آتشزدگی کے اسباب

گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے اورقیمتی جانوں کے ضیاع نے پورے ملک میں ایک افسوسناک صورتحال کو جنم دیا ہے


وارث رضا January 25, 2026

 سندھ کے صدر مقام کراچی کے گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے اور اس میں قیمتی جانوں کے ضیاع نے پورے ملک میں ایک افسوسناک صورتحال کو جنم دیا ہے۔ اس سانحے میں جہاں قیمتی جانیں گئیں، وہیں کروڑوں روپے کے کاروباری نقصان کا تخمینہ بھی لگایا جا رہا ہے جب کہ اس سانحے کے ضمن میں انتظامی کوتاہی اور حکومت کی غیر ذمے داری پر بھی مختلف قسم کے سیاسی اور سماجی تبصرے کیے جا رہے ہیں اور ایک دوسرے پر الزامات کی بھرمار ہے ، جس سے اس سانحے کی اہمیت کو انتہائی سفاکی کے ساتھ کم کیا جارہا ہے جب کہ دوسری جانب میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہر فرد اپنی خیال آرائی کر رہا ہے، جو کسی طور واقعہ یا سانحے کے اسباب جاننے کی جانب سنجیدہ کوشش نہیں ہے۔

گل پلازہ کی انتظامی کوتاہی اور سیاسی حکومت کی غفلت پر تبصروں سے ہٹ کر اس بات کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے کہ کراچی ایسے ترقی یافتہ شہر کی کیسے عالمی معاشی حیثیت کو بتدریج مختلف حکومتی پالیسیوں نے کم کیا اور ملک کے سب سے بڑے معاشی حب کو کیوں ٹریڈ یا صرف کاروبار کا شہر بنا دیا گیا؟ اقتداری سبب کے ضمن میں یہ بات تاریخ کی سچائی ہے کہ برطانوی سامراج نے جب متحدہ ہندوستان پر قبضہ کیا تو متحدہ ہندوستان کے تمام تر وسائل اور ذرائع پیداوار پر برطانوی سماج قابض تھا اور برطانوی سامراج کی حکومت کی مرضی و منشا سے ہی تجارتی اور کاروباری سرگرمی ہوا کرتی تھی،ؤ۔

پھر جیسے جیسے برطانوی سامراج کو متحدہ ہندوستان کی سماجی جدوجہد کے نتیجے میں اقتدار پر اپنی گرفت کمزور محسوس ہوئی تو برطانوی سامراج نے متحدہ ہندوستان میں اپنے تجارتی مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے متحدہ ہندوستان میں اپنے فرمانبردار تاجر چنے جن میں ٹاٹا، برلا، اصفہانی، حبیب اور کسی قدر گجراتی تاجر و صنعت کار دائود، رنگون والا اور سہگل تھے جن کو برطانوی راج نے وفاداری کے بدلے نوازشات اور مراعات دیں تاکہ وہ تقسیم ہند کے بعد بھی برطانوی مفادات کا خیال رکھتے ہوئے تجارت کریں یا صنعتیں قائم کریں۔

اسی دوران برطانوی سامراج نے سندھ کی تجارت کے اہم افراد پارسی اور ہندو تاجر کو کمزور کرنے کے لیے 1943میں بظاہر مسلم لیگ کو سندھ میں مضبوط کرنے کے لیے جی ایم سید کی سربراہی میں سکھر کی منزل گاہ سے ہندو مسلم کش فسادات کروائے، جس نے سندھ کی معیشت سنبھالے ہوئے ہندو سرمایہ کاروں پر منفی اثرات ڈالے، جس کے سبب جہاں سندھ کی مضبوط معیشت تباہ ہوئی وہیں تمام ہندو تاجر اپنا کثیر سرمایہ لے کر ہندوستان منتقل ہوگئے۔ کراچی میں بسنے والے پارسی سندھ کے سب سے بڑے شہر کراچی کے بہترین انتظام و انصرام قائم کرنیوالے تھے۔

 مگر جب اقتداری اشرافیہ نے ان پارسیوں کے منظم شہری نظام قائم کرنے کی قدر نہیں کی تو پارسی تاجر و سرمایہ دار بے بس ہو کر کراچی سندھ سے نقل مکانی کر گیا۔ تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ پاکستان بننے کی پہلی دہائی میں متحدہ ہندوستان کے انھی خاندانوں نے کراچی سندھ کی صنعت سازی میں اہم کردار ادا کیا، مگر اسی دوران جنرل ایوب کے اقتصادی وزیر محبوب الحق اور وزیر خزانہ شعیب کی منفی رپورٹ کی روشنی میں صنعتیں قائم کرنیوالے30  خاندانوں کو ٹیکس نادہندہ قرار دے کر ان کی صنعتی ترقی کی خدمات کو نظر انداز کیا جس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے ان خاندانوں کی تمام صنعتی دولت کو سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کرکے ملک میں صنعتوں کو قومیا لیا، جس کا براہ راست فائدہ اشرافیہ کے ان کاروباری حضرات کو ہوا جو صنعت کار تو کسی طور نہ تھے مگر اشرافیہ کے دست راز اور ان کے قومی بیانیے کے محافظ ضرور تھے۔

