ڈاکٹر سعید اقبال سعدیؔ … پُراسرارکیفیتوں کا شاعر

ڈاکٹر سعید اقبال سعدی کا شمار عہدِ موجود کے اہم ترین شعراء میں ہوتا ہے


صدام ساگر January 25, 2026

ڈاکٹر سعید اقبال سعدی کا شمار عہدِ موجود کے اہم ترین شعراء میں ہوتا ہے۔ ان کی باکمال شاعری موجودہ عہد کی نمایندہ ہے۔ ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی ان کے کلام کی تازگی ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ ان کا کلام پہلی ہی نظر میں متاثرکرتا ہے لیکن اس کا اسرارکھلتا نہیں کہ وہ کون سی شے ہے جو دل پہ اثرکرتی ہوئی روح میں اترتی جا رہی ہے۔

اسی لیے ان کے کلام میں سریت اور پراسرارکیفیت کا احساس موجود ہوتا ہے۔ یہی احساس انھیں طرزِ زندگی کو ڈھنگ سے گزارنے اور دوسروں کے کام آنے کا درس دیتا ہے،کیونکہ وہ ایک صاف گو آدمی ہیں اور جتنا دیکھنے میں سادہ دکھائی دیتے ہیں اُتنا ہی اندر سے سادہ نظر آتے ہیں۔ اُنہیں گرمیوں کی ٹھنڈی چھائوں تلے بیٹھنا اچھا لگتا ہے تبھی تو وہ کہتے ہیں کہ:

زمانے کی تپش کا ڈر نہیں ہے
مرے سر پہ مری ماں کی دُعا ہے

یہ شعر ان کا اپنی ماں سے محبت کا اولین اظہار ہے۔ وہ اس لیے کہ ان کی پیدائش گوجرانوالہ کے ایک زمیندارگھرانے میں 22 نومبر 1955 میں ہوئی۔ ان کے والدِ گرامی محکمہ مال میں نائب تحصیلدار تھے، مگر ان کی بد قسمتی یہ تھی کہ ان کی پیدائش کے تین سال بعد ان کے والد وفات پا گئے جس کے باعث ان کی پرورش کا ذمہ ان کی والدہ کو اُٹھانا پڑا۔ ایک انٹرویو میں ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ ’’خدا کا شکر ہے کہ ہماری خاندانی زمین اتنی تھی کہ اس سے ہم لوگوں کا بآسانی گزارہ ہو جاتا تھا اور ہمیں کوئی مالی دشواری پیش نہیں آئی۔

میں نے اپنی ابتدائی تعلیم شیخوپورہ سے حاصل کی، جہاں تعلیم کے ابتدائی ایام میں ہی مجھے شعر و شاعری اور لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں تب ساتویں کلاس میں پڑھتا تھا جب میں نے اپنی لکھی ہوئی تحریروں کو بزم ادب کے پیریڈ میں سنانا شروع کیا۔ میرے کلاس ٹیچرز نے میری تحریروں کو بہت سراہا اور یوں ابتداء ہی میں میری حوصلہ افزائی ہوئی اور میں نے ان کے کہنے پر اپنی تخلیقات اُس وقت کے معروف اخبارات کوہستان، امروز، نوائے وقت، مشرق ، بچوں کی دنیا کو بھیجیں تو وہ وقتا فوقتا بچوں کے صفحات پر چھپنے لگیں۔ مجھے بچپن سے ہی مطالعہ کا بہت شوق تھا اور میں نے بچپن میں ہی بے شمار شعراء کا کلام پڑھنے کے علاوہ بہت سے ناول اور افسانے بھی پڑھ لیے تھے، ساتھ ہی ساتھ میں نے ادب کے مختلف پہلوئوں سے آگاہی حاصل کرنا شروع کردی تھی جس سے مجھے ذہنی طور پر بہت کشادگی ملی اور خوش قسمتی سے مجھے دوستوں کا حلقہ بھی ایسا میسر آیا کہ میرا شاعری کا شوق بڑھتا رہا۔

کالج کے زمانے میں میری شاعری کالجوں سے نکلنے والے میگزینوں میں نمایاں طور پر چھپتی تھی۔‘‘ ڈاکٹر صاحب نے علامہ اقبال میڈیکل کالج میں داخلہ لیا تو انھیں اس کالج کے میگزین ’’شاہین‘‘ کا اسسٹنٹ ایڈیٹر منتخب کردیا گیا، یوں اس طرح سے انھیں اس میگزین کا پہلا اسسٹنٹ ایڈیٹر ہونے کا اعزاز حاصل ہُوا۔ اس دوران انھوں نے بے شمار میڈیکل کے Topic پر مضامین لکھے جو بعد ازاں دیگر اخبارات وجرائد میں بھی شائع ہوئے۔ اس کے علاوہ انھوں نے افسانے بھی لکھے جو ایف ایس سی اور ایم بی بی ایس کے دور میں کالج میگزینوں میں شائع ہوئے مگر ان کا زیادہ تر رجحان شاعری کی طرف رہا۔

اس لیے انھیں لوگ بحیثیت شاعر زیادہ جانتے ہیں۔ ان کی شاعری کی اب تک سات کتب شائع ہوچکی ہیں جن میں لغزشِ پا، تہی دامن، ایک شعرکی تلاش میں، آزاد غزل،گلاب اور طرح کے،کشمکش اور ’’ اگر تم لوٹنا چاہو‘‘ شامل ہیں جب کہ نثرکی کتب میں تین کتابچے اور میڈیکل کے درجنوں مضامین شامل ہیں۔ ان کی نثری تحریروں کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ درجنوں ایڈیشن چھپ کر نوجوانوں کی رہنمائی میں ایک اہم کردار ادا کرچکے ہیں اور یہی عالم ان کے شعری مجموعوں کا ہے، جنھیں مارکیٹ سے ڈھونڈ نا ممکن ہوگا۔

میرے پاس ان کے تین عدد شعری مجموعے موجود ہیں۔ جن کے مطالعے کے دوران میں یہ محسوس کیا ہے کہ انھوں نے اپنی شاعری میں اپنے اسلوب سادہ، سیلیس اور عام فہم ہونے کے باوصف دلوں کو موہ لینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ان دونوں کتب پر اپنی رائے کا اظہارکرتے ہوئے ڈاکٹر فرمان فتح پوری لکھتے ہیں کہ ’’ ایک شعر کی تلاش میں‘‘ اور ’’ کشمکش‘‘ ڈاکٹر سعدی کے دیوان نوبہار ہیں میں کبھی ان سے مختصر بحر میں مختصر غزلوں کا لطف لیتا ہوں اور کبھی ’’سائیں‘‘ جیسی ردیف کثیرالمعانی بحروں سے مزا لیتا ہوں، کبھی تسلسل معنی کو مثنوی جان کر محذوز ہوتا ہوں اورکبھی ’’ کشمکش‘‘ کی ردیف الف کا قصیدہ مشغلہ سمجھ کر دل خوش کرتا ہوں اور ڈاکٹر سعدی کی مسلسل محنت پر حیران ہوتا ہوں۔‘‘ ’’ایک شعر کی تلاش میں‘‘ ڈاکٹر سعدی صاحب جب اپنے ابتدائی ایام کے دوران کن کن لوگوں سے سیکھتے اور اس کی اصلاح لیتے ہوئے اس مقام تک پہنچے۔

ویسے تو انسان ساری زندگی سیکھنے کے عمل سے گزرتا رہتا ہے مگر انسان جب اپنی زندگی کا آغازکرتا ہے تو ا س دوران وہ بہت سے لوگوں سے متاثر ہوتا ہے، ایسے ہی ڈاکٹر صاحب بھی اپنے ابتدائی ایام میں جب فرسٹ ائیر میں تھے تو اس دوران انھیں احمد عقیل روبی اور صدیق شاہد جیسے اساتذہ کی شخصیت نے انھیں اس قدر متاثرکیا کہ وہ ان سے رہنمائی لینے لگے،کیونکہ یہ دونوں شخصیات علم و ادب کی دنیا کے نامور ستون ہیں مگر آج بھی ان کے بچھڑ جانے کے بعد بھی ان کی کمی قدم قدم پر مخصوص ہوتی ہے۔ میں صدیق شاہد سے تو نہیں، البتہ احمد عقیل روبی کو اُن کی زندگی کے آخری ایام میں ضرور ملا اور یوں اس طرح سے مجھ خاکسارکو ان کی صحبت سے فیض یاب ہونے کا کم کم ہی موقع میسر آیا۔

بہرحال بات ہور رہی تھی ڈاکٹر سعدی صاحب کے حوالے سے تو ان قد آور شخصیت کے بعد انھیں ادبی محاذ پر آگے لے جانیوالی شخصیات میں حفیظ طاہر اور اسلم کولسری جیسے منفرد لب و لہجے کے کشادہ لوگ ملے جن سے انھیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر سعدی صاحب کو بعض لوگ ٹی وی ایکٹر کے طور پر بھی جانتے ہیں ۔ انھوں نے پاکستان ٹیلی وژن پر نشر ہونیوالے بہت سے ڈراموں میں اپنے فنی جوہر دکھائے ان ڈراموں میںحویلی، اج دی کہانی، اُڈاری، کشکول وغیرہ شامل ہیں۔ ان ڈراموں کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ آج بھی چند لوگ ان ڈراموں کو انٹرنیٹ کی دنیا پر بقول فیض احمد فیض کے ڈھونڈتے ہیں۔

ڈھونڈوگے ملکوں ملکوں ہمیں
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

ڈاکٹر صاحب جہاں محبت کا ذکرکرتے ہیں، وہیں وہ اپنے بعض اشعار میں غربت کے باعث بھوک کی ہوس بشر کو دوسرے بشرکا پیٹ کاٹنے پر دیکھتے ہیں تو بشر کی بھوک کا نوحہ اس طرح سے لکھتے ہیں کہ:

ہوس نے اس قدر بھوکا کیا ہے
بشر اپنا بدن کھانے لگا ہے
دلوں سے جو چراغِ انسیت تھا
ہوس کی آندھیوں سے بجھ رہا ہے
 

مقبول خبریں