سلطان نوح بن منصورکے بھتیجے کے بارے میں ایک مفصل مضمون پڑھا،احساس ہوا کہ یہ کوئی تصوراتی کہانی ہے لیکن مضمون کے آخر میں اس بات کا ذکر تفصیل سے تھا کہ یہ سچا واقعہ ہے۔ اس میں شہزادے کو کسی قسم کی بیماری بھی نہ لاحق تھی لیکن وہ خاموش رہنے لگے ان کا دل دنیا سے اچاٹ ہوتا گیا، ہر طرح کا علاج معالجہ، جھاڑ پھونک بھی کارگر نہ رہی، بالآخر ایک نامی گرامی حکیم کو بلایا گیا جنھوں نے شہزادے کی نبض پکڑ کر مختلف شہروں، قصبوں کے نام گنوائے، اس کام کے لیے انھوں نے ایک ایسے تاجر کو منتخب کیا تھا جو شہر شہر ،گاؤں گاؤں اپنا سامان فروخت کرتا تھا، لہٰذا اسے سب ازبر تھا۔ ایک جگہ حکیم صاحب رک گئے اور فرمایا ’’ کسی ایسے شخص کو بلایا جائے جو اس قصبے کی تمام سڑکوں، شاہراہوں، گلیوں سے واقف ہو۔
لہٰذا اس قصبے کا چپہ چپہ جاننے والے کو بلایا گیا، اس نے اس مخصوص قصبے جہاں حکیم صاحب رکے تھے۔ بہرحال وہ صاحب اپنے قصبے کی جگہوں کے نام لیتے گئے، طریقہ علاج ایسا تھا کہ بادشاہ صاحب جو پہلے جھنجھلائے ہوئے تھے، اس دلچسپ انداز پر متوجہ ہوئے۔
حکیم صاحب پھر ایک جگہ رکے اور فرمایا، اب اس گلی کے ایسے شخص کو بلائیے جو یہاں کے لوگوں سے واقف ہو۔ چنانچہ ایسا کیا گیا وہ صاحب تمام بچوں، بوڑھوں، جوان، مرد و عورت، لڑکے لڑکیاں نام لیتے گئے، ایک جگہ حکیم صاحب رک گئے، ان کی توجہ نبض پر تھی، کہا دوبارہ اس لڑکی کا نام لو، شخص نے دوبارہ اس لڑکی کا نام لیا۔ حکیم صاحب نے نبض چھوڑ دی۔
بادشاہ کو الگ سے بلایا اورکہا کہ جناب ان کا علاج ہوگیا، دوا تشخیص ہوگئی، دراصل شہزادے اس لڑکی کے عشق میں مبتلا ہیں۔ آپ کی محبت اور خوف کے سبب آپ سے کہہ نہ سکے اور اپنی جان پر جھیلتے رہے، اس لڑکی کی شادی ان صاحب سے کردیں، لہٰذا ایسا ہی کیا گیا، شہزادے کی شادی ہوگئی اور وہ بھلے چنگے ہوگئے۔بادشاہ نے ان حکیم صاحب کو جانے نہ دیا اور اپنا خصوصی مشیر بنا لیا۔
اس واقعے کو پڑھ کر اندازہ ہوا کہ شاید اس میں عشق کی کرامات کا مظاہرہ نظر آتا ہے لیکن آگے دلچسپ بات نفسیات کی نظر آئی۔ بات آج کل کے دور کے مطابق آسان ہے۔ ظاہر ہے شہزادے صاحب ڈپریشن میں چلے گئے تھے اور اس وقت ڈپریشن، نفسیات کو کون جانتا تھا۔ تمام قصبات، شہر اور محلوں کے نام لیتے شہزادے کی محبوبہ صاحبہ کے محلے پر ان کی نبض تیز چلنے لگی تھی۔
لہٰذا حکیم صاحب نے جانچ لیا کہ اسی علاقے سے کوئی بات جڑی ہے، پھر اس علاقے یا محلے کے لوگوں کے نام لینے پر لڑکی کے نام پر ان کی نبض پھر تیز ہوئی، اب ظاہر ہے کہ حکیم صاحب کو فوری پتا چل گیا کہ صاحبزادے کے دل کی دھڑکن جس کا تعلق نبض سے ہے تیز ہوگئی تو یہ دل کا معاملہ ہے۔