اشرافیہ کے ان کاروباری یا ٹریڈر کو حکومتی مراعات دے کر قرضے دیے گئے اور ان کاروباریوں کے حوالے پاکستان کی سب سے بڑی کراچی اسٹاک ایکسچینج کر دی گئی، جنھوں نے ہر وہ مراعات سمیٹی جن کے طفیل یہ ٹریڈر بعد کو سونے کے بیوپاری اور بینک کے مالک بنے اور یہی نہیں بلکہ یہی کاروباری کراچی کی تعمیراتی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کے لیے چینل سے لے کر بڑے بڑے بلڈر بنا دیے گئے، یاد رکھا جائے کہ مذہبی فکر اور سوچ کی بنا پر یہ کاروباری حضرات اشرافیہ کی خوشنودی کے لیے تنگ نظر گروہ بنائے گئے اور اس طرح پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی شہرکو نہایت سفاکی کے ساتھ اپنے من پسند کاروباریوں کی وساطت سے مذہبی اجتماعات، دھرنے اور مذہبی سیاسی جماعتوں کے چندے دینے کا ایسا مضبوط پلیٹ فارم بنا دیا گیا جہاں یہ کاروباری آمر جنرل ضیا کے جہادی فلسفے کے تحت مذہبی تسکین بھی لیتے رہے اور کراچی سندھ میں عمارت سازی کے کاروبار کا ہر اول دستہ بھی بنے ہوئے ہیں جن کو حکومت آج تک انتظامی لگام نہ ڈال سکی ہے۔

اسلام آباد وفاقی حکومت کا صدر مقام 1967 میں بنایا گیا، اس سے قبل کراچی سندھ میں نئی آبادیاں المعروف کے ڈی اے کے ماسٹر پلان کے تحت وجود میں لائی جاتی تھیں، جن کے قواعد و ضوابط ہوا کرتے تھے اور ماسٹر پلان کے تحت کسی کو بھی ایک مرلے سے زیادہ تعمیرات کی اجازت نہیں ہوا کرتی تھی، یہی کچھ وفاق کے لیے مختص علاقے فیڈرل بی ایریا میں ہوا، جب فیڈرل بی ایریا کو آبادی کے لیے مختص کیا تو کے ڈی اے نے باقاعدہ ضوابط کے تحت اس رہائشی علاقے میں ایک مرلے سے زیادہ تعمیرات کو خلاف قانون بنایا اور اسی حوالے سے وہاں کے مکینوں کی سیوریج اور پانی کا باضابطہ ایک نظام بنایا، آج بھی کریم آباد سے لے کر سہراب گوٹھ تک ایسی باضابطہ عمارتیں ملیں گی، جو اب ان کاروباری بلڈرز کے نرغے میں بلند و بلا عمارتوں کا کمائو جنگل ہیں۔

جہاں نہ ماحولیات کا محکمہ، نہ ہی سندھ بلڈنگ کنٹرول کا محکمہ باضابطہ قوانین لاگو کر سکتا ہے، کیونکہ بیشتر بلڈرز اشرافیہ کے وہ نمک خوار ہیں جن کا سہارا لیتے ہوئے مذکورہ محکمے مکمل بد عنوانی کرتے ہوئے ’’سسٹم‘‘ کی اصطلاح کے تحت چلائے جا رہے ہیں۔ اس مقام پر بدعنوانی یا رشوت ستانی کی نفسیات کا جب ہم جائزہ لیں گے تو یہ بات بلا تردد کہی جا سکتی ہے کہ سیاسی جماعتوں، حکومت اور انتظامی اداروں کو بدعنوان کرنے میں ہمارے سیاسی شعور سے نابلد عوام کا مکمل ساتھ ہے، ہمارے عوام اپنے خواہش اور لاقانونیت کے لیے ادارے کے کرتا دھرتائوں کو رشوت کا لالچ دے کر پورے نظام کو تہہ بالا کرتے ہیں، لٰہذا عوام قطعی طور سے بد عنوانی کروانے سے خود کولا تعلق نہیں کر سکتے۔

مذکورہ حقائق میں جنرل ایوب کے آمرانہ دور کا یہ واقعہ بھی نظر میں رکھیے کہ کراچی کی تجارت اور ترقی کرتی ہوئی معیشت یا مارکیٹ سے خریداری کرنے کے رجحان میں خوف پیدا کرنے کا پہلا وار آمر جنرل ایوب کے کے حواریوں نے لالوکھیت کی ’’ کوثر مارکیٹ‘‘ جلا کر کیا اور اپنے سب سے بڑے مخالف این ایس ایف کے طالبعلم رہنما علی مختار رضوی کو لاہور کے شاہی قلعے میں تشدد کا نشانہ بنایا اور اس طرح کراچی کی تاریخ میں پہلی مارکیٹ جلانے کی ابتدا جنرل ایوب کے دور میں ہوئی۔
 

مقبول خبریں