قانون قدرت ہے جب کوئی شے معرض وجود میں آتی ہے تو ابتدائی طور پر ضعف و ناتوانی اس کا خاصہ ہوتی ہے، لیکن ہر لحظہ پیش رفت کرتا وقت گزرتے لمحات کے ساتھ ہر آن چیزوں کو مضبوطی بخشتا ہے، یہاں تک کہ وہ ماحول کی درشتی اور اتار چڑھاؤ سے نمٹنے کے لیے قوت برداشت پا لیتی ہیں۔ پیڑکا نرم ہوا کے لطیف دباؤ سے جھک کر ٹوٹ جانے والا تنا وقت کے ساتھ تیز و تند طوفان کے تھپیڑوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونے کی مضبوطی پا لیتا ہے۔
پروں کو بمشکل کھولنے کی سکت رکھنے والے پرندے بلند سے بلند ترین پروازوں کے اہل ہوجاتے ہیں۔ والدین کے انحصار پر زندہ رہنے والے بچے پہاڑوں کو سرکرنے، زمین کھوجنے اور آسمان چھونے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ گارے مٹی، سیمنٹ بجری سے بنی عمارتیں بھی تعمیری مراحل سے گزرکر موسموں کی تندی سے بے نیاز ہوجاتی ہیں۔ دنیا اس وقت افراتفری اور بے سکونی کا شکار ہے، گو کہ مسلم دنیا تو دہائیوں سے ظلم اور ناانصافیوں کا شکار ہے جس کی دلخراش مثالیں فلسطین اورکشمیر ہیں، لیکن اب قانونی بے اعتدالی کا دائرہ کار غیر مسلم دنیا تک بڑھ چکا ہے۔
عالمی منظر نامے سے نگاہ ہٹا کر وطن عزیز پر غورکیا جائے تو یہاں بھی امن و امان کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔ اندرونی معاملات ہوں یا سرحدی صورتحال، معمول کے حالات گویا قصہ پارینہ ہوئے۔ سرحدوں پر پاک افواج بیرونی حملے سے نمٹنے کے لیے ہر دم کمر بستہ ہیں،گھمبیر مسائل ملک کے اندر ہیں، جن کے حل کی امید لیے بچے جوان ہوگئے اور جوان بڑھاپے کو پہنچ گئے، لیکن مسائل جوں کے توں رہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کے قیام کے بعد اسے بیک وقت کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جن میں سرفہرست بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح جیسے عظیم، مخلص اور زیرک رہنما سے محرومی تھی۔
بقا کی جنگ کے مرکزی محاذ بھارتی ریشہ دوانیاں، سفارتی مشکلات، ناکافی وسائل اور اندرونی عناصر تھے۔ وقت اپنی مخصوص رفتار سے بہتا رہا، بہتری کی امیدیں پیدا ہونے لگیں کہ خارجی معاملات سدھرنے لگے تھے۔ دنیا کے نقشے پر نہ صرف بحیثیت ملک ابھرے بلکہ کئی میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا بھی منوایا۔ ملک کے اندر ادارے قائم ہوئے، نظام و نسق منظم ہوا اور انفرا اسٹرکچر کو بہ نسبت ماضی، جدت بخشی گئی، لیکن ان سب کے دوران خاموشی سے رونما ہونے والا سانحہ یہ تھا کہ روشن مستقبل کے خواب دیکھنے والی عوام مایوس ہوتے گئے۔ بھارت سے آنے والی پہلی نسل نے حب الوطنی کے تقاضوں پر پورا اترتے حوصلے بلند رکھے اور دیس کے کڑے وقت میں حرف شکایت لبوں پہ نہ آنے دیا۔
دوسری، تیسری نسل دلجمعی سے تعمیر و ترقی کے لیے کوشاں رہی لیکن عام آدمی کے طرز زندگی میں خاطر خواہ بہتری نہ آ سکی۔ المختصر اسلامی جمہوریہ پاکستان تشکیل کے مراحل سے نکل کر استحکام کی راہ پرگامزن نہ ہو سکا۔ ستم بالائے ستم کہ ایک تہائی صدی گزارنے کے بعد بھی اپنی غلطیوں کے ازالے کے لیے کام کرنا تو درکنار ہم اپنی ناکامیوں کے اسباب بھی نہ ڈھونڈ سکے۔ گزشتہ نسلوں کی ناکامیوں کا اثر ان کی اپنی زندگیوں سے زیادہ موجودہ نسل پر دکھائی دے رہا ہے۔