آج کل کے دور کے حوالے سے جب ارد گرد کے ماحول میں لوگ اپنے پیاروں کی نفسیاتی الجھنوں، پریشانیوں کو نہیں پہچان سکتے، الٹا مکر، فریب، جھوٹ، اداکاری اور نہ جانے کن کن الزامات کے حصار میں مریض کو کرکے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں، یہ جانے بغیرکہ وہ شخص کن دشواریوں کا شکار ہے۔ یہ حکیم صاحب جن کا نام حسین ابن عبداللہ ابن سینا تھے۔ جن کے نام سے کون واقف نہیں۔ ان کے طریقہ علاج، تحقیقات اور مقالے آج بھی طب کے میدان میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
ابن سینا کی مشہور کتاب ’’ القانون فی الطب‘‘ کے بارے میں ڈاکٹر ولیم اوسلر نے کہا تھا۔ ’’ القانون کسی بھی دوسری کتاب کے مقابلے میں زیادہ عرصے تک طب کی بائبل کے طور پر زندہ رہی۔‘‘
ابن سینا نے ہی پہلی بار انسانی نفسیات کو جانچا اور اسے طریقہ علاج میں شامل کیا۔ جیسے اوپر دیے واقعے میں انھوں نے انسانی نفسیات کو بھی پرکھا۔ یہ درست ہے کہ جب انسان کا اندر صحت مند ہو تو باہر بھی انسان شادماں رہتا ہے لیکن جب اندرونی طور پر انسان گھٹن، مایوسی اور مسائل میں گھرا ہو تو سارے زمانے کی خوشیاں بھی اسے خوش نہیں کر سکتیں۔ابن سینا کے بارے میں ایک دلچسپ بات اور کہ انھوں نے بہ طور مشیر خاص بہت غور و فکر کے بعد ایک سرکلر جاری کیا تھا۔
’’کوئی فوجی افسر ٹیکس وصول نہیں کرے گا، یہ فوج کا کام نہیں ہے۔‘‘
اس سرکلر پر فوجی ناراض ہو گئے۔ سلطان پر دباؤ ڈالا گیا اور ابن سینا کے محل پر قبضہ کر لیا گیا۔ دباؤ اتنا بڑھ گیا تھا کہ مطالبہ تھا کہ ابن سینا کو پھانسی دی جائے۔ بہرحال انھیں پھانسی تو نہ دی گئی لیکن جیل میں ڈال دیا گیا۔ یہ مجبوری کا قدم ابن سینا کے مضبوط عزائم پر اثرانداز تو ہوا پر وہ ٹوٹے نہیں، سرکلر واپس لینا پڑا۔
کتاب ’’ القانون فی الطب ‘‘ اسی دوران لکھی گئی، شاید قدرت کی جانب سے یہ ان کے لیے وہ ریسٹ ٹائم تھا جب وہ یہ عظیم کتاب تحریر کرسکتے اور انھوں نے یہ کام سر انجام دیا، انھیں ایک کاتب بھی فراہم کیا گیا تھا۔ وہ ہر روز پچاس صفحات املا کرواتے تھے۔ اس کتاب میں صرف نبض شناسی پر ہی ایک سو تین (103) صفحات شامل تھے۔عظیم شخصیات کسی تعاون کی محتاج نہیں ہوتیں، اسی طرح ان کے معاوضے بھی عجیب و غریب ہوتے ہیں۔ مثلاً سلطان بن منصور سامانی کا علاج انھوں نے کیا اور شفایابی کے بعد معاوضے کے طور پر زر و جواہرات کو انکار کر کے مانگا تو صرف ان کے کتب خانے سے استفادہ کی اجازت۔
یہ عظیم لوگ جو انسانیت کی خدمات انجام دیتے، یہ نہیں سوچتے کہ انھیں اس کے عوض کیا مل رہا ہے۔انسان ایک عظیم تخلیق ہے، اس کی خدمت ایک عبادت ہے اور جو لوگ اس کام کو سمجھ کر پوری دیانت داری سے کرتے ہیں، ان کا مقام کیا ہے؟ کیا ہم اس کا تعین کر سکتے ہیں۔ آج ابن سینا کو گزرے صدیاں گزرگئی ہیں اور اس عظیم حکیم کی شان اور خدمات کو پیش کرتے فرحت محسوس ہو رہی ہے۔ کیا اس طرح کے لوگ بھی ہوتے ہیں یقینا ہوتے تھے اور ہیں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم ایسے انسانیت کی خدمت کرنے والوں کی قدرکریں، ان کو روندنے کی کوشش نہ کریں،کیونکہ تاریخ سب کچھ محفوظ رکھنے میں تاخیر نہیں کرتی۔