشروط کیا گیا کہ ہیموں کالانی اگر اپنے ساتھیوں کے نام بتا دے تو اس کی سزا میں نرمی کی جا سکتی ہے۔‘‘

ہیموں کے والدین نے جیل میں ملاقات کر کے ہیموں کالانی کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ ان ساتھیوں کے نام بتا دے جو پٹڑیاں اکھاڑنے کے وقت ان کے ساتھ تھے مگر ہیموں نے صاف انکارکردیا اور اپنی بات پر اٹل رہا۔ جس کے بعد ان کی رحم کی اپیل ملکہ برطانیہ کی پرائیوی کائونسل کو بھجوادی گئی، جہاں سے بھی ان کی اپیل مسترد کردی گئی اور ان کی سزائے موت کو برقرار رکھا گیا۔ جب ہیموں کالانی کو بتادیا کہ اب ان کی پھانسی طے ہوچکی ہے تو اس نے مسکرادیا اور کہا کہ اسے اس کے انجام کی کوئی پرواہ نہیں،کیونکہ وہ ایک بڑے مقصد کے لیے اپنی جان قربان کرنے جا رہا ہے۔ 

ہیموں کالانی کے بھائی ٹیک چند بتاتے ہیں کہ اسے 20جنوری کو ٹیلی گرام کے ذریعے اطلاع دی گئی کہ کل 21 جنوری 1943 کو ہیموں کالانی کو علی الصبح پھانسی دی جائے گی۔ ان کے مطابق آخری ملاقات میں ہیموں کالانی نے رشتے داروں سے کہا کہ ’’ آپ مت روئیں بلکہ مجھے آشیرواد دیں کہ جلد دوسرا جنم لے کر آزادی کا ادھورا کام مکمل کروں۔‘‘ جب پھانسی کے روز ہیموں سے آخری خواہش معلوم کی گئی تو اس نے کہا کہ وہ نعرے لگاتے ہوئے پھانسی کے پھندے تک جانا چاہتا ہے اور ان کے نعروں کے جواب جیل کا عملہ دے۔

اس کی اس آخری خواہش پر ایک حد تک عمل بھی کیا گیا کہ جب اسے تختہ دار کی جانب لے جایا جا رہا تھا تو وہ ’’ برطانوی سامراج مردہ آباد، انقلاب اور آزادی زندہ آباد‘‘ کے نعرے لگا رہا تھا، جب کہ ہیموں کی لاش وصول کرنے کے لیے ایک ہزار روپے جرمانے کی رقم کی ادائیگی کا تقاضا کیا جا رہا تھا اور یہ رقم ہیموں کالانی کے ورثاء کے پاس نہ تھی۔ تاہم شہرکے ایک معزز شخص نے ایک ہزار روپے ادا کر کے اس آزادی کے متوالے کی لاش ان کے ورثاء کو دلائی۔

 1983 میں بھارت سرکار نے ہیموں کالانی اور بھگت سنگھ کے یادگاری ٹکٹ جاری کیے تو دہلی میں منعقد ہونے والی تقریب میں ہیموں کالانی کی والدہ ’’ جیٹھی بائی‘‘ اور بھگت سنگھ کی والدہ ’’ ودیاوتی‘‘ کو بھی مدعو کیا۔ جب دو عظیم شہداء کی مائوں کا آمنا سامنا ہوا اور دونوں نے ایک دوسرے کو گلے سے لگایا تو بھگت سنگھ کی والدہ نے ہیموں کالانی کی ماں سے کہا کہ ’’ میرا بھگت تو پھر بھی عمر میں بڑا تھا مگر تیرا ہیموں تو اس سے بہت چھوٹا تھا اس لیے میں مانتی ہوں کہ تیرا ہیموں میرے بھگت سے زیادہ عظیم ہے کہ اس نے اپنی جوانی وطن پر قربان کی۔

ان دونوں مائوں کی یہ تصویر ’’سندھ ماتا اور پنجاب ماتا‘‘ کے نام سے اخبارات میں شایع ہوئی۔ آج ہیموں کالانی سندھ کے ادب میں موجود ہیں اور شعراء آج بھی ان کی بہادری اور مردانگی کے قصے گاتے ہیں، تاہم سکھرکا کوئی تعلیمی ادارہ، گلی، محلہ یا ریلوے اسٹیشن ان کے نام سے موسوم نہیں۔ ہر سال سندھ کے نوجوان اور ادیب مل کر شہید ہیموں کالانی کا یوم شہادت مناتے ہیں، جب کہ اس کے برعکس بھارتی پارلیمینٹ کے سامنے ’’ ہیموں کالانی اور بھگت سنگھ کے مجسمے‘‘ کھڑے کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ اجمیر شریف، پونا اور ممبئی میں محلے اور تعلیمی ادارے بھی ان کے نام سے موسوم ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ چونکہ بھگت سنگھ اور ہیموں کالانی دونوں شہداء کا تعلق پاکستان سے ہے تو ان کو آزادی کا ہیروکا خطاب دے کر اعلیٰ ترین مقام دینا چاہیے۔
 

مقبول خبریں