پہلے لوگوں نے اچھا وقت دیکھنے کی امید پر کام کیا لیکن آج کے بچوں کے پاس اس امید کا فقدان ہے،کیونکہ 78 سال پہلے کے مسائل کی آج بھی موجودگی یہ کہتی ہیں کہ یہاں کچھ بدلنے والا نہیں۔ نتیجتاً نوجوانوں پر مایوسی کا غلبہ ہے جب کہ مایوسی اس وقت ان تمام دشمنوں کے وار سے بڑھ کر مہلک ثابت ہو سکتی ہیں جو اول روز سے اس پاک سرزمین کا نام ونشان مٹانا چاہتے ہیں۔ مایوسی یا فرار مستقل حل نہیں۔ دنیا میں اس وقت جس قدر بے یقینی کی صورتحال ہے اور منظر نامے جس تیزی سے بدل رہے ہیں، عین ممکن ہے اپنا ملک چھوڑ کر آپ جہاں جائیں وہ سراب کے سوا کچھ نہ ہو۔
کیا پرائی زمین پر آشیانے سجانے سے بہتر اپنے وطن میں قدم جمانا نہیں؟ وقت گزرنے کے ساتھ جڑیں مضبوط ہونے والے اصول فطرت کے برعکس عمل وقوع پذیر ہونا نظام میں اصول قدرت کی خلاف ورزی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ہمت ہارنے کے بجائے یہ وقت اپنے نظام میں قواعد و ضوابط کی روگردانیوں کی نشاندہی کرتے درست سمت میں توانائیاں صرف کرنے کا ہے۔ یقیناً یہ راہ طویل اور کٹھن ہوگی لیکن جو سرزمین ہمیں ہمارے آباؤ اجداد کی زندگیوں کے عوض ملی، اسے مستحکم کرنے کے لیے ہمیں مشکلوں سے گزرنے کا عزم و حوصلہ رکھنا چاہیے۔
اس ضمن میں قائد اعظم کے فرمودات آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی پہلی سالگرہ کے موقع پر نوجوانوں کو ان کی ذمے داریوں کا احساس دلاتے ہوئے کہا ’’ آپ کی ریاست کی بنیادیں مضبوطی سے رکھ دی گئی ہیں۔ اب یہ آپ کا کام ہے کہ نہ صرف اِس کی تعمیر کریں بلکہ جلد از جلد اور عمدہ سے عمدہ تعمیر کریں۔ سو آگے بڑھیے اور بڑھتے ہی جائیں۔‘
‘اسی طرح 26 مارچ 1948 کو ڈھاکہ یونیورسٹی میں خطاب کے دوران نوجوانانِ پاکستان سے اپنی توقعات کا اظہارکیا۔ ’’ میرے نوجوانوں ! میں تمہاری طرف اس توقع سے دیکھتا ہوں کہ تم اس ملک کے حقیقی پاسبان اور معمار ہو۔‘‘ اس قابل تعظیم راہ کی کٹھنائیوں سے آگاہ کرتے ہوئے مزید کہا۔ ’’ آزادی حاصل کرنے کے لیے جنگجویانہ جذبات اور جوش و خروش کا مظاہرہ آسان ہے اور ملک و ملت کی تعمیر کہیں زیادہ مشکل۔‘‘ لٰہذا بالادست طبقے کو قائد اعظم کے یہ الفاظ ذہن نشین کرنے کی ازحد ضرورت ہے۔’’ آزادی کا مطلب بے لگام ہوجانا نہیں ہے۔ آزادی کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ دوسرے لوگوں اور مملکت کے مفادات کو نظر انداز کر کے آپ جو چاہیں کر گزریں۔ آپ پر بہت بڑی ذمے داری عائد ہوتی ہے اور پہلے سے زیادہ۔‘‘
عوام پاکستان کو چاہیے اپنی غلطیاں سدھاریں اورکسی کو خود کے ساتھ غلط مت کرنے دیں۔ مشکلوں سے گزرنے کے لیے تیار رہیں مگر جو حقدار نہیں، انھیں اپنے حصے کی آسانیوں پر قابض مت ہونے دیں۔ بیرونی عناصر کے ساتھ ساتھ اگر ہمارے ملک کی بدحالی میں کردار ہم وطن نما دشمنوں کا ہے تو ان سے بھی بیرونی دشمنوں کی طرح نمٹیں لیکن اس مقدس سرزمین کو گدھوں کے حوالے نہ کریں۔ بقول کلیم عثمانی ؎
یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
یہ وطن تمہارا ہے